شینن وسنانٹ نے 2007 میں نیلامی میں باربی کیو گرل خریدی۔ یہ نیلامی ایک سٹوریج کمپنی کر رہی تھی۔ یہ کمپنی لوگوں کو چیزیں رکھنے کے لئے کرائے پر جگہ دیتی تھی۔ جن لوگوں نے دیر سے کرایہ ادا نہیں← مزید پڑھیے
کارگل جنگ کے بعد پاکستان بھارت مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد 2002 میں پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر تھے۔ لیکن 2004 میں واپس مذاکرات کی میز پر واپس آ چکے تھے۔ انڈیا کی ہارڈلائن← مزید پڑھیے
کشمیر کے تنازعے پر دوسری پاک بھارت جنگ جولائی 1965 میں آپریشن جبرالٹر سے شروع ہوئی۔ پاکستان نے 1000 سے 1200 تک کے نیم فوجی دستے انڈین کشمیر میں بھیجے۔ اس آپریشن کی پلاننگ بہت اچھی نہیں کی گئی تھی۔← مزید پڑھیے
مارچ 1950 میں اقوامِ متحدہ سیکورٹی کونسل نے آسٹریلین ہائی کورٹ کے مشہور جج سر اوون ڈکسن کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھیجا۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ انڈیا اور پاکستان کے مختلف اعتراضات اور اختلافات کو← مزید پڑھیے
یہ بڑا علاقہ ہے جس کا دارلحکومت گلگت کا شہر ہے۔ یہاں کے شہری 1947 میں پروپاکستانی تھے۔ مہاراجہ کے انڈیا کے ساتھ الحاق کے خلاف گلگت سکاوٗٹس نے یہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ اس کے بعد اس← مزید پڑھیے
آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے شیڈول تھری کے تحت پاکستان کے پاس اہم معاملات کے اختیارات ہیں جبکہ نچلی سطح کے اختیارات آزاد کشمیر کے پاس ہیں۔ آزاد کشمیر کونسل کے چئیرمین پاکستان کے وزیرِ اعظم ہوتے ہیں۔ ممبران← مزید پڑھیے
ریاست کے پاکستان کی طرف آنے والے دو حصے سیاسی طور پر الگ رہے ہیں۔ یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔ ان حصوں کے درمیان ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں۔ سوشل، کلچرل یا معاشی تعلقات نہیں۔ ان دونوں علاقوں کے شہری← مزید پڑھیے
انڈیا کے کشمیریوں کے بارے میں بھروسہ نہ ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ واضح طور پر بہت سے کشمیری 1947 میں پاکستان سے الحاق کے حق میں تھے۔ وادی میں 1988 میں چھڑنے والی بغاوت بھی واضح کرتی← مزید پڑھیے
یکم جنوری 1949 کی جنگ بندی کے بعد ریاست پانچ الگ حصوں میں بٹ گئی۔ آزاد جموں و کشمیر، جموں، وادی کشمیر، لداخ اور شمالی علاقہ جات (جو اب گلگت بلتستان کہلاتے ہیں)۔ لائن آف کنٹرول اس کو تقسیم کرتی← مزید پڑھیے
جب ہری سنگھ نے الحاق کیا تو اس کو تسلیم کرتے ساتھ ساتھ ہی انڈیا کی لیڈرشپ نے استصوابِ رائے کی بات شروع کر دی۔ اس کا آئیڈیا یہ تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام ووٹ دے کر فیصلہ← مزید پڑھیے
الحاق کے اعلان کے فوری بعد گلگت ایجنسی کے مسلمانوں نے آزاد کشمیر کی طرز پر ہری سنگھ کی فورس سے بغاوت کر دی۔ 17 جولائی کو جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم نے اعلان کیا تھا کہ مہاراجہ کی← مزید پڑھیے
جموں و کشمیر کی صورتحال میں بڑی تبدیلی 22 اکتوبر 1947 کو آئی۔ اس روز تین ہزار پختون قبائلی کشمیر میں داخل ہوئے۔ پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ رضاکار تھے۔ ان کو پاکستان نے گزرنے تو دیا تھا← مزید پڑھیے
ہری سنگھ اچھے منتظم کی شہرت رکھتے تھے لیکن وہ برِصغیر میں ہونے والی تبدیلیوں سے اچھی آگاہی نہیں رکھتے تھے۔ مختلف اطراف سے آنے والے پریشر کا شکار ہری سنگ تذبذب کا شکار تھے۔ ان کی آزاد ریاست کی← مزید پڑھیے
آج جب ہم بادی النظر میں الحاقِ کشمیر معاملے کو پاکستان کے نکتہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہ کہنا آسان ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے اس ریاست کو پکا ہوا پھل سمجھا تھا جو جھولی میں گر← مزید پڑھیے
مہاراجہ ہری سنگھ کے لئے کرنے کے لئے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ شاید، ان کی خواہش “ڈوگرستان” بنانے کی تھی جس میں جموں، کشمیر، کانگرا، مشرقی کاٹھوا شامل ہوں۔ کشمیر کے اہم سیاستدان شیخ عبداللہ کسی سے الحاق کے حق← مزید پڑھیے
جب پاکستان بنا تو بلوچستان کے چار حصے تھے۔ پہلا حصہ برطانوی بلوچستان کہلاتا تھا۔ اس میں شمالی بلوچستان کے پختون علاقے اور چاغی تھا۔ دوسرا لیزڈ علاقے جن میں کوئٹہ، نوشکی اور نصیرآباد تھے۔ تیسرا گوادر کا علاقہ جو← مزید پڑھیے
مسلم لیگ کا موقف زیادہ سے زیادہ حصے کو پاکستان کا علاقہ بنانے کا تھا۔ زیادہ سے زیادہ میں غیرمنقسم پنجاب (جس میں امرتسر بھی تھا)، غیرمنقسم بنگال (جس میں کلکتہ بھی تھا)، شمال مغربی سرحدی صوبہ، بلوچستان اور سندھ← مزید پڑھیے
لندن میں بادشاہ جارج ششم نے 18 جولائی 1947 کو آزادی ہند ایکٹ پر دستخط کر دئے۔ برٹش کا انڈیا چھوڑ جانا طے ہو گیا۔ پہلے اس خطے کو دو نئے ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ بھارت اور پاکستان۔ اس← مزید پڑھیے
دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ برٹش راج خاتمے کو ہے۔ 1947 کے آغاز میں یہ ظاہر تھا کہ انڈین سیاستدانوں کو برٹش انڈیا کے بارے میں فیصلے لینے ہیں۔ اور نوابی ریاستوں کے← مزید پڑھیے
کشمیر کی 1931 میں ہونے والی بغاوت تو فرو کر دی گئی لیکن دہلی حکومت اور برٹش ریزیڈنٹ کی طرف سے مہاراجہ پر اصلاحات کا شدید دباوٗ آیا۔ اس کے نتیجے میں بادلِ نخواستہ کچھ اختیارات پرجا کے سپرد کرنے← مزید پڑھیے