دہلی پر حملہ (20)۔۔وہاراامباکر

چار ستمبر کو آٹھ میل لمبی ایک فوج کی کمک برٹش کیمپ میں داخل ہوئی۔ 60 ہاوٗٹزر، اسلحے سے لدی 653 بیل گاڑیاں، گولے، اور بارود کے کنستر ۔۔۔ یہ پنجاب کی آرڈیننس فیکٹریوں میں تیار ہوا تھا جو اپنا کام پوری رفتار سے کر رہی تھیں۔ چھ توپیں اتنی بڑی تھیں کہ ہاتھیوں کے ٹیم انہیں کھینچ رہی تھی۔ چار سو یورپی سپاہی، بڑی تعداد میں سکھ سوار اور دوسرے۔ چارلس گرفتھ نے لکھا ہے کہ “ان میں سب سے خونخوار بلوچ بٹالین لگ رہی تھی”۔

اگلے روز دہلی شہر کے دیواریں توڑنے کا پلان ایکشن میں آ گیا۔ اس کے لئے توپوں کی تنصیب کی تعمیرات ہونے لگیں۔ قلعے کی فصیل سے یہ تیاریاں نظر آ رہی تھیں۔ تعمیرات کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ مرنے والی برٹش فوج میں میں مقامی سپاہی بڑی تعداد میں تھے۔ فریڈ رابرٹس کے مطابق، “ایسی بے وقوفانہ حد تک بہادری ہندوستانی ہی دکھا سکتے تھے۔ ہندوستانی قلیوں پر گولیاں برستی تھیں۔ ان کا کوئی بندہ گر جاتا تھا۔ وہ کچھ دیر کے لئے رک کر افسوس سے سر ہلاتے تھے۔ کوئی اپنے دوست کے لئے آنسو بہا دیتا اور پھر لاش قطار میں رکھ کر کام میں جُٹ جاتے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپاہیوں میں ایک اور بغاوت چل رہی تھی۔ زینت محل کو ملکہ عالیہ کے عہدے سے ہٹا کر تاج بیگم کو ملکہ بنانے کی بات ہو رہی تھی کیونکہ زینت محل پر انگریزوں سے سازباز کا (درست) الزام تھا۔ شہزادوں مرزا ابوبکر اور مرزا خضر سلطان پر فنڈ خردبرد کرنے کا الزام لگایا جا رہا تھا کہ انہوں نے شہر سے لاکھوں روپے اکٹھے کر لئے ہیں اور سپاہیوں کو ایک دھیلا نہیں دیا۔ بہادر شاہ ظفر نے محل کے چاندی کے برتن سپاہیوں کے حوالے کر دئے کہ انہیں بیچ کر ملنے والے پیسے خود رکھ لیں۔

لیکن جب برٹش توپوں نے آٹھ ستمبر کو گولے اگلنا شروع کئے اور شہر کی فصیلوں کو نشانہ بنانے لگیں تو پہلی بار تمام انقلابی سب کچھ بھول کر اکٹھے ہو گئے۔ اس کا بڑا کریڈٹ مرزا مغل کو جاتا تھا جنہوں نے شہر کے دفاع کے لئے سب کو اکٹھا کرنے کے لئے کام کیا تھا۔

شہر کی شمالی دیواریں توپخانے کی زد میں تھیں۔ بارہ ستمبر کو 60 توپیں ایک کے بعد دوسرا گولہ برسا رہی تھیں۔ یہ چوبیس گھنٹے جاری تھا۔ ظہیر دہلوی لکھتے ہیں کہ “خدا جانے کتنی توپیں تھیں۔ دن رات دہلی لرز رہا تھا۔ آسمان سے آگ برس رہی تھی۔ جہنم کا سماں تھا”۔

جس چیز کا برٹش کو علم نہیں تھا، وہ یہ کہ دوسری طرف شہر کے اندر مرزا مغل نے رکاوٹوں اور دفاع کا سلسلہ کھڑا کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا پلان یہ تھا کہ اگر ایک بار برٹش شہر میں آ گئے تو وہ اپنا دفاعی حصار کھو دیں گے اور کشمیری دروازے کے پاس انگریزی فوج کے شکار کی تیاری تھی۔ برٹش توپچیوں کو فصیل کے اوپر سے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

پہلے بار جہادیوں کے گنڈاسے کام آ سکتے تھے۔ مولوی نوازش کے دو ہزار غازیوں کے علاوہ گوالیار سے خود کش غازیوں کا دستہ پہنچا تھا۔ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم کچھ نہیں کھایئں گے، یا تو مر جائیں گے یا کافر ماریں گے۔ ایک اور ممتاز انقلابی سارجنٹ گورڈن تھے جو نومسلم تھے اور توپچیوں پر نشانے لگانے میں اتنا کامیاب رہے تھے کہ سپاہیوں نے انہیں نذر پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “دیر ہو چکی ہے۔ اگر پہلے تیاری کر لی ہوتی تو برٹش توپیں ایک فٹ نہ بڑھ سکتیں۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ان کو روکا جانا ناممکن ہے لیکن میں سب کے ساتھ یہیں شہادت پسند کروں گا”۔

پچھلے ہفتوں میں سپاہیوں کی ہونے والی واپسی کا مطلب یہ تھا کہ لڑنے والوں میں جہادی زیادہ ہو چکے تھے۔ ساٹھ ہزار کی فوج میں پچیس ہزار جہادی تھے۔ مرزا مغل دفاع کے لئے “دین بچاوٗ، دھرم بچاوٗ، دہلی بچاوٗ” کے نعرے پر شہریوں کو اکٹھا کر رہے تھے۔ جہادی بھی مقامی لوگوں کو اکٹھا کر رہے تھے۔ دس ستمبر کو مرزا مغل نے تمام صوبیداروں کو شاہی فرمان بھجوایا۔
“یہ اکٹھا ہونے کا وقت ہے۔ گائے کی تقدیس کو بچانے اور سور کی نجاست سے بچنے کا۔ ہر کوئی تیار ہو کر کشمیری گیٹ پہنچ جائے۔ اپنے گھٹیا دشمن اور نیچ کافر کو رسوا کرنے کا وقت ہے۔ ہم اکٹھے لڑیں ہیں اور ثابت قدم رہنا ہے۔ ہر پلاٹون کے ایک ایک سپاہی تک پیغام پہنچ جائے اور اگر کوئی بہانہ بنا کر الگ ہونے کی کوشش کرے تو فوری طور پر اسے رپورٹ کیا جائے”۔

گیارہ ستمبر کو برٹش توپوں نے اکٹھا ملکر فائر شروع کیا۔ دوپہر تک شہر کی فصیلوں میں دراڑ پڑنے لگے تھے۔ دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے۔ دیوار کے ٹکڑے گر کر نیچے خندق میں گر رہے تھے۔ کشمیر گیٹ کی توپوں کو خاموش کروا دیا گیا۔ دیوار میں دو جگہوں پر بڑے شگاف پڑ گئے تھے۔ بھوک کے باوجود انقلابی ایسی بے جگری سے لڑ رہے تھے جو پہلے نہیں دکھائی گئی تھی۔ برٹش فوج میں اس حملے میں مرنے والوں تعداد چار سو سے زائد ہو چکی تھی۔

چارلس گرفتھ نے لکھا، “باغی اپنی فیلڈ گن کا اچھا استعمال کر رہے تھے۔ ہم پر گولہ باری کی جا رہی تھی۔ ہماری کئی توپیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ ہمارا پلان کامیابی سے بڑھ رہا تھا لیکن باغی جتنی ہٹ دھرمی دکھا رہے تھے، وہ تصور سے زیادہ تھی۔ ان کے دفاع کو ہم نے کھنڈر بنا دیا تھا لیکن وہ پھر بھی فائر کر رہے تھے۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی جو ہم پر ہر سائیڈ سے حملہ آور ہوتے تھے۔ انہوں نے فصیل کو اس وقت تک نہیں چھوڑنا تھا جب تک ہماری سنگینون کا نشانہ نہ بن جائیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتوار تیرہ ستمبر کو واضح ہو چکا تھا کہ شہر پر حملے کا وقت آ چکا ہے اور شاید یہ اگلے روز ہو جائے۔

برطانوی فوجی سیڑھی لگا کر دیوار پر چڑھنے کی پریکٹس کرتے رہے۔ شہر کو لوٹنے کے اصول طے ہوئے۔ اس کام کے لئے پرائز ایجنٹ کو ووٹ سے چنا گیا۔ ایڈورڈ کیمپبل کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔

جنرل ولسن نے گیارہ اعلان کیا کہ نکلسن حملے کی قیادت کریں گے۔ جو اگلے روز علی الصبح کیا جائے گا۔ چار جگہ سے شہر میں داخل ہوا جائے گا اور ہر جگہ سے داخل ہونے والا کالم مختلف منزل کا رخ کرے گا۔ پانچواں کالم ریزرو ہو گا۔ تھیو میٹکاف کے پاس اس کالم کی قیادت آئی جس نے جامع مسجد پر قبضہ کرنا تھا۔ شاہی محل پر یہاں سے حملہ کرنے کا بیس بنانا تھا۔

اس رات سب نے اپنے وصیتیں اور آخری خط لکھے۔ ایک نوجوان فوجی نے والدہ کو لکھا، “کل میں سیڑھی چڑھ رہا ہوں گا۔ کچھ لوگ مجھے گرانا چاہتے ہوں گے۔ ہتھیار مجھ پر تنے ہوں گے۔ اوپر سے گولیاں آ رہی ہوں گی۔ لیکن جلد سے جلد اوپر پہنچنا ہو گا تا کہ اپنی سنگین ان میں اتار سکوں۔ جب میں اس لمحے کا سوچتا ہوں تو ولولے سے خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ میں کسی کو گالی نہیں دوں گا۔ اس حالت کے جوش میں نکل ہی جاتی ہے۔ لیکن کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہر میں اگلے روز کی تیاری مکمل تھی۔ بخت خان کابل دروازے کے پاس ریت کی بوریوں سے رکاوٹیں کھڑی کروا رہے تھے۔ اپنے حریف مرزا مغل سے دوستی کر لی تھی۔ مرزا مغل سے دو سو مزدوروں اور لکڑیاں بھیجنے کا کہا تھا جو انہیں فراہم کر دی گئی تھی۔ مرزا مغل نے دو محلے خالی کروا لئے تھے جہاں سے برٹش فوج کے داخل ہونے کی توقع تھی۔

مولوی محمد باقر نے “دہلی اردو اخبار” شائع کیا جو اس کی آخری اشاعت تھی۔ ان کے کالم میں لکھا تھا۔ “کافر بڑھتے چلے آ رہے ہیں۔ اہم چیز ہماری فوج کی شجاعت کی اور جذبے کی داد دینا ہے۔ انہیں دیکھیں کہ کافر پر روز کیسے حملے کرتے ہیں۔ اگر یہ مشکل ہمارے سر کھڑی ہے تو نہ جانے کونسا تکبر یا ناانصافی ہم سے سرزد ہوئی ہے جس کی سزا ملی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ خدا سے پناہ اور معافی مانگیں۔ اور مخلوقِ خدا سے زیادتی نہ کریں”۔

ایڈورڈ کیمپبیل نے اپنی بیوی کو لکھا کہ “یاد رکھنا، ہم پر خدا کی مہربانی ہے جو ہمارے ساتھ ہے۔ مجھے روز بروز احساس ہوتا جا رہا ہے کہ اس پر بھروسہ رکھنا کتنا اہم ہے۔ سکون صرف اسی کی ذات سے ملتا ہے۔ الارم بج گیا ہے اور میں سونے جا رہا ہوں۔ خدا ہماری حفاظت کرے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کو برٹش فوجی بیدار ہو گئے۔ کالم بننے لگے۔ لالٹین کی روشنی میں جنرل ولسن کے احکامات پڑھ کر سنائے جانے لگے۔ ہر فوجی کو دو سو گولیاں لینی تھیں۔ زخمی کو وہیں پڑا رہنے دینا تھا۔ لوٹا ہوا مال ایڈورڈ کیمپبیل کے پاس جمع کروانا تھا۔ قیدی کسی کو نہیں بنانا تھا، زندہ پکڑنے کی ممانعت تھی لیکن “انسانیت اور ملک کے وقار کی خاطر” خواتین اور بچوں کا قتلِ عام نہیں کرنا تھا۔

صبح تین بجے کالموں نے مارچ شروع کیا۔ بہادر شاہ ظفر کے پسندیدہ قدسیہ باغ کے پھلوں کے درخت کور کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ توپوں کی گھن گرج جاری تھی۔ اس سے پچھلے دس روز میں یہ اتنی زیادہ نہیں برسیں تھیں۔ رات کی تاریکی ان کے فلیش سے روشن تھی، ہوا میں بارود کی بو پھیلی تھی۔ آدھا گھنٹا یہ چلتا رہا۔ صبح کی پو پھٹ رہی تھی۔ یکایک تمام توپیں ایک ساتھ اکٹھی ہی خاموش ہو گئیں۔ قدسیہ باغ میں چھوٹے پرندوں کی چہچہاہٹ، گلاب اور پھولوں کی مہلک اور بارود کے سلفر کی بو پھیلی تھی۔

نکلسن نے آرڈر دے دیا۔ برٹش فوج دہلی کی دیواروں کی طرف دوڑ رہی تھی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *