خون کا بدلہ (18)۔۔وہاراامباکر

اگست کے آغاز تک ملٹری توازن واپس برٹش کے پاس جا چکا تھا۔ اگرچہ ان کی تعداد شہر کی فوج سے بہت کم تھی لیکن شہر سے آنے والے حملوں کی تعداد اور شدت میں کمی آ گئی تھی۔ انقلابی سپاہی اور لیڈرشپ میں سے کئی دہلی چھوڑ رہے تھے۔ اس بار گریٹ ہیڈ نے اپنی بیوی کو خط میں لکھا، “ہمارے دفاع کی چٹان سے ٹکرانے والی لہروں میں ویسی قوت نہیں رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برطانوی کیمپ کا موڈ بدل گیا تھا۔ اب انتقام کی بات ہو رہی تھی۔ دہلی والوں کا قتلِ عام کھلم کھلا اور پرجوش طریقے سے ڈسکس کیا جاتا تھا اور یہ بھی کہ شہر کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ برٹش پریس میں کانپور میں بی بی گڑھ میں 73 خواتین اور 124 بچوں کے برٹش ہونے کے جرم میں کئے گئے قتل کو نمایاں جگہ ملی تھی۔ برٹش طیش میں تھے۔ دہلی سے جان بچاکر فرار ہو جانے والی جارج ویگنٹریبر نے لکھا۔ “دلی کی آلودہ دیواروں کو مسمار کئے جانا ضروری ہے تاکہ ان کے آسیب کو ختم کیا جا سکے اور ان کے کالے کرتوتوں کی سیاہی ختم کی جا سکے۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ انصاف ہو گا۔ خون کا بدلہ خون ہے۔ دہلی کے بادشاہ کے تخت پر برٹش افسر بیٹھے گا۔ بادشاہ کے گلے میں رسی ہو گی اور اسے انصاف کی خاطر قربان کر دیا جائے گا۔ اور اس کے بعد ۔۔ دہلی میں خاموشی کا راج ہو گا۔ موت کی خاموشی۔ برٹش انصاف کے تباہ کن طوفان میں ہر ہندوستانی بہہ جائے گا”۔

پانچ اگست کو یہ انتقام ایک قدم قریب آ گیا۔ برٹش دہلی فیلڈ فورس تک خبر پہنچی کہ کمک کے لئے بڑی فوج کا پہلا دستہ پنجاب سے روانہ ہو گئی ہے۔ اس کے لئے لارنس نے ایک بہت بڑا جوا کھیلا تھا۔ پنجاب میں موجود تقریباً تمام یورپی فوجی اس پہلے قافلے کا حصہ تھے۔ مقامی رضاکاروں کی بڑی تعداد تھی۔ یہ ایک میل لمبا قافلہ تھا جس میں بھاری توپخانہ بھی شامل تھا۔ یہ فیروزپور سے نکل کر انبالہ تک پہنچ چکا تھا۔ جی ٹی روڈ سے چند روز کی مسافت پر تھا۔ لارنس نے یہ جوا اس امید پر کھیلا تھا کہ لاہور سے پشاور تک کا علاقہ پرسکون رہے گا۔

اور انتقام پسند برٹش کے لئے ایک اور بہترین خبر تھی۔ ایک ہزار برطانوی، 600 پنجابی مسلمان سواروں (جن میں اکثریت ملتان سے تھی)، 1600 سکھوں اور توپخانے کی قیادت پشاور سے آنے والے برٹش فورس کے سفاک ترین افسر جان نکلسن کر رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تریموں گھاٹ پر بغاوت کرنے والوں کے پورے دستے کا صفایا جس طریقے سے نکلسن نے کیا تھا، اس کا چرچا دور تک گیا تھا۔ یہ پورا دستہ سیالکوٹ سے دہلی کی طرف جا رہا تھا کہ نکلسن نے دریائے راوی کے کنارے گھات لگائی تھی۔ باغی سپاہیوں کے پیچھے دریا تھا اور آگے نکلسے۔ انہوں نے ایک بھی سپاہی کو جیتا نہیں چھوڑا تھا۔ مون سون میں بپھرے راوی میں چھلانگ لگانے کا مطلب موت تھا۔ کچھ کے لئے یہی واحد طریقہ بچا تھا۔ نکلسن قیدی بنانے کے قائل نہ تھے۔ اس روز بھی بہت کم قیدی بنائے تھے۔ اور یہ قیدی پکڑے جانے کے ساتھ ہی گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔ نکلسن اب دہلی کی طرف آنے والے پہلے بڑے دستے کی قیادت کر رہے تھے۔

نکلسن ایک سائیکوپاتھ تھے، اذیت پسند اور ہندوستانیوں سے نفرت رکھنے والے۔ گورنر جنرل کیننگ کے مطابق “نکلسن انتقام کا دیوتا ہے، وہ دشمن کے دل میں دہشت ہے”۔ لیفٹینیٹ اومانی نے ان کی اذیت پسندی کو دیکھا تھا اور شاک میں رہ گئے تھے۔ اپنی ڈائری میں انہوں نے لکھا کہ ایک باورچی لڑکے کو انہوں نے اس لئے مارا تھا کہ وہ مارچ کرنے والوں کی لائن کے آگے آ گیا تھا۔ جب اس لڑکے نے مار پڑنے پر شکوہ کیا تو دوسری بار پڑنے والی مار کے بعد جانبر نہ ہو سکا۔ اپنی فوج کو بھی قیدیوں کو تشدد کے بارے میں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ اومانی کی ڈائری میں اس کے کئی ہولناک واقعات درج ہیں۔

چودہ اگست 1857 کو ولسن دہلی کے باہر پہنچ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکلسن کی دوسری خاصیتوں میں انتھک محنت اور تفصیل میں جا کر ہر چیز کو دیکھنا تھا۔ برٹش جنرل ولسن کو نکلسن اور نکلسن کو جنرل ولسن بالکل پسند نہیں آئے۔

دہلی سے برٹش فورس پر حملے کم ہو چکے تھے۔ برٹش کو پسند کرنے والے پنجاب کے راجاوٗں کی طرف سے برٹش فوج کو تحائف اور کھانے پینے کا سامان ملنا شروع ہو گیا تھا۔ جھینڈ کے راجہ نے انگریزوں کے لئے سپلائی بیس بنا دی تھی۔ انبالہ سے چاکلیٹ، ٹوتھ پاوڈر اور دوسرا سامان۔ جہانگیر اور کاوس جی سستی بئیر پہنچانے لگے تھے۔

ہیضہ روز کی جانیں لے رہا تھا۔ مردہ جانوروں اور انسانوں کی لاشوں سے اٹھنے والا تعفن برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا لیکن برٹش خندقوں میں حوصلے اب بلند تھے۔ دہلی کی طرف سے حملے کم ہو رہے تھے۔ کئی کی نگاہیں دہلی کے مالِ غنیمت پر لگی تھیں۔ کہیں سے ایک دو ہیرے اچک لیں گے تو وارے نیارے ہو جائیں گے۔ دہلی ہندستان کا خوشحال ترین شہر تھا۔ فوجی اس کی دولت سے فیض یاب ہونے کے خواہشمند تھے۔ جب کہ کئی برٹش، جن کے خاندان کے افراد قتلِ عام میں مارے گئے تھے، انتقام کی آگ بجھانا چاہتے تھے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ لگی تصویر میں نکلسن کا مجسمہ ہے جو دہلی میں نصب رہا۔ انڈیا کی آزادی کے بعد اس کو اتار کر برطانیہ بھجوا دیا گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *