جنگ کا توازن (16)۔۔وہاراامباکر

برٹش اچھے حال میں نہیں تھے۔ اگرچہ خوراک کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے علاوہ ان کے لئے صورتحال مخدوش تھی۔ روز کے حملوں اور توپ کے گولوں کے علاوہ ان کا ایک دشمن سورج تھا۔ دہلی کی گرمی میں سورج سے بچنے کے لئے خیموں کے سوا کوئی پناہ نہیں تھی۔ کئی لوگ سن سٹروک سے مارے گئے۔ پانی صرف جمنا نہر سے ملتا تھا اور یہ پانی ہے یا مٹر کی یخنی؟ اس میں فرق معلوم نہیں ہو پاتا تھا۔ سیوریج کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

مرنے والوں کے سیاہ ہوتے اور بدبو دیتے جسم بڑھ رہے تھے۔ علی پور سے کیمپ تک موت ہر صورت میں موجود تھی۔

ایک اور مسئلہ مکھیوں کا تھا۔ خیموں میں، کھانے میں۔ روٹن لکھتے ہیں،
“کھانے کے اوپر مکھیوں کی تہہ ہوتی تھی۔ چائے کا کپ بھی مکھیاں بھنبھناتی رہیتیں۔ اگر احتیاط نہ کریں تو یہ اوپر سے مکھیوں بھر جاتا تھا جو اس کے اوپر تیر رہی ہوتی تھیں۔کچھ مردہ اور کچھ قریب المرگ”۔

چارلس گرفتھ ایک نوجوان لیفٹیننٹ تھے، لکھتے ہیں۔
“آپ کی آنکھ گولے یا بگل کی آواز سے نہیں، مکھیوں کے منہ پر بیٹھنے سے کھلتی تھی۔ مرے ہوئے لوگوں کی لاشیں انہیں مرغوب تھیں۔ ہوا بدبودار تھی، گرمی شدید تھی۔ اور ہمارے کیمپ میں اس وجہ سے روز لوگ مر رہے تھے”۔

یہ مزید خراب اس وقت ہو گیا جب 27 جون کو مون سون کی تیز بارش نے آن لیا۔ برٹش آرمی کیمپ کیچڑ اور بدبودار دلدل بن گیا۔ بچھو اور سانپ بلوں سے نکل آئے۔ رات کی نیند بھی مشکل ہو گئی۔ اور پھر ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی۔ میڈیکل کی سہولیات مفقود تھیں۔ زخمی ہو جانے والے زندہ نہیں بچتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جولائی آیا اور برٹش اپنے کیمپ کو بہتر بناتے گئے۔ ہیضے سے مرنے والوں کی تعداد انقلابیوں کے ہاتھوں مرنے والوں سے زیادہ تھی۔ 5 جولائی کو برٹش آرمی کے کمانڈر انچیف کا انتقال بھی ہیضے کے ہاتھوں ہوا۔ اس سے پہلے جنرل اینسن مئی میں بھی ہیضے سے فوت ہوئے تھے۔ اس بار جرنل برنارڈ کی باری تھی۔ نئے سربراہ جنرل تھامس ریڈ تھے جو دو ہفتوں میں ہی بیمار ہو کر میدان چھوڑ گئے اور قیادت 17 جولائی کو جنرل ولسن کے پاس آ گئی۔

اگلے روز ولسن نے لاہور میں جان لارنس کو خط لکھ کر معاملات کی سنجیدگی کا بتایا اور یہ کہ کسی بھی قیمت پر فوج دہلی بھیجی جائے اور جلد ایسا نہ کیا دہلی میں شکست نظر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ امداد بہت سی چاہیے، جلد چاہیے اور پنجاب سے کمک بھجوائی جائے۔ کم از کم ایک یورپی رجمنٹ، ایک سکھ رجمنٹ اور ایک پنجابی رجمنٹ۔ ورنہ انہیں جلد پسپا ہو کر کرنال کا رخ کرنا پڑے گا اور اگر ایسا ہو گیا تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو گا۔ ( یہ کانفیڈنشل خط ریکارڈ میں محفوظ ہے)۔

ولسن کی مایوسی کی وجہ یکم جولائی کو دہلی میں بریلی بریگیڈ کی آمد تھی۔ اس میں چھ سو آرٹلری، سات سو سوار اور 2300 سپاہی تھے۔ چودہ ہاتھی، تین سو گھوڑے، ایک ہزار بیل گاڑیاں، ٹینٹ، اسلحہ اور سپلائی، خزانہ اور ان کے پیچھے تین سے چار ہزار غازی۔

دو جولائی کو یہ دہلی میں کلکتہ گیٹ سے داخل ہوئے تھے۔ ان کا شاندار استقبال ہوا تھا۔ زینت محل کے والد نواب قلی خان نے مٹھائی اور پھل تقسیم کئے تھے۔ انہوں نے ڈیرہ دہلی دروازے کے باہر جمایا کیونکہ شہر میں ان کے رہنے کی جگہ نہیں تھی۔

بریلی بریگیڈ میں ایک اور بہت اہم چیز لیڈرشپ تھی۔ بڑی بڑی مونچھوں اور لمبی قلموں والے آرٹلری کے صوبیدار بخت خان جنہوں نے انگریزوں کی طرف سے افغانوں کے خلاف جنگیں لڑی تھیں اور ان جنگوں کے ہیرو تھے۔ وہ موثر ملٹری قائد کی شہرت رکھتے تھے۔ بخت خان محاصرہ کرنے والی فوج کے کئی افسران کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ کرنل جارج بورشے نے ان سے فارسی پڑھی تھی۔ دوسرے لیڈر مولوی سرفراز علی تھے۔ انہیں امامِ مجاہدین کہا جاتا تھا۔ دہلی شہر اور دربار کو اچھی طرح جانتے تھے۔ دہلی میں دارالبقا میں جیومیٹری اور الجبرا پڑھاتے رہے تھے۔ بریلی بریگیڈ کے مجاہدین کے سربراہ تھے۔ یہ دو لوگ جہادیوں اور دہلی کی اشرافیہ کو اکٹھا کر سکتے تھے۔

آمد سے اگلے روز بخت خان اور مولوی سرفراز کو محل میں ریاستی پروٹوکول کے ساتھ بلایا گیا۔ یہاں پر انہیں فرزند اور صاحبِ عالم کے خططان ملے اور مرزا مغل کو ہٹا کر بخت خان کو کمانڈر نچیف بنا دیا گیا۔ مرزا مغل کو انتظامی امور دیکھنے کا کام سونپا گیا۔

اگلے دن فوجی اصلاحات کے تھے۔ تنخواہوں کا بندوبست، لوٹ مار کرنے والوں سے بازپرس اور سزائیں، اسلحے کا سٹور سسٹم۔ تین انگریز جاسوس پکڑے گئے اور ان کو سزائے موت دی گئی۔ فوج کے تمام امور شہزادوں سے لے لئے گئے۔ فوجی پریڈ جو دہلی گیٹ سے اجمیری گیٹ تک ہوا کرتی تھی، شروع کی گئی۔

نئی ملٹری سٹریٹیجی آئی۔ فلینک سے حملے کرنے میں تین جولائی کو جزوی ناکامی ہوئی لیکن یہ نیا طریقہ تھا۔ روٹا سسٹم شروع ہوا تا کہ مختلف سپاہی مختلف وقتوں میں کام کریں اور برٹش کو سکون کا سانس نہ لینے دیا جائے۔ فوج کے تین حصے کئے گئے تا کہ باری باری انگریزوں کو الجھایا جائے۔ کوئی دن خالی نہ جائے۔

چند روز میں پانسہ بدل رہا تھا۔ برٹش آرمی تھک چکی تھی، امداد کا انتظار کر رہی تھی، جس کے بغیر مقابلے کی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر بخت خان کے مجسمے کی، جو دہلی کے لال قلعہ میوزیم میں ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *