لاشوں کا شہر (26)۔۔وہاراامباکر

شہر میں انصاف کی باری تھی۔ پھانسیاں نصب ہو گئیں۔ لوگ لٹکنے لگے۔ سب سے بڑا مرکز چاندنی چوک میں بنا۔ لوگ تماشا دیکھنے اکٹھے ہوتے۔ سیٹیاں بجاتے، تالیاں بجائی جاتیں، نعرے لگتے۔ ویسے ہی جیسے انقلابِ فرانس میں ہوا تھا، یہ سزائیں تفریح کا مرکز تھیں۔ تماش بینیوں کے لطف کے لئے پھانسی کی رسی چھوٹی کر دی گئی۔ لمبی رسی کے برعکس اس طرح جان دیر سے نکلتی تھی۔

دہلی کی رپورٹیں گورنر جنرل کیننگ کو پہنچیں تو وہ خوش نہیں تھے۔ 25 ستمبر کو انہوں نے ملکہ وکٹوریا کو اس بارے میں تفصیل سے خط لکھا کہ دہلی میں بڑے پیمانے پر انتقام لیا گیا ہے اور شرمناک مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔

بغاوت کے مقدمات ملٹری کمیشن سنتا۔ موت کے سوا کچھ اور سزا نہیں تھی۔ اس کی وجہ صرف انتقام نہیں تھی۔ مقامی مخبر جنہیں ایک بندہ پکڑوانے پر دو روپے ملتے تھے اور گرفتار کرنے والوں کو پکڑے جانے والے کی دولت ۔۔۔ اس میں پیسہ کمانے کو بھی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستائیس ستمبر کو دیوانِ خاص میں دہلی پر فتح کے شکرانے کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس کے بعد برٹش فیلڈ فورس کے لئے اگلی معرکوں کی تیاری تھی۔ فریڈ رابرٹس کے مطابق “ہم بدبودار لاشوں کا شہر چھوڑ کر جا رہے تھے”۔ کئی برٹش فوجیوں کا اگلا ہدف لکھنوٗ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ ظفر کا اگلا جیلر ایڈورڈ اومانی کو بنایا گیا۔ انہیں مرزا نیلی کے گھر منتقل کر دیا گیا۔ ظفر اور ان کی فیملی کو ایک چارپائی، ایک کمرہ اور ایک حقہ ملا اور سفید کاٹن کا سوٹ۔ دھوبی، نائی یا حکیم تک رسائی نہیں تھی۔

ایک تحریک شروع ہوئی تھی کہ دہلی کو نقشے سے مٹا دیا جائے۔ اس نام کا شہر نہ رہنے پائے۔ تمام عمارتیں گرا دی جائیں۔ چارلس ریکس نے کہا کہ “جامعہ مسجد کو چرچ بنا دیا جائے۔ اس جنگ کے شہدا کے ناموں پر اس کے پتھروں کا نام رکھا جائے”۔ کوپ لینڈ نے آرٹیکل لکھا، “اس شہر کو اگر منہدم نہ کیا گیا، اس کی خون آشام دیواروں اور سڑکوں کو کھڑا رہنے دیا گیا تو یہ برطانیہ کے وقار پر ہمیشہ رہ جانے والے بدنما داغ ہو گا”۔

ان آوازوں کے بیچ برطانوی پارلیمنٹیرین ہنری لایارڈ کی اونچی آواز بہادر شاہ ظفر کی حمایت میں تھی۔
“ہم جو کر رہے ہیں وہ کسی عظیم قوم کے شایانِ شان نہیں۔ میں نے ایک بوڑھے اور شکستہ آدمی کو دیکھا جو چادر پر لیٹا تھا۔ اس کے پاس خود کو ڈھانپنے کے لئے چادر نہیں تھی۔ اسے اٹھنے میں دقت تھی۔ میں نے اس کے بازو دیکھے جو زخمی تھی اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اسے پیاس لگی تھی اور پانی میسر نہیں تھا۔ اسے ٹھیک سے کھانے کو نہیں ملا تھا۔ کیا یہ طریقہ کرسچن طریقہ ہے؟ ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں، وہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ میں نے اس کی خواتین کو بھی دیکھا جو برے حال میں تھیں۔ ان کے لئے کل مختص بجٹ دو آنے روزانہ ہے۔ کیا ایک بادشاہ کے لئے یہی سزا کافی نہیں؟”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن بہادر شاہ کی حالت اگر بری تھی تو یہ دہلی کے عام لوگوں کی حالت سے بہت بہتر تھی۔ زیادہ تر لوگ شہر کے باہر دیہی علاقوں میں قیام پذیر تھے۔ کسی قبرستان میں، کسی کھنڈر میں۔ جنگلی پھلوں پر یا مانگ تانگ کر گزارا کر رہے تھے۔ اور جو چند شہر کے اندر بچے تھے، وہ فاقہ زدگی کا شکار تھے۔

جو برٹش کے وفادار ملازم تھے اور انہوں نے اپنی حویلیوں میں رہنا پسند کیا تھا، ان کے لئے بھی زندگی گزارنا ناممکن ہو رہا تھا۔ سرکاری اور غیرسرکاری لٹیرے گھروں سے قیمتی سامان کی تلاش میں تھے۔ فوجی اس کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ فوجی قانون کے مطابق مالِ غنیمت فتح کرنے والے کا حق تھا۔ (یہ جینیوا معاہدے سے پہلے کی دنیا تھی)۔

جو لوگ دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ برٹش جاسوس رہے ہیں، ان کے بارے میں جنرل ولسن نے آرڈر جاری کیا تھا کہ جب تک ان کے دستخط سے جاری کردہ ٹکٹ کسی کے پاس نہ ہو، وہ برٹش حمایتی نہیں سمجھا جا سکتا۔ منشی جیون لال کلیدی انیٹلیجنس افسر تھے اور رقعے ان کے گھر لکھے جاتے تھے۔ ان کے گھر کا سکھ فوجیوں نے 21 ستمبر کو صفایا کر دیا۔ اور یہاں تک کہ انگریزوں کے سب سے بڑے مددگار مرزا الہی بخش، جنہوں نے انگریزوں کی وفاداری میں نہ صرف اپنے کزن بہادر شاہ کو گرفتار کروایا بلکہ خود اپنے نواسے مرزا ابو بکر کو مروایا تھا، کا گھر بھی لوٹ کر مال غنیمت میں جمع کروا دیا گیا۔

(مرزا الہی بخش کا کردار اس قدر حیران کن تھا کہ خود انگریزوں نے انہیں “دہلی کا غدار” کہا ہے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رہ جانے والے چند مسلمانوں میں ایک مرزا غالب تھے۔ قسمت نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ ان کے محلے میں پٹیالہ کے مہاراجہ کے سینئیر درباریوں کی رہائش تھی۔ پٹیالہ کے مہاراجہ نے اپنی افواج برٹش کو دی تھیں، ان تک سامان پہنچاتے رہے تھے۔ اس وجہ سے یہ محلہ محفوظ رہا تھا۔ یہاں گارڈ تعینات تھے۔ غالب شاید مغل دربار سے منسلک وہ واحد شخص تھے جن کی جائیداد نہیں چھینی گئی۔ لیکن ان کے لئے بھی یہ برا وقت تھا۔ وہ اپنی کتاب داستائی بوئی میں لکھتے ہیں کہ کیسے ان کے محلہ داروں نے محلے کا گیٹ بند کر کے پتھروں کی دیوار بنا دی تھی اور گرفتاریون اور قتل و غارت سے بچ گئے تھے جن سے ان کے دوست نہ بچ پائے۔ لیکن ہمسائیوں کی پریشانی خوراک اور پانی تھے کہ وہ کب تک بچ پائیں گے۔ غالب لکھتے ہیں۔
“نہ کوئی دکاندار تھا، نہ خردار۔ نہ کسی سے گندم خریدی جا سکتی تھی۔ نہ دھوبی تھا جو کپڑے دھو دیتا۔ نہ کوئی نائی جو بال بنا دیتا۔ نہ کوئی صفائی والا جو فرش صاف کر دیتا۔ نہ آٹا اور پانی لینے جایا جا سکتا تھا۔ رفتہ رفتہ، گھر کا سارا سامان ختم ہو گیا۔ ہم نے بڑی احتیاط کی تھی کہ پانی کی ایک بوند بھی ضائع نہ ہو لیکن یہ بھی ختم ہو گیا۔ ہم کئی دنوں سے بھوکے تھے۔ باہر قتلِ عام جاری تھا۔ ہم قدم نہیں نکال سکتے تھے۔ پھر ایک روز بادل آئے اور بارش خوب برسی ہم نے پانی اکٹھا کر لیا۔ وہ بچے جنہیں میں نے لاڈ پیار سے پالا تھا، دودھ، پھل اور مٹھائی کی فرمائش کرتے تھے اور میں پوری نہیں کر سکتا تھا”۔

غالب کے بھائی کو برٹش فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔ ان کو غسل دینے کو پانی نہیں تھا اور نہ ہی کفن کرنے کو۔ بالآخر پانچ اکتوبر کو برٹش فوجی محلے میں گھس آئے اور غالب کو پکڑ کر کرنل برن کے پاس لے گئے۔

کرنل نے غالب سے پوچھا، “مسلمان ہو؟” غالب نے کہا، “نصف”۔ کرنل: “کیا مطلب؟”۔ غالب: “شراب پی لیتا ہوں، سوٗر نہیں کھاتا”۔ غالب نے اس کے بعد کرنل کو خط دکھایا جس میں انہوں نے ملکہ وکٹوریا کی شان میں قصیدہ لکھا تھا اور منسٹری طرف سے اس کی وصولی کی تصدیق ہوئی تھی۔ کرنل نے پوچھا کہ “حکومت کی فتح کے بعد حاضری دینے کیوں نہیں آئے؟” تو غالب نے کہا کہ “چار کہار میری پالکی اٹھاتے ہیں، وہ چاروں بھاگ گئے اور مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ اس کے بعد غالب نے کہا کہ “میں بوڑھا، معذور اور بہرا ہوں۔ اس لئے لڑ نہیں سکتا۔ آپ کی کامیابی کے لئے دعا کر سکتا تھا اور وہ کرتا رہا ہوں اور یہ کام گھر بیٹھے بھی ہو سکتا تھا، اس لئے آپ کے پاس نہیں آیا”۔
اس ملاقات کے بعد کرنل برن نے غالب کو جانے دیا اور پھانسی کا پھندا ان کے گلے میں نہ پڑا۔

غالب کے اندازے کے مطابق شہر میں ایک ہزار مسلمان بچے تھے اور ان کے سارے دوست بھی اور رقیب بھی مارے گئے تھے۔ وہ اپنی یادیں یا اشعار کسی سے شئیر نہیں کر سکتے تھے۔ ایک خطط میں انہوں نے لکھا۔
“ہندستان سے روشنی چلی گئی ہے۔ شمعیں بجھ گئی ہیں۔ لاکھوں مارے گئے اور لاکھوں قید میں ہیں۔ لوگ غم کی شدت سے پاگل ہو جاتے ہیں۔ میں نے کیا غم نہیں دیکھے۔ موت کا غم، جدائی کا غم، آمدنی ختم ہو جانے کا غم، عزت چھن جانے کا غم۔ میرے دوست مارے گئے۔ میں انہیں کیسے بھلا سکتا ہوں؟ انہیں کیسے واپس لایا جا سکتا ہے؟ رشتہ دار، دوست، شاگرد، محبوب۔ ایک شخص پر سوگ منانا کس قدر مشکل ہے۔ میرے پاس تو بے شمار ہیں جن کا غم ہے۔ خدا کی قسم، اگر آج میں مر جاوٗں تو کوئی ایک ذی روح نہیں بچا جو میرے جانے کا غم کرے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو لوگ دہلی سے باہر تھے، ان کے حالات زیادہ برے تھے۔ سب سے برے انکے جن کا دربار سے کسی بھی طرح کا تعلق رہا تھا۔ پکڑے جانے پر ان کی سزا موت تھی۔ ظہیر دہلوی کو اس کا پتا تھا اور وہ حرکت میں رہے کہ پکڑے نہ جائیں۔ ایک رات مہروالی کی درگاہ پر اور پھر جھاجر پہنچ گئے جہاں کئی روز بعد پہلی بار باقاعدہ کھانے کو ملا۔ ایک ہفتہ وہاں گزارا تو پتا لگا کہ برٹش وہاں پہنچ گئے ہیں اور دہلی سے آنے والوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ جان بچا کر پانی پت کی طرف پیدل نکلے۔ یہاں باقی فیملی سے ملاقات ہو گئی۔ انگریزوں نے کچھ روز بعد اس شہر کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی شروع کر دی۔ انقلابی اور مغلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کو مطلوب تھے۔ ظہیر بال بال بچے۔ جب انگریز ان کے گھر آئے تو وہ باہر نکلے ہوئے تھے۔ لیکن ان کے چچا، بھائی اور بہنوئی پکڑے گئے اور دہلی لے جائے گئے جہاں ان کو لٹکا دیا گیا۔ ظہیر رات کو جنگ باز خان کے ہمراہ فرار ہوئے۔ بچتے بچاتے گنگا پار کر کے بریلی پہنچے۔ وہاں برٹش جاسوسوں نے انہیں دھر لیا۔ ان کی جان اس وقت بچی جب میر فتح علی نے انہیں بزورِ تلوار چھڑوا لیا۔

اس کے بعد رامپور گئے جہاں سے پکڑے جانے والے تھے۔ وہاں سے جے پور گئے اور پھر حیدرآباد، جہاں نئی زندگی شروع کی۔ اور یہ وجہ جگہ تھی جہاں پر انہوں نے مغل دہلی کی کہانی لکھی جب وہ ستر برس کے تھے۔ ظہیر دہلوی نے واپس کبھی دہلی نہیں دیکھا، ان کی وفات جلاوطنی میں 1911 میں ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکتوبر اور نومبر میں سرچ پارٹیاں شاہی خاندان کی افراد پر لگی رہیں۔ بہت کم کوئی بچ سکا۔ اس کامیابی کی ایک وجہ انعام کا لالچ تھا۔ سب سے پہلے بہادر شاہ کے چھوٹے بیٹے اٹھارہ سالہ مرزا بختاور شاہ اور سترہ سالہ مرزا مینڈو پکڑے گئے۔ انہیں میرٹھ کے باغیوں کا ساتھ دینے پر میجر ہیرئیٹ نے مقدمہ چلانے کے بعد سزا سنا دی۔ اومانی ڈائری میں لکھتے ہیں۔
“بارہ اکتوبر کو میں ان کے ساتھ تھا۔ انہیں جیسے کوئی پرواہ نہ ہو۔ صرف بیوی بچوں کو دیکھنے کی خواہش کی۔ میں مرزا مینڈو کے بیوی بچے کو سے ملانے لے گیا۔ تا کہ وہ اپنے والد اور شوہر سے چند منٹ کی ملاقات کر لیں۔ اگلے روز انہیں چھکڑے پر بٹھا کر میدان لایا گیا جہاں پر قیدیوں کی آنکھ پر پٹی باندھ دی گئی۔ بارہ رائفل مین کو بارہ قدم دور کھڑا کر دیا گیا۔ فائرنگ سکواڈ کے گورکھا نے جان بوجھ کر فائر نیچے کیا تا کہ وہ سست اور تکلیف دہ طریقے سے مریں۔ وہاں پر افسر کو اپنا پستول نکال کر انہیں ختم کرنا پڑا۔ یہ گندے لوگ تھے لیکن انہوں نے بڑے حوصلہ سے اپنی سزا برداشت کی تھی”۔

بہادر شاہ کے زیادہ تر بیٹوں اور پوتوں کے ساتھ جلد یا بدیر یہی ہوا۔ ہمیں صرف دو کا پتا ہے جو نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس بارے میں پالیسی نہیں تھی کہ شاہی خاندان کے ساتھ کرنا کیا ہے۔ کیونکہ ان میں بہت سے ایسے تھے جن کا انقلاب سے تعلق نہیں تھا۔ اور سوائے اپنے خاندان کے، ان کے پکڑے جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ کچھ کو سزائے موت ہوئی، کچھ کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔ کچھ کو آگرہ، کانپور اور الہ آباد کی جیلوں میں۔ سخت کنڈیشنز کی وجہ سے زیادہ تر کا پہلے دو برس میں ہی انتقال ہو گیا۔ کچھ کو برما یا کراچی کی جلاوطنی ملی۔ تھوڑی تعداد میں جو بچے وہ کراچی اور برما میں تھے۔ دہلی میں کسی کو بھی نہیں آنے دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہی محل کے پانچ ایسے افراد تھے جو کراچی سے بعد میں فرار ہو کر دہلی پہنچے اور روپوشی کی زندگی گزاری۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صرف مغل زیرِعتاب نہیں آئے، وہ لیڈر جو غیرجانبدار رہے تھے، وہ بھی قصوروار قرار دئے گئے۔ نواب اور راجے لائے گئے، قید میں گئے، مقدمات چلے اور پھانسی پر لٹکایا گیا۔

غالب کے دوست نواب مظفر الدولہ کو الوار سے گرفتار کر کے گڑگاوٗں میں پھانسی ملی۔ دہلی کی شیعہ برادری کے لیڈر نواب حامد علی خان جو دہلی چھوڑ گئے تھے انہیں کمال کے پاس پکڑا گیا۔ بلب گڑھ کے راجا کے ایجنٹ حکیم عبدالحق، نواب محمد خان کو اکٹھے پچیس نومبر کو سزائے موت ملی۔ فرخ نگر کے نواب کو ان کے بعد۔

جھاجر کے نواب کو پکڑنے تھیو میٹکاف خود گئے۔ اگرچہ وہ غیرجانبدار رہے تھے لیکن انہوں نے میٹکاف کو انقلاب کے پہلے ہفتے پناہ نہیں دی تھی۔ اومانی نواب کی بہادری سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ جب انہیں سزائے موت دی گئی تو نواب کے دو بیٹے بات کو دیکھ کر بہت روئے۔ جب انہیں سزا کے لئے لے جایا جا رہا تھا تو ان کے خادموں نے جاتے وقت نواب کو فرشی سلام کئے۔

نواب نے جس طریقے سے عدالت میں دلائل دئے تھے، اس نے کئی لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ مسز میوٹر، جو ان سے متاثر ہوئیں، انہوں نے اس پر لکھا ہے، “ہاں، بغاوت کرنے والے بدمعاش تھے لیکن انہیں ہتھیار کس نے دئے تھے؟ انہیں ٹریننگ دینے والا کون تھا؟ جنہوں نے یہ کیا تھا، کیا وہ قصوروار ہیں؟ اور اگر وہ اپنے ملازمین کی وفاداری نہیں قائم رکھ سکے تو کیا وہ نااہل ہیں؟ اور وہی قصوروار اور نااہل لوگ مجھے اس عدالت میں کھڑا کر کے مجھے انصاف دیں گے؟”۔

تھیو میٹکاف نے جلد ہی ثابت کیا کہ وہ انسانوں کا شکار کتنے پرجوش طریقے سے کرتے ہیں۔ ڈھونڈ کر لانا اور پھانسی پر چڑھا دینا ان کا شوق بن گیا۔ ان کا یہ جذبہ بڑھتا گیا۔ ایک پھانسی کا پھندا انہوں نے اپنے گھر میں ہی لٹکا لیا تھا۔ اس پر برٹش بھی سوال اٹھانے لگے۔ خاص طور پر ایک کیس نے توجہ حاصل کی۔ ایک گاوٗں پر الزام تھا کہ انہوں نے تھیو کے ایک ملازم کو انقلابیوں کے حوالے کیا تھا۔ اس کے جواب میں تھیو نے گاوٗں کے اکیس معززین کو سزائے موت دے دی۔

دیلی کے قرب و جوار میں تھیو کی دہشت تھی۔ کسی پر شک بھی ہوتا تو بغیر سوال جواب کئے گولی سے اڑا دیتے۔

تھیو کے جنون کی یہ باتیں لاہور کے جان لارنس تک پہنچیں۔ ان کا کرنل سانڈرز کو لکھا ہوا خط محفوظ ہے۔
“میں تھیو کے بارے میں جو سن رہا ہوں، وہ اگر ٹھیک ہے تو ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔” اگلا خط اس سے زیادہ سخت الفاظ میں تھا۔

(جاری ہے)

ساتھ لگی تصویر کشمیری دروازے کی 1860 میں لی گئی۔ اس میں جنگ سے نقصان واضح ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *