میں اور میری بیوی ہمارے اکلوتے بیٹے سے اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی کسی بھی متوسط طبقے کے والدین میں پائی جاتی ہے، میں ہمیشہ کوشش کرتا کہ وہ جس چیز کی خواہش رکھے میں اسے کسی نا کسی← مزید پڑھیے
دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روازنہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت← مزید پڑھیے
نوٹ برائے وضاحت: یہ ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس میں بیان کردہ تمام کردار، واقعات، مقامات اور ادارے مکمل طور پر فرضی ہیں۔ اگر کسی حقیقی واقعے یا شخصیت سے مشابہت محسوس ہو تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے۔ یہ← مزید پڑھیے
دستک پر دروازہ کھولا تو سامنےدرمیانی عمر کا باریش شخص کھڑا تھا۔ قد درمیانہ تھا اور داڑھی خصاب سے سیاہ کی گئی تھی مگر رنگ چھپانے کی کوشش کے باوجود داڑھی کے بالوں کے سروں سے سفیدی اپنا رنگ ظاہر← مزید پڑھیے
افسانہ: *دروازے کے سوراخ سے چٹان تک* آخری حصہ مصنف: کامریڈ فاروق بلوچ ۷ رات کی سیاہی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ سرد ہوا دروازوں سے ٹکرا رہی تھی اور دور کہیں شہر کی گلیوں میں تنہائی سرگوشیاں کر رہی← مزید پڑھیے
یہ شہر عجیب تھا۔ یہاں ہر دروازہ ایک داستان تھا، اور ہر داستان ادھوری۔ یہاں کے باسی عجیب تھے—نہ مکمل رخصت ہوتے، نہ مکمل قیام کرتے۔ وہ لوگ جو ایک دوسرے کے قریب آتے، کچھ وقت ساتھ گزارتے، پھر اچانک← مزید پڑھیے
سو سوری یوسف میری آنکھیں ہی نہیں کھلیں! نمرہ نے جلدی جلدی اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بناتے ہوئے چولھے کا برنر آن کیا۔ رہنے دو نمرہ تم پریشان مت ہو میں نے انڈا ابال کر کھا لیا← مزید پڑھیے
وہ ہمیشہ آخری صف میں بیٹھتا تھا۔ نہ اتنا نمایاں کہ استاد کی نگاہیں اس پر ٹک جاتیں، نہ اتنا غیر اہم کہ مکمل فراموش کر دیا جاتا۔ وہ ایک درمیانی سا وجود تھا— بین السطور پڑھی جانے والی تحریر،← مزید پڑھیے
وہ ٹیوشن سے نکلا، کتابیں بغل میں دبائے سڑک پر آیا اور اپنے گھر کی جانب رواں ہوا ۔ ابھی اس نے تھوڑی ہی مسافت طے کی تھی کہ تین چار چرسی آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے سامنے آن کھڑے← مزید پڑھیے
اس برس سردی نہیں پڑ رہی تھی۔ لوگ روز اس امید پہ بستر سے نکلتے کہ شائد آج کچھ موسم بدلے گا لیکن چند ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے علاوہ دور دور تک سردی کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہر← مزید پڑھیے
دفتر کی دیواریں ہمیشہ یکساں لگتی تھیں، جیسے صدیوں سے یہاں وقت رک گیا ہو۔ یہاں کام کرنے والے لوگ بھی ایک جیسے تھے—چپ چاپ، مشینی انداز میں چلتے پھرتے، اپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجائے، جیسے وہ کسی نیم← مزید پڑھیے
کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ صرف ایک میز لیمپ کی مدھم روشنی تھی جو کمرے کے ایک کونے میں رکھے دوسرے میز پر پڑ رہی تھی۔ میز پر ایک سفید کاغذ رکھا تھا اور اس کے قریب ایک قلم۔← مزید پڑھیے
تھانے کا داخلی راستہ اسی طرح بھیڑ بھاڑ سے بھرا ہوا تھا جیسے ہمیشہ ہوتا تھا۔ لوگ اپنی اپنی فریادیں لیے قطار میں کھڑے تھے، اور ہر چہرے پر امید اور مایوسی کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ میں بھی انہی← مزید پڑھیے
یہ 2009 نومبر کی سرد ترین دھند میں لپٹی شام تھی جب میری منیجر نے کہا کہ ،شاہین تمہارے لیے فون ہے۔ او۔کے، شکریہ ۔ ہیلو! جی بیٹا الحمداللہ سب خیریت؟ لائین پر میرا بھانجا تھا۔ لالا 2009 کا ماڈل← مزید پڑھیے
ماں میں نے گوشَت کھانا ہے بس مجھے نہیں پتا ۔۔۔تو نے اتنی مدت سے وعدہ کر رکھا ہے۔۔۔۔ پر تو نہ خود پکا کر دیتی ہے ناں تیری مالکن نے کبھی تجھے بچا کھچا دیا۔۔۔۔ مجھے بکرے کا گوشَت← مزید پڑھیے
گاؤں کے دامن میں ایک چھوٹا سا قدیم اور پراسرار میدان تھا، جسے لوگ “پوہ ر” کہتے تھے۔ اس میدان کا نام ہمیشہ سے ایک راز رہا، اور جو بھی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا، یا تو← مزید پڑھیے
نوجوان سنجیدہ تاثرات کو قائم کرکے بولنے لگا. “لوہے اور پٹرولیم سمیت کئی دھاتوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ موریطانیہ کی غربت زدہ بدحال عوام کو فقط زراعت َاور مویشیوں کا سہارا ہے”. زیرتعلیم نوجوان← مزید پڑھیے
ڈاکٹر ماتھر کی نظریں اپنے کلینک میں داخل ہونے والے شریف بوڑھے آدمی پر پڑیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اس کا بہت سا وقت اس بوڑھے آدمی کو سمجھانے میں گزر جائے گا۔ہر دوسرے یا تیسرے دن یہ شریف← مزید پڑھیے
یہ کہانی ایک ایسے وجود کی ہے جو ہمیشہ ہر شے کے اندر کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے، مگر کبھی اپنی شناخت نہیں پا سکا- یہ وجود ایک بے نام جذبہ ہے، ایک بے مقصد سفر یا← مزید پڑھیے
نوٹ: حارث بٹ نے ایک سچا واقعہ بیان کیا جسے میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ افسانے کی شکل دی ہے – محمد بوٹا کی زندگی میں وقت کا پہیہ رک سا گیا تھا۔ مریال کے کھیت، پرانے درخت، اور کچے← مزید پڑھیے