گرفتاری (25)۔۔وہاراامباکر

ہوڈسن نے ہمایوں کے مقبرے پر پہنچ کر مولوی رجب علی اور مرزا الہی بخش کو بات کرنے اندر بھیجا۔ ان کے ساتھ سکھ رسالدار من سنگھ اور چند محافظ تھے۔ مولوی رجب علی نے یہ مذاکرات کرنے تھے۔ دو گھنٹے بات چیت چلتی رہی اور پھر رسالدار نے آ کر بتایا کہ بادشاہ آ رہے ہیں۔ کچھ تاخیر کے بعد پالکی میں بادشاہ برآمد ہوئے۔ ان کے ساتھ مرزا الہی بخش اور مولوی تھے۔ان کے پیچھے بیگم زینت محل اپنے بیٹے اور والد کے ساتھ۔ پالکی رکی اور ہوڈسن کو پیغام دیا گیا کہ بادشاہ خود ہوڈسن کی زبان سے ضمانت چاہتے ہیں۔ ہوڈسن نے وعدہ کیا کہ جیسے طے ہوا ہے، جان بھی بخشی جائے گی اور بے عزتی بھی نہیں کی جائے گی۔

اس کے بعد سب دہلی روانہ ہو گئے۔ دہلی میں چاندنی چوک سے ہوتے ہوئے قلعے میں داخل ہو گئے جہاں بہادر شاہ اب بادشاہ نہیں، قیدی تھے۔

ہر کوئی رک کر انہیں گھور رہا تھا۔ ایک برٹش سرجن نے اس منظر کو یوں بیان کیا، “وہ ایک بوڑھا شخص تھا جس کے چہرے پر پریشانی تھی جسے اپنے محل کے ملبے سے گزار کر لایا گیا تھا۔ وہ کسی ظالم شخص کا چہرہ نہیں لگتا تھا۔ میری توقع سے بڑا مختلف”۔

ظفر کو زینت محل کی حویلی لے جایا گیا۔ ان کو بدتمیز اور جارحانہ مزاج کوگہل کی تحویل میں دے دیا گیا۔ “میرا دل خوش ہو گیا کہ ہندوستان کا بادشاہ میرا قیدی تھا۔ میں نے اسے خوب گالیاں دیں۔ سوٗر اور دوسرے مناسب القابات سے نوازا۔ پوچھا کہ ہمارے ساتھ اس نے ایسا کیوں کیا۔ وہ چپ کر کے نظریں نیچی کئے سنتا رہا۔ اگر اس نے آنکھ اٹھائی بھی ہوتی تو میں نے اسے گولی مار دینی تھی۔ اس پر دو سنتری مقرر کئے اور انہیں حکم دیا کہ اگر یہ زیادہ چوں چراں کرے تو بے دریغ اسے شوٹ کر دیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح ہوڈسن نے تین شہزادوں کو لینے جانا تھا۔ مرزا الہی بخش نے بتایا تھا کہ وہ وہیں پر ہیں۔ ان تینوں نے انقلاب کے دوران مغل فورسز کی قیادت کی تھی۔ جنرل ولسن نے ہوڈسن کو کہا کہ شہزادوں کے ساتھ جو مرضی سلوک کریں۔ صبح آٹھ بجے مولوی رجب اور مرزا الہی بخش کے ساتھ ہوڈسن پھر نکلے۔ ان دونوں کو مذاکرات کے لئے اندر بھیجا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد شہزادوں نے ہوڈسن کو پیغام بھیجا کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہیں اگر ان کی جان بخشی کا وعدہ کیا جائے۔ ہوڈسن نے کہا کہ “نہیں، کوئی گارنٹی نہیں۔ غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈالنے ہوں گے”۔ انتظار بڑھتا گیا۔

یہ جگہ دہلی سے چھ میل دور تھی۔ ہوڈسن کے پاس سو سپاہی تھے۔ اس احاطے میں تین ہزار مسلمان۔ اگر بزور لے جانے کی کوشش کی جاتی تو شاید ہی ہوڈسن بچ پاتے۔ اس لئے وہ امید کر رہے تھے کہ مرزا الہی بخش اور مولوی رجب قائل کر لیں گے۔ طویل بات چیت کے بعد شہزادوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ شہزادوں کو ایک رتھ پر سوار کیا گیا جس کو بیل کھینچ رہے تھے۔ پانچ فوجی ایک طرف، پانچ دوسری طرف۔ سب دہلی روانہ ہو گئے۔

دہلی کے پاس پہنچے تو لوگوں کا کچھ مجمع تھا۔ ہوڈسن نے یہاں پر رتھ رکوائی۔ تینوں کو رتھ سے اترنے کو کہا اور پھر انہیں جسم کے تمام کپڑے اتارنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ایک ریوالور نکالا اور ان کے سینے میں دو دو گولیاں اتار دیں۔ پھر لاشوں کے پاس جا کر بازوبند اور انگوٹھیاں اتاریں اور اپنے پاس رکھ لیں اور ان کی تلواریں بھی۔ اگلے روز اپنی بہن کو ہوڈسن نے خط لکھا۔
“یہ ایک تھکا دینے والی مہم تھی لیکن یہ اس کا بہترین وقت تھا۔ میں نے اپنی نسل کے دشمنوں کو مار دیا تھا۔ یہ ہماری قوم کے لئے خوشی کی گھڑی تھی۔ میں ظالم نہیں لیکن یہ تسلیم کرتا ہوں یہ زمین کو ان کے بوجھ سے نجات دلوا کر بہت خوشی محسوس ہوئی تھی”۔

شہزادوں کی برہنہ لاشیں کوتوالی کے آگے رکھ دی گئیں جہاں برٹش فوجیوں کی ان کو دیکھنے کے لئے قطار لگنے لگی۔ ہوڈسن کو شاباشیں ملنے لگیں۔

ہوڈسن نے جو کیا، اس پر بعد میں انکوائری کی گئی۔ نہیں، اس پر نہیں کہ شہزادوں کو کیوں مارا۔ اس پر کہ بہادر شاہ ظفر کی زندگی بچنے کی گارنٹی کیوں دی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دوران متجسس برٹش فوجی قید بادشاہ کو دیکھنے آ رہے تھے جو اپنی بیوی کی حویلی میں بیٹھے تھے۔ ایک افسر کے مطابق “جیسے پنجرے میں درندہ بند ہو”۔ ایک افسر نے گھر خط میں لکھا، “ہم بادشاہ کو مجبور کرتے کہ کھڑے ہو کر ہمیں سلام کرے”۔

جب بہادر شاہ ظفر کو تین شہزادوں کے ہلاک ہونے کی خبر دی گئی تو انہوں نے کوئی تاثر نہیں دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب شہر کی باری تھی۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *