کالم    ( صفحہ نمبر 13 )

انڈیا کے نیوکلیئر سائنسدان کی پُراسرار موت اور تھوریم/ثقلین امام

ہومی جہانگیر بھابھا (30 اکتوبر، 1909 – 24 جنوری، 1966) نہ صرف انڈیا کے جوہری پروگرام کے معمار تھے بلکہ ان کا وژن انڈیا کو توانائی کے میدان میں خود کفیل اور خودمختار بنانے پر مرکوز تھا۔ انھیں آج بھی←  مزید پڑھیے

اروِند کجریوال بمقابلہ عمران خان/نجم ولی خان

دہلی کی اسمبلی میں اروِند کجری وال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی شکست کی خبرواقعی ایک بریکنگ نیوز تھی جسے ہم نے روزنامہ’ نئی بات‘ میں لیڈ اور سپرلیڈ کے درمیان چارکالم نمایاں کر کے شائع کیا۔ ہم←  مزید پڑھیے

عام آدمی پارٹی کا زوال-ٹوٹ گئے خواب/ افتخار گیلانی

تہلکہ ڈاٹ کام کے سیاسی بیورو میں غالباً 2011 میں کام کرتے ہوئے ایک بارایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال نے اپنے دفتر بلاکر ایک شخص سے متعارف کراتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انکم ٹیکس محکمہ کے حوالے←  مزید پڑھیے

میں لبرل نہیں ایک نارمل مسلمان ہوں /محمد ہاشم خان

اس کالم کو میں نے جو عنوان دیا ہے ابھی اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔ فی الحال تو ان اسباب و عوامل پر کچھ اجمالی روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جو اس عنوان اور اس کالم کا محرک←  مزید پڑھیے

سیاست کا حسن کوزہ گر/ اقتدار جاوید

میں چائے پینے کے لیے ایک ریستوراں میں داخل ہی ہوا تھا کہ میری نظر ایک دانشور ٹائپ بندے پر پڑی۔پا بہ گل، خاک بر سر برہنہ، سر چاک ژولیدہ مو، سر بہ زانو، تو میں سمجھ گیا اس کا←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیائی پولیسنگ-فرض شناسی جرم ٹھہرا/سید بدر سعید

ہم میڈیا کے ’’بریکنگ نیوز‘‘ کلچر کو رو رہے تھے یہاں سرکاری ادارے بھی اسی بھیڑ چال کا حصہ بن گئے۔ احساس ذمہ داری اگر میڈیا سے کم ہوا تو سرکار بھی پیچھے نہیں رہی۔ گزشتہ دنوں ایک بار پھر←  مزید پڑھیے

تپن بوس۔دہلی میں کشمیر کیلئے دھڑکتا دل رک گیا (2) افتخار گیلانی

یہ جرنل ان حالا ت میں کشمیر کے روز مرہ کے واقعات دہلی کے مختلف حلقوں تک پہنچانے میں خاصا مدد گار ثابت ہوا۔اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جگموہن کے آفس سنبھالنے کے پہلے دن ہی سری نگر کے←  مزید پڑھیے

تپن بوس۔دہلی میں کشمیر کیلئے دھڑکتا دل رک گیا(1)-افتخار گیلانی

90کی دہائی کی ابتدا میں زمانہ طالب علمی میں امتحانات سے فراعت کے بعد دہلی کے اوکھلا علاقے سے متصل سرائے جولینا بستی میں ایک کمرہ کرایہ پر لیکر میں چھٹیاں منانے کشمیر چلا گیا تھا۔ پندرہ بیس دن کے←  مزید پڑھیے

حقیقی انسانیت اور حقِ خود ارادیت/کامریڈ فاروق بلوچ

انسانی تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے— آزادی کی، انصاف کی، برابری کی۔ ہر دور میں انسانیت کی سچائی کو وہی فکر تسلیم کیا گیا ہے جو فرد کے حقِ خود ارادیت کو مقدس جانتی ہے. انسان کو استحصال، جبر اور←  مزید پڑھیے

پیکا ایکٹ : کیا ہم واپس پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے زمانے میں جارہے ہیں ؟-محمد عامر حسینی

جنوری 29 ، 2025 ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور بدنما داغ رکھنے والے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا – اس دن ایوان صدر میں بطور صدر مملکت براجمان ایک ایسے شخص نے ‘انسداد الیکٹرانک←  مزید پڑھیے

جھوٹ بولنے والے کی داڑھی میں “پیکا”/ڈاکٹر ابرار ماجد

پیکا میں ترمیم کیا ہوئی ہے کہ ہر طرف سے چیخنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جیسے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہو۔ صحافی تو کیا سیاستدان بھی بول پڑے ہیں۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمن←  مزید پڑھیے

نرگسیت کا مارا ادیب(1) -آغر ندیم سحر

نرگسیت،نارسیسسٹک پرسنالٹی ڈس آرڈر (Narcisstistic personality disorder) علم نفسیات میں ایک ایسا مرض ہے جس کا شکار فرد اپنے وقار،طاقت اور کامیابی کے گھمنڈ میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنے ارد گرد کا ہوش ہی نہیں رہتا،ایسا←  مزید پڑھیے

کرائے پر دستیاب امریکی ارکان/نجم ولی خان

کیا آپ کے لئے حیرت انگیز نہیں کہ پاکستان کو کسی قطار،شمار میں نہ لانے والے امریکی کانگریس مین اور سینیٹرز یہاں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے قراردادیں منظور کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ ذاتی سطح←  مزید پڑھیے

گالم گلوچ کلچر اور تھانیدار کا قتل/سید بدر سعید

پولیس میں “دبنگ افسر” کی اصطلاح اسی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کا غصہ ناک پر دھرا ہو، جو بات بات پر گالم گلوچ کا عادی ہو اور ماتحت عملہ کو سخت سزائیں دیتا ہو ۔ ملازمین کو←  مزید پڑھیے

مذاکرات سے”قومی مفاہمتی معاہدے” کی صورت پائیدار مستقبل کا حل ڈھونڈنا ہوگا/ڈاکٹر ابرار ماجد

مذاکرات میں تیسرے مرحلے کے اندرپی ٹی آئی کی طرف سے تحریری مطالبات بھی دئیے جا چکے ہیں لیکن اب پھر سے خدشات شر اٹھانے لگے ہیں اور عمران خان نے مذاکرات کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی ہے←  مزید پڑھیے

2025کیسا رہے گا؟-نجم ولی خان

ہم سب کے لئے دو قسم کی پیشین گوئیاں اہم ہیں، ایک سیاسی اور دوسری معاشی، میں نے بہت سارے ستارہ شناسوں کو سنا ہے اور ان میں سے کئی مجھے ایسے لگتے ہیں جو خود میری پوسٹس یا کالم←  مزید پڑھیے

غزہ – نتائج کا سرسری جائزہ/قیس انور

اسرائیلی آپریشن کے دوران 46000 افراد شہید ہوئے ۔غزہ میں حماس سے بیزاری بڑھی ہے لیکن الفتح کی حمایت زیادہ نہیں ہوئی ۔ فلسطینی عوام اب اسرائیل سے پہلے سے زیادہ شدید نفرت کرتے ہیں ۔ آزاد فلسطینی ریاست کے←  مزید پڑھیے

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں جھولتا بے بس انصاف/ڈاکٹر ابرار ماجد

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج حکومتی سطح پر قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام←  مزید پڑھیے

چل جھوٹے/نجم ولی خان

ہم سب جانتے ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لئے آخری حد تک کوششیں کر رہے ہیں ، بالخصوص خیبرپختونخوا میں، جو اس وقت حالت جنگ←  مزید پڑھیے

سیاسی انتقام/نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

سیاسی مقدمات کے ذریعے کسی حکمران یا رہنما کو پابند کرنا اور پھر اس پر خوشی کا اظہار کرنا کسی بھی باشعور شخص کا عمل نہیں ہو سکتا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایسے مقدمات کے نتائج ماضی←  مزید پڑھیے