دماغ کا مقصد حرکت کو بہتر کنٹرول کرنا تھا۔ حرکت کا مقصد خوراک حاصل کرنا اور دوسرے کی خوراک بننے سے بچنا تھا۔ یہ کسی بھی جاندار کی سب سے بنیادی صلاحیت ہے۔ پیچیدہ جسم رکھنے والے جاندار کے لئے← مزید پڑھیے
سائنس کی ابتدا کو سمجھنے کے لئے نسلِ انسانی کی جڑ کو دیکھنا پڑے گا۔ انسانوں میں دنیا کو جاننے کی صلاحیت بھی ہے اور خواہش بھی۔ اور ہمارا یہ تحفہ ہمیں باقی جانوروں سے الگ کرتا ہے۔ اور یہ← مزید پڑھیے
کیا آپ پہچان سکتے ہیں کہ ساتھ لگی تصویر وکس شہر کی ہے؟ یا کس ملک کے شہر کی؟ یا کس برِاعظم کے شہر کی؟ اگر نہیں تو اس کی وجہ ہے۔ دنیا میں فاصلے سمٹ رہے ہیں۔ مختلف ممالک← مزید پڑھیے
مندرجہ ذیل ملیڈینو کی تحریر کا ترجمہ ہے۔ “میرے والد دوسری جنگِ عظیم میں قیدی تھے۔ وہ کالج نہیں گئے تھے۔ ایک ساتھی قیدی نے ایک ریاضی کا معمہ ان سے پوچھا۔ میرے والد کئی روز تک سوچتے رہے لیکن← مزید پڑھیے
رنگون کے مسلمانوں نے 1905 میں درخواست کی کہ بہادر شاہ ظفر کی قبر پر نشانی لگانے کی اجازت دی جائے۔ “بطور انسان اور بادشاہ، وہ ہماری تعریف کے مستحق بے شک نہ ہوں، لیکن اس کے مستحق ضرور ہیں← مزید پڑھیے
جب دہلی گرا تو نہ صرف شہر اور مغلیہ دربار بلکہ مغلوں کے ساتھ منسلک سیاسی اور کلچرل خوداعتمادی اور اتھارٹی بھی۔ جس قدر فاش شکست تھی اور جس قدر بڑی تباہی اور جس قدر ذلت، اس نے نہ صرف← مزید پڑھیے
اپریل 1859 کو بہادر شاہ ظفر کو نئی رہاش گاہ منتقل کر دیا گیا۔ اس میں چار چھوٹے کمرے تھے۔ ایک سابق بادشاہ کے پاس تھا۔ ایک ان کے بیٹے جوان بخت اور بہو کے پاس۔ ایک زینت محل کے← مزید پڑھیے
بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کی جگہ برما طے کی گئی۔ دہلی سے دور اور یہاں کی مقامی آبادی کو ہندوستان کے معاملات سے سروکار نہیں تھا۔ بہادر شاہ سفر میں خوشگوار موڈ میں تھے۔ یہ دہلی کی قید سے← مزید پڑھیے
جنوری 1858 تک دربار کے تمام معززین مقدمات کے بعد لٹکائے جا چکے تھے۔ اب بہادر شاہ ظفر کی باری تھی۔ لکھنو میں جنگ ابھی چل رہی تھی۔ ماہرینِ قوانین اور مترجمین نے دہلی پہنچنا شروع کر دیا۔ کیا احکامات← مزید پڑھیے
شہر میں انصاف کی باری تھی۔ پھانسیاں نصب ہو گئیں۔ لوگ لٹکنے لگے۔ سب سے بڑا مرکز چاندنی چوک میں بنا۔ لوگ تماشا دیکھنے اکٹھے ہوتے۔ سیٹیاں بجاتے، تالیاں بجائی جاتیں، نعرے لگتے۔ ویسے ہی جیسے انقلابِ فرانس میں ہوا← مزید پڑھیے
ہوڈسن نے ہمایوں کے مقبرے پر پہنچ کر مولوی رجب علی اور مرزا الہی بخش کو بات کرنے اندر بھیجا۔ ان کے ساتھ سکھ رسالدار من سنگھ اور چند محافظ تھے۔ مولوی رجب علی نے یہ مذاکرات کرنے تھے۔ دو← مزید پڑھیے
“مجھے پتا تھا کہ یہ باغی سپاہی صرف تباہی لائیں گے۔ شروع سے ہی مجھے خدشہ محسوس ہو رہا تھا اور میرا خوف ٹھیک نکلا۔ یہ انگریز کے آنے سے پہلے ہی بھاگ گئے۔ میں ایک فقیر اور صوفی ہوں← مزید پڑھیے
سولہ ستمبر کو شہر کے لوگ لال قلعے کے باہر اکٹھے ہونے لگے۔ ان کے ساتھ جہادی بھی تھے اور انقلابی سپاہی بھی۔ مولوی سرفراز اور انقلابی افسر ملکر شاہی محل میں گئے اور بہادر شاہ ظفر سے منت کی← مزید پڑھیے
“ہماری توپوں نے کام کر دیا تھا۔ اب فوجیوں کی باری تھی۔ پہلی رکاوٹ خندق تھی۔ بیس فٹ گہری اور پچیس فٹ چوڑی۔ اس کو پار کرنے کے لئے سیڑھیاں تھیں۔ اس میں دس منٹ لگے جس میں دشمن نے← مزید پڑھیے
چار ستمبر کو آٹھ میل لمبی ایک فوج کی کمک برٹش کیمپ میں داخل ہوئی۔ 60 ہاوٗٹزر، اسلحے سے لدی 653 بیل گاڑیاں، گولے، اور بارود کے کنستر ۔۔۔ یہ پنجاب کی آرڈیننس فیکٹریوں میں تیار ہوا تھا جو اپنا← مزید پڑھیے
اگست کے آغاز تک ملٹری توازن واپس برٹش کے پاس جا چکا تھا۔ اگرچہ ان کی تعداد شہر کی فوج سے بہت کم تھی لیکن شہر سے آنے والے حملوں کی تعداد اور شدت میں کمی آ گئی تھی۔ انقلابی← مزید پڑھیے
بخت خان کے بعد دہلی میں امیدیں بڑھ گئی تھیں۔ 9 جولائی کا حملہ بے حد کامیاب رہا تھا لیکن انٹیلی جنس نہ ہونے کی وجہ سے دہلی میں خبر نہیں ہوئی تھی کہ نئی حکمتِ عملی کتنی کامیاب جا← مزید پڑھیے
برٹش اچھے حال میں نہیں تھے۔ اگرچہ خوراک کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے علاوہ ان کے لئے صورتحال مخدوش تھی۔ روز کے حملوں اور توپ کے گولوں کے علاوہ ان کا ایک دشمن سورج تھا۔ دہلی← مزید پڑھیے
دس جون کو دہلی پر گولہ باری شروع ہو گئی۔ یہ گولے کسی گھر پر گرتے، کسی بازار میں، کسی دیوار کو توڑ دیتے۔ شاہی محل اور انتظامی مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی کوشش تھی۔ حوض کے کنارے بیٹھے← مزید پڑھیے
شہر کے کوتوال معین الدین نے 52 انگریزوں کو قیدی بنایا تھا اور حفاظت کے لئے شاہی محل میں رکھا تھا۔ یہ ان کی جان بچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ سپاہیوں کو جب بھنک پڑی تو انہوں نے حکیم← مزید پڑھیے