ہماری کہانی (1)۔۔وہاراامباکر

مندرجہ ذیل ملیڈینو کی تحریر کا ترجمہ ہے۔
“میرے والد دوسری جنگِ عظیم میں قیدی تھے۔ وہ کالج نہیں گئے تھے۔ ایک ساتھی قیدی نے ایک ریاضی کا معمہ ان سے پوچھا۔ میرے والد کئی روز تک سوچتے رہے لیکن اسے حل نہ کر سکے۔ انہوں نے اس قیدی سے اس کا جواب پوچھا لیکن اس نے بتانے سے انکار کر دیا جیسے کہ وہ کسی راز کی حفاظت کر رہا ہو۔ والد نے اپنے تجسس کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ موت اور بدبو کے اس ماحول میں ان پر جواب جاننے کا جنون سوار ہو گیا۔ آخر اس قیدی نے ایک پیش کش کی۔ اگر میرے والد اسے اپنے حصے کا ایک وقت کا کھانا دے دیں تو وہ جواب بتا دے گا۔ بھوک اس قیدخانے کی ایک مستقل حقیقت تھی۔ لیکن تجسس کا یہ جذبہ اتنا طاقتور تھا کہ ان کے لئے یہ آسان سودا تھا۔

جب میرے والد نے مجھے یہ واقعہ سنایا تو میں ہائی سکول میں تھا۔ اس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔ میرے والد کا خاندان ختم ہو چکا تھا۔ ان کی ہر شے ضبط ہو چکی تھی۔ ان کا جسم فاقوں کا شکار تھا۔ تشدد کے نشان تھے۔ ان کی زندگی میں جو کچھ بھی معنی رکھتا تھا، ان سے چھینا جا چکا تھا۔ لیکن ان کی سوچ اور عقل، جاننے کا جذبہ بچ گیا تھا۔ ان کا جسم قید تھا لیکن ذہن نہیں۔ یہ وہ کہانی تھی جس نے مجھے سمجھا دیا کہ علم کی خواہش انسانی جبلتوں میں سب سے زیادہ انسانی شے ہے۔ میرے اور ان کے حالات میں بہت فرق تھا لیکن اس دنیا کو میرے جاننے کے شوق میں اور ان کے شوق کی جبلت ایک ہی تھی۔

میں نے کالج میں سائنس میں داخلہ لیا۔ میرے والد مجھ سے سوال پوچھتے۔ ٹیکنیکل باریکیوں کےبارے میں نہیں بلکہ جو میں سیکھ رہا تھا، ان کے معنی کے بارے میں۔ یہ تھیوریاں کہاں سے آتی ہیں؟ مجھے ان میں دلچسپی کیوں ہے؟ مجھے یہ اتنی پرکشش کیوں لگتی ہیں؟ یہ ہمارے انسان ہونے کے بارے میں ہمیں کیا بتاتی ہیں؟”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاکھوں سال پہلے زمین پر کسی نوع نے سیدھا کھڑا ہونا شروع کیا تھا۔ دو ٹانگوں پر کھڑا ہونی والی اس نوع کے اگلے دو ہاتھ آزاد ہو گئے تھے۔ اس دنیا کی کھوج لگا سکتے تھے۔ اس کو بدل سکتے تھے۔ سیدھا کھڑا ہونے سے نظر دور تک دیکھ سکتی تھی لیکن صرف نگاہ ہی نہیں، ذہن بھی دوسرے جانوروں سے بلند ہو رہا تھا۔ اس دنیا کی کھوج صرف ہاتھ اور نگاہ سے نہیں، سوچ سے بھی ممکن ہو رہ تھی۔ اور یہ اس نوع کی ممتاز خاصیت تھی۔

انسان ایک منفرد نوع ہے اور یہ انفرادیت جاننے کی جستجو کی جبلت ہے۔ اور ہزاروں سال سے اس نیچر کا معمہ حل کرنے میں مگن ہے۔ اگر کسی قدیم انسان کو مائیکروویو میں کھانا گرم ہوتے دکھایا جائے تو شاید وہ سمجھے کہ اس میں کوئی ننھی منی مخلوق آگ جلا کر اسے گرم کر رہی ہے جو دروازہ کھولنے پر غائب ہو جاتی ہے۔ لیکن سچ کا معجزہ بھی اس سے کم نہیں۔ قوانین جو اٹل ہیں، مجرد ہیں اور یہ کائنات انہی کے مطابق چلتی ہے۔ کائنات کا یہ معجزہ ہمارے اردگرد بکھرا ہوا ہے۔

اب ہم لہروں کو چاند کی کشش سے سمجھ لیتے ہیں، جانتے ہیں کہ ستارے نیوکلئیر بھٹیاں ہیں جو ہم تک فوٹون بھیجتے ہیں۔ ہم دس کروڑ میل دور سورج کے دل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کھربوں گنا چھوٹے ایٹم کے سٹرکچر کو سمجھ رہے ہیں۔ صرف یہی قوانین نہیں، ان کو ڈی کوڈ کر لینا بھی معجزہ ہے اور یہ کھوج خود ایک شاندار کہانی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ عرصہ پہلے میں سٹار ٹریک کے ایک سیزن کا مصنف تھا۔ ایک قسط کی کہانی کے دوران میں پروڈیوسر اور سکرپٹ رائٹر کو اپنے جوش میں سولر ونڈ کی آسٹروفزکس سمجھا رہا تھا۔ نظریں مجھ پر جمی تھیں۔ میں رکا اور اپنے باس کو مسکراتے ہوئے دیکھا لیکن مجھے زبردست جھاڑ پڑ گئی۔

جب میری شرمندگی کم ہوئی تو مجھے سمجھ آیا کہ انہوں نے مجھے فزکس پڑھانے کے لئے نہیں، کہانی لکھنے کے لئے رکھا تھا۔ اس نکتے نے میری بہت مدد کی۔ قدیم زمانے سے آج تک ہم کہانیاں سننے والے ہیں۔ اور یہ ہمارے ذہن تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

غلط ہاتھوں میں سائنس بہت ہی بور اور خشک قسم کی شے بن جاتی ہے۔ لیکن اگر ٹھیک سے بتایا جائے کہ ہم کیا جانتے ہیں اور کیسے جانتے ہیں تو یہ الف لیلہ کی کہانی سے زیادہ دلچسپ ہے۔ دریافتوں کی اقساط، اس زمین کے غاروں سے نکل چاند تک جا پہنچنے کے ہمارے سفر کی داستان، جو سٹار ٹریک کی اقساط سے زیادہ سحرانگیز ہے۔ اس داستان کے کردار، ان کا ولولہ اور ان کی زندگی کی پیچیدگیاں کسی بھی قصہ گو کی کہانی سے کم نہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو ہمیں آج کی سوسائٹی تک لے کر آئے ہیں۔

یہ کیسے ہوا؟ ایک نوع جو بمشکل خود کو شکاری جانوروں سے بچاتی تھی اور جنگلی پھل اور جڑوں کی تلاش میں رہتی تھی۔ اس سے بھاری بھرکم جہاز اڑا لینا، زمین کے دوسرے کنارے تک فوری پیغام رسانی پہنچا دینا، کائنات کے ابتدائی حالات کو لیبارٹری میں بنا دینا اور آپ کا یہ ایک سکرین پر یہ سب کچھ پڑھ لینا ۔۔۔ اس کو جاننا، بطور انسان، اپنی وراثت کو جاننا ہے۔

یہ ایک طویل کہانی ہے۔ کیونکہ یہ انسان کی کہانی ہے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *