آخری عظیم مغل (31)آخری قسط۔۔۔وہاراامباکر

رنگون کے مسلمانوں نے 1905 میں درخواست کی کہ بہادر شاہ ظفر کی قبر پر نشانی لگانے کی اجازت دی جائے۔ “بطور انسان اور بادشاہ، وہ ہماری تعریف کے مستحق بے شک نہ ہوں، لیکن اس کے مستحق ضرور ہیں کہ انہیں یاد رکھا جائے”۔ اس کی اجازت اگست 1907 میں ملی کہ ان کی قبر پر ایک کتبہ لگا دیا جائے۔ اسی سال زینت محل کی قبر پر کتبہ بھی لگا دیا گیا۔ 1925 تک یہ باقاعدہ عمارت بن گئی جس پر چھت ڈال دی گئی۔

سولہ فروری 1991 کو مزدوروں کو کھدائی کرتے ہوی اینٹوں سے ڈھکی قبر ملی جو زمین سے تین فٹ نیچے تھی اور جہاں مزار بنایا گیا تھا، وہاں سے پچیس فٹ دور تھا۔ یہاں پر آخری مغل بادشاہ کا ڈھانچہ مل گیا۔

آج بہادر شاہ کی قبر پرانے مزار کے قریب ہے اور یہاں لوگ فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں۔ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے پھول چڑھاتے ہیں۔ راجیو گاندھی نے یہاں قالین چڑھایا تھا۔ نریندر مودی نے قبر کو غسل دیا تھا۔

تاریخ کی جدید کتابوں میں بہادر شاہ ظفر کے کوئی مداح نہیں۔ ایک طرح سے یہ ٹھیک بھی ہے۔ ان کی زندگی ناکامی کی زندگی تھی۔ انہوں نے ایک سلطنت گرتے دیکھی۔ ان کا طرزِ عمل ہیرو والا نہیں تھا۔ نیشنلسٹ مورخین انہیں لیڈرشپ میں ناکامی کا موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ لیکن بڑا مشکل تھا کہ وہ کچھ بھی اور کر سکتے۔ یا کم از کم بیاسی سالہ شخص کے طور پر کر سکتے۔ جسمانی لحاظ سے کمزور تھے، بڑھاپے کے باعث ذہنی مضبوطی بھی نہ تھی۔ اپنے فوجیوں کو دینے کو پیسے نہیں تھے۔ اس عمر کے لوگ گھوڑے پر بیٹھ کر میدانِ جنگ میں قیادت نہیں کرتے۔ وہ انقلابیوں کی لوٹ مار روکنے میں اور دہلی والوں کو بچانے میں ناکام رہے۔ تاریخی کاغذات دکھاتے ہیں کہ انہوں نے اس کی کوشش پوری کی تھی۔

وہ نہ ہیرو تھے اور نہ انقلابی لیڈر۔ لیکن وہ اسلامی تہذیب کی ایک پرکشش علامت تھے۔ اچھے شاعر اور خطاط، جنوبی ایشیا کی تاریخ کے اہم انٹلکچوئل ان کے دربار کا حصہ تھے۔ دہلی کی علمی روایات کے سرپرست، کمیونل ہم آہنگی اور رواداری کی علامت اور پسند کئے جانے والے بادشاہ۔ جو اپنے حریفوں کی طرح غیرحساس اور متکبر نہیں تھے۔ اور وہ خود کے ہم آہنگی برقرار رکھنے والے کردار کو بڑی سنجیدگی سے لیتے تھے۔ انقلاب کے دوران بھی وہ ایسا کرتے رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مغلوں کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کی عزت، اعتماد اور علم ڈوب گئے۔ دولت، تعلیم اور طاقت ہندووٗں کے پاس جانے لگی۔ ہندو اور مسلمانوں میں فاصلہ زیادہ ہونے لگا۔ تلخیاں در آئیں۔ دہلی سے پڑنے والے شگاف وسیع ہوتے گئے۔ وہ وقت آ گیا کہ یہ تصور کرنا محال ہو گیا کہ یہ بھی ممکن ہو سکتا تھا کہ ہندو سپاہی لال قلعے میں مسلمان بادشاہ کے گرد اکٹھا ہوں گے اور مسلمانوں کے ساتھ ملکر مغل سلطنت کے احیاء کی کوشش کریں گے۔

مسلمان خود الگ اطراف میں بٹ گئے۔ ایک طرف یہ کہ ہمیں اگر واپس آنا ہے تو وہ سیکھنا ہو گا جو ہمارے پاس نہیں۔ ہمیں مغرب سے تعلیم لینا ہو گی۔ جہاں پیچھے رہ گئے تھے، وہ راستہ طے کرنا ہو گا۔ یہ واپسی کا طریقہ ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کو ہندوستان میں آکسفورڈ بنانے کی کوشش اسی فکر کے تحت ہوئی تھی۔ اس سے اٹھنے والی اگلی پود میں انگلستان سے پڑھنے والے محمد علی جناح اور محمد اقبال جیسے لوگ تھے۔

ایک دوسری سمت مغرب کو مکمل طور پر رد کر دینے اور ماضی کی طرف جانے کی تھی۔ شاہ ولی اللہ کے مایوس ہو جانے والے شاگرد جیسا کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی تھے جنہوں نے مختصر مدت کے لئے شملی کے قریب آزاد اسلامی ریاست قائم کی تھی۔ انہوں نے مغل دارالحکومت سے سو میل شمال پر دیوبند کے مقام پر ایک مدرسہ بنایا۔ یہاں پر مغلیہ ہوں یا ہندو یا یورپی، ہر چیز کو نصاب سے نکال دیا گیا۔ یہ ہندوستان میں یا انگریز کے خلاف تو خاص اثر نہیں کر سکا لیکن بننے کے ایک سو تیس سال بعد اسی وقت میں بنائے گئے نصاب سے نکلنے والوں نے افغانستان میں حکومت قائم کی۔

آج جب دنیا میں ایک بار پھر ایک مشکل تقسیم سے دوچار ہیں جس کو کئی لوگ مذہبی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جہادی اور امپیریل پاورز کی جنگ دوسرے کو مجسم برائی کے طور پر دیکھنے کی جنگ ہے۔

اور اس تاریک دوئی کے وقت میں، بہادر شاہ ظفر کو دیکھا جا سکتا ہے اور ان کی مثال لی جا سکتی ہے۔ زندگی کی طرف پرامن اور برداشت کے رویے کی۔ اور اس پر افسوس کیا جا سکتا ہے کہ برطانیوں نے جب 1857 میں مغل بادشاہت ختم کی تھی تو ساتھ ہی مغلوں کا رواداری کا فلسفہ بھی اس کے ساتھ ہی جڑ سے اکھڑ گیا تھا۔
رنگون کے مسلمانوں نے 1905 میں درخواست کی کہ بہادر شاہ ظفر کی قبر پر نشانی لگانے کی اجازت دی جائے۔ “بطور انسان اور بادشاہ، وہ ہماری تعریف کے مستحق بے شک نہ ہوں، لیکن اس کے مستحق ضرور ہیں کہ انہیں یاد رکھا جائے”۔ اس کی اجازت اگست 1907 میں ملی کہ ان کی قبر پر ایک کتبہ لگا دیا جائے۔ اسی سال زینت محل کی قبر پر کتبہ بھی لگا دیا گیا۔ 1925 تک یہ باقاعدہ عمارت بن گئی جس پر چھت ڈال دی گئی۔

سولہ فروری 1991 کو مزدوروں کو کھدائی کرتے ہوی اینٹوں سے ڈھکی قبر ملی جو زمین سے تین فٹ نیچے تھی اور جہاں مزار بنایا گیا تھا، وہاں سے پچیس فٹ دور تھا۔ یہاں پر آخری مغل بادشاہ کا ڈھانچہ مل گیا۔

آج بہادر شاہ کی قبر پرانے مزار کے قریب ہے اور یہاں لوگ فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں۔ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے پھول چڑھاتے ہیں۔ راجیو گاندھی نے یہاں قالین چڑھایا تھا۔ نریندر مودی نے قبر کو غسل دیا تھا۔

تاریخ کی جدید کتابوں میں بہادر شاہ ظفر کے کوئی مداح نہیں۔ ایک طرح سے یہ ٹھیک بھی ہے۔ ان کی زندگی ناکامی کی زندگی تھی۔ انہوں نے ایک سلطنت گرتے دیکھی۔ ان کا طرزِ عمل ہیرو والا نہیں تھا۔ نیشنلسٹ مورخین انہیں لیڈرشپ میں ناکامی کا موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ لیکن بڑا مشکل تھا کہ وہ کچھ بھی اور کر سکتے۔ یا کم از کم بیاسی سالہ شخص کے طور پر کر سکتے۔ جسمانی لحاظ سے کمزور تھے، بڑھاپے کے باعث ذہنی مضبوطی بھی نہ تھی۔ اپنے فوجیوں کو دینے کو پیسے نہیں تھے۔ اس عمر کے لوگ گھوڑے پر بیٹھ کر میدانِ جنگ میں قیادت نہیں کرتے۔ وہ انقلابیوں کی لوٹ مار روکنے میں اور دہلی والوں کو بچانے میں ناکام رہے۔ تاریخی کاغذات دکھاتے ہیں کہ انہوں نے اس کی کوشش پوری کی تھی۔

وہ نہ ہیرو تھے اور نہ انقلابی لیڈر۔ لیکن وہ اسلامی تہذیب کی ایک پرکشش علامت تھے۔ اچھے شاعر اور خطاط، جنوبی ایشیا کی تاریخ کے اہم انٹلکچوئل ان کے دربار کا حصہ تھے۔ دہلی کی علمی روایات کے سرپرست، کمیونل ہم آہنگی اور رواداری کی علامت اور پسند کئے جانے والے بادشاہ۔ جو اپنے حریفوں کی طرح غیرحساس اور متکبر نہیں تھے۔ اور وہ خود کے ہم آہنگی برقرار رکھنے والے کردار کو بڑی سنجیدگی سے لیتے تھے۔ انقلاب کے دوران بھی وہ ایسا کرتے رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مغلوں کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کی عزت، اعتماد اور علم ڈوب گئے۔ دولت، تعلیم اور طاقت ہندووٗں کے پاس جانے لگی۔ ہندو اور مسلمانوں میں فاصلہ زیادہ ہونے لگا۔ تلخیاں در آئیں۔ دہلی سے پڑنے والے شگاف وسیع ہوتے گئے۔ وہ وقت آ گیا کہ یہ تصور کرنا محال ہو گیا کہ یہ بھی ممکن ہو سکتا تھا کہ ہندو سپاہی لال قلعے میں مسلمان بادشاہ کے گرد اکٹھا ہوں گے اور مسلمانوں کے ساتھ ملکر مغل سلطنت کے احیاء کی کوشش کریں گے۔

مسلمان خود الگ اطراف میں بٹ گئے۔ ایک طرف یہ کہ ہمیں اگر واپس آنا ہے تو وہ سیکھنا ہو گا جو ہمارے پاس نہیں۔ ہمیں مغرب سے تعلیم لینا ہو گی۔ جہاں پیچھے رہ گئے تھے، وہ راستہ طے کرنا ہو گا۔ یہ واپسی کا طریقہ ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کو ہندوستان میں آکسفورڈ بنانے کی کوشش اسی فکر کے تحت ہوئی تھی۔ اس سے اٹھنے والی اگلی پود میں انگلستان سے پڑھنے والے محمد علی جناح اور محمد اقبال جیسے لوگ تھے۔

ایک دوسری سمت مغرب کو مکمل طور پر رد کر دینے اور ماضی کی طرف جانے کی تھی۔ شاہ ولی اللہ کے مایوس ہو جانے والے شاگرد جیسا کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی تھے جنہوں نے مختصر مدت کے لئے شملی کے قریب آزاد اسلامی ریاست قائم کی تھی۔ انہوں نے مغل دارالحکومت سے سو میل شمال پر دیوبند کے مقام پر ایک مدرسہ بنایا۔ یہاں پر مغلیہ ہوں یا ہندو یا یورپی، ہر چیز کو نصاب سے نکال دیا گیا۔ یہ ہندوستان میں یا انگریز کے خلاف تو خاص اثر نہیں کر سکا لیکن بننے کے ایک سو تیس سال بعد اسی وقت میں بنائے گئے نصاب سے نکلنے والوں نے افغانستان میں حکومت قائم کی۔

آج جب دنیا میں ایک بار پھر ایک مشکل تقسیم سے دوچار ہیں جس کو کئی لوگ مذہبی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جہادی اور امپیریل پاورز کی جنگ دوسرے کو مجسم برائی کے طور پر دیکھنے کی جنگ ہے۔

اور اس تاریک دوئی کے وقت میں، بہادر شاہ ظفر کو دیکھا جا سکتا ہے اور ان کی مثال لی جا سکتی ہے۔ زندگی کی طرف پرامن اور برداشت کے رویے کی۔ اور اس پر افسوس کیا جا سکتا ہے کہ برطانیوں نے جب 1857 میں مغل بادشاہت ختم کی تھی تو ساتھ ہی مغلوں کا رواداری کا فلسفہ بھی اس کے ساتھ ہی جڑ سے اکھڑ گیا تھا۔

ناکام حکمران، صوفی بادشاہ یا آخری عظیم مغل؟ بہادر شاہ ظفر ہماری تعریف کے مستحق بے شک نہ ہوں، لیکن اس کے مستحق ضرور ہیں کہ انہیں یاد رکھا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *