کامن سینس اور نصیب اپنا اپنا۔ شاداب مرتضی

سادہ سی بات ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے نہ دماغ پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت ہے اور نہ تحقیق کو کھنگالنے کی۔ آپ اسے کامن سینس کی بات بھی کہہ سکتے ہیں۔ بات کا پس منظر یہ ہے کہ لینن کے انتقال کے تین سال بعد عالمی جنگ، 14 ملکوں کی افواج کے حملوں اور خانہ جنگی کے بعد 1927 میں سوویت یونین کی معاشی حالت 1917 کی سطح پر پہنچی تھی۔ صرف 8 سال میں یعنی 1935 تک سوویت یونین نہ صرف بنیادی صنعتکاری کر چکا تھا بلکہ زراعت کی اجتماع کاری اور اسے مشینی بنانے کا عمل بھی تیزی سے جاری تھا۔ سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور امیر کسان طبقوں کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ خواندگی کی شرح تقریباً  ننانوے فیصد ہوچکی تھی۔ بیروزگاری ختم ہو چکی تھی۔ تعلیم اور رہائش مفت اور عام ہو چکی تھی۔ عورتوں کا استحصال اور جسم فروشی ختم ہوچکی تھی۔ اور یہ سب کرنے کے ساتھ ساتھ سوویت یونین صنعتی طور پر اس قابل ہو چکا تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں اسے نہ خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑا نہ ہی اس کے جدید ترین جنگی سازوسامان میں کوئی کمی آئی۔

دوسری عالمی جنگ جیتنے کے بعد 5 سال کے اندر سوویت یونین نے اپنی جنگی تباہی اور نقصان کا ازالہ کر لیا اور اس کی پیداوار سو فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ اس دوران سوویت یونین دنیا بھر کے محکوم اور پسماندہ ملکوں کو معاشی، سیاسی، سماجی، عسکری اور تیکنیکی امداد فراہم کرتا رہا جس کے نتیجے میں دنیا سے کالونیل ازم کا خاتمہ ہوا، درجنوں پسماندہ اور محکوم ملک امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور جرمن سرمایہ داروں کی غلامی سے آزاد ہوئے اور تین درجن کے قریب ملکوں میں سوشلسٹ حکومتیں قائم ہوئی۔ اس دوران 1924 سے لے کر دوسری عالمی جنگ تک عالمی فٹ پاتھ پر بیٹھے لبرل، عقیدہ پرست، نام نہاد مارکسسٹ اور سوشلسٹ تماش بین سینہ کوبی اور ماتم کرتے ہوئے ساری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے کہ لینن کی موت کے بعد اسٹالن نے روسی سوشلسٹ انقلاب کو برباد کردیا۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں کو قتل کرا دیا، روس کے شہریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے، کڑوڑوں لوگوں کو عقوبت خانوں میں سڑا کر مار ڈالا، اقلیتی آبادیوں کا ناطقہ بند کردیا، عورتوں کے حقوق چھین لیے، اختلافِ رائے اور جمہوری آزادیوں کو سلب کر لیا، علوم و فنون اور سائنس کو دیس نکالا دے دیا وغیرہ وغیرہ۔

الغرض ہر برا، ناجائز اور ظالمانہ کام جس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے اسٹالن کو سوویت یونین میں اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کامن سینس کی بات جو ہم پوچھنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسا کس طرح ممکن ہے کہ ایک طرف اسٹالن سوویت یونین کے لوگوں کو اپنی مجنونانہ، خون آشام آمریت کے کولہو میں پیس رہا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر دوسری جانب سوویت یونین کے محنت کش عوام نہ صرف دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے تھے بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کی مدد کر رہے تھے؟!

اس کامن سینس سوال کا سب سے عمدہ جواب دینے کے لیے ٹراٹسکائیٹوں نے ایک سائنسی تھیوری ایجاد کی ہے جس کے مطابق سوویت یونین نے اسٹالن کے آمریتی دور میں جو ترقی کی اس کا زرا سا بھی کریڈٹ اسٹالن کو نہیں جاتا کیونکہ یہ منصوبہ بند معیشت کا کارنامہ تھا! گویا ایک جانب سوویت یونین میں اسٹالن کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہ ہلتا تھا، سوویت یونین کے ہر شخص کی زندگی کا فیصلہ اسٹالن کرتا تھا لیکن دوسری جانب منصوبہ بند “سوشلسٹ” معیشت کے  ذریعے سوویت یونین کے محنت کش عوام اسٹالن کے عزائم و جبر کے عین برخلاف دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے تھے! اس تھیوری کو آسان زبان میں بیان کرنے کے لیے اردو میں ایک محاورہ ہے: چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ اگر اس کامن سینس کی بات کو سمجھ لیا جائے تو سوویت یونین کی تاریخ کے بارے میں سرمایہ دارانہ  ذرائع ابلاغ اور کمیونسٹ تحریک میں موجود ان کے بغل بچوں، خصوصا ٹراٹسکی ازم، کی جانب سے منظم انداز سے پھیلائے گئے اینٹی کمیونسٹ رجحان سے متاثر ہونے سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔

 

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *