کشمیر ۔ آزاد کشمیر کا قیام (25)۔۔وہاراامباکر

ہری سنگھ اچھے منتظم کی شہرت رکھتے تھے لیکن وہ برِصغیر میں ہونے والی تبدیلیوں سے اچھی آگاہی نہیں رکھتے تھے۔ مختلف اطراف سے آنے والے پریشر کا شکار ہری سنگ تذبذب کا شکار تھے۔ ان کی آزاد ریاست کی امید بالکل غیرحقیقی تھی۔ برٹش، انڈین، پاکستانی، غالباً کشمیریوں کی اکثریت اور بعد میں اقوامِ متحدہ کا خیال یہی تھا کہ پوری ریاست کو بالآخر پورے کا پورا یا تو پاکستان کے ساتھ مل جانا چاہیے یا بھارت کے ساتھ۔ اور یہ تصور کہ کشمیر کا معاملہ صرف ایک یونٹ کی صورت میں ہی طے ہو سکتا ہے، بعد میں اس مسئلے کے حل کے لئے رکاوٹ بن گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جب ہم دیکھتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ناقابلِ عمل تھا۔ کشمیر میں قومیتوں، کلچرل اور سوشل تنوع تھا۔ جغرافیے اور تجارتی روابط میں علیحدگی تھی۔ مذہبی پیچیدگیاں تھیں۔ تاریخی مسائل تھے۔ اور ان کی کوئی خاص سیاسی یکجائی نہیں تھی۔ اور نہ ہی یہاں پر موجود سیاسی قوتوں کی کوئی ایک رائے تھی۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو عوامی اعتماد حاصل نہیں تھا۔ اپنے لوگوں میں مقبول نہیں تھے جس کی بنیاد پر کوئی مضبوط پوزیشن لے سکتے۔
برِصغیر کو آزادی مل چکی تھی۔ مہاراجہ کی پولیس اور فوج کے لئے اپنے لوگوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ریاست پارہ پارہ ہو گئی۔ 15 اگست سے 26 اکتوبر کے درمیان ریاست کے شہریوں نے کئی اہم اقدامات اٹھائے جس نے ریاست کو توڑ دیا۔
گلگت مہاراجہ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ پونچھ میں مہاراجہ کے خلاف بغاوت ہو گئی۔ جموں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے اور کشمیر کا پرو پاکستان علاقہ مہاراجہ کے راج سے آزاد کروا لیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کشمیر کا تنازعہ کسی بیرونی قوت نے نہیں، کشمیریوں نے شروع کیا تھا۔ اس بارے میں انڈیا کا بیرونی مداخلت کا الزام تاریخی طور پر درست نہیں اور حیرت انگیز طور پر پاکستان نے کبھی اس انڈین الزام کی تردید نہیں کی۔ پاکستان میں بھی عام تصور یہی ہے کہ قبائلی لشکر اور رضاکار فورسز نے کشمیر کو “آزاد” کروایا۔ یہ تصور غلط ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پونچھ جاگیر کے رہائشیوں کو جنگِ عظیم دوئم لڑنے کا تجربہ تھا۔ یہاں سے پچاس ہزار لوگ فوج میں گئے تھے۔ یہاں پر مظاہرے ٹیکس کے خلاف شروع ہوئے اور بہت جلد مہاراجہ کے خلاف بغاوت کا روپ دھار لیا۔ ان کو راجہ کی فوج کا جابرانہ طریقہ پسند نہیں تھا اور ان کی خواہش پاکستان کے ساتھ ملنا تھی۔ پونچھ کے باغی ایک مسلح ملیشیا کی صورت میں اکٹھے ہو گئے۔ ان کا ساتھ دینے ہمسایہ میرپور سے دوسری کشمیری علاقوں کے مسلمان آ گئے جو مہاراجہ کے خلاف تھے۔ جموں و کشمیر حکومت نے پاکستان پر الزام لگایا۔ آنے والوں میں کچھ پاکستانی بھی تھے، اگرچہ ان کی تعداد بہت کم تھی۔ یہ آزاد فورسز کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ پاکستان نے انڈیا کے لگائے گئے الزام سے (درست) انکار کیا کہ ان کی کوئی براہِ راست موجودگی نہیں۔ پاکستان نے انڈیا پر بھی یہی الزام لگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جموں میں ستمبر اکتوبر میں شدید ہندو مسلم فسادات چھڑ گئے۔ ان کا موضوع بھی انڈیا یا پاکستان سے الحاق تھا۔ پھر اپنی ذاتی جھگڑے نمٹائے گئے۔ ہندو اور سکھ اکثریت نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا قتل کیا۔ یہ تقسیمِ ہند کے بعد پنجاب میں جاری فسادات کی ایکسٹنشن تھی۔ اس قتلِ عام میں مہاراجہ کی فوج نے بھی حصہ لیا۔ اور گجرات سے آنے والے ساٹھ ہزار ہندووٗں نے بھی۔ انتہاپسند ہندو اور سکھ جتھوں نے بھی جو پٹیالہ سے آئے تھے۔ (پٹیالہ نوابی ریاست تھی جس کے حکمران ہری سنگھ کے اچھے دوست تھے)۔ جموں میں قتل کر دئے جانے والے مسلمانوں کی تعداد بیس ہزار سے ایک لاکھ کے بیچ رہی تھی۔ جبکہ اغوا، ریپ اور زخمی ہو جانے والے اس کے علاوہ تھے۔ چار لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی جس میں ڈیڑھ لاکھ آزاد کشمیر میں مہاجرین بنے۔
مغربی جموں میں، میرپور اور پونچھ جاگیر میں قتل ہونے والے ہندو اور سکھ تھے۔ یہاں پر قتل اور ریپ کئے گئے اور نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ مظفر آباد، پونچھ اور میرپور میں غیرمسلموں کی تعداد 1941 کی مردم شماری میں 114,000 تھی۔ جبکہ 1951 میں یہ تعداد صرف 790 رہ گئی تھی۔
تاہم اس وقت وادی کشمیر میں، لداخ میں یا گلگت یا بلتستان کے علاقے میں کسی قسم کا کوئی فساد نہیں ہوا یا کوئی مذہبی کشیدگی نہیں ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکتوبر 1947 میں کچھ مسلمانوں نے ہری سنگھ سے آزاد کردہ علاقے میں حکومت بنانے کی کوشش کی۔ (یہ ویسا ہی کیا گیا تھا جیسے جوناگڑھ میں)۔ اس میں ناکامی ہوئی۔ لیکن دوسری کوشش کامیاب رہی اور 24 اکتوبر کو “عبوری حکومت” قائم کر دی گئی۔ اس سے صرف دو روز پہلے پختون قبائلیوں کا ایک لشکر کشمیر میں داخل ہوا تھا۔ مسلم کانفرنس کی طرف سے جموں و کشمیر اسمبلی کے ممبر سردار ابراہیم اس کے پہلے صدر بنے۔ نئی انتظامیہ اس وقت تک کے لئے بنائی گئی تھی جب تک ریاست کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ یہ آزاد جموں و کشمیر کا قیام تھا۔ یہاں پر “آزاد” کا مطلب خودمختار نہیں تھا۔ بلکہ مہاراجہ سے آزاد تھا۔ اس حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ تمام کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس سے دو روز بعد چھبیس اکتوبر کو مہاراجہ نے انڈیا سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ تو آزاد کا مطلب خود بخود انڈیا سے آزاد ہو گیا۔ تب سے لے کر آج تک یہ ایسا ہی ہے۔
مہاراجہ کا اپنی ریاست کے بڑے علاقے پر قبضہ نہیں رہا تھا۔ جب مہاراجہ نے انڈیا سے الحاق کیا تو یہ فیصلہ حالات کی وجہ سے لیا تھا کیونکہ انڈیا ملٹری کی مدد درکار تھی۔ پختون لشکر کی آمد کے بعد یہ زیادہ ضروری ہو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہری سنگھ نے اپنا کارڈ اچھا نہیں کھیلا۔ وقت ضائع کرتے کرتے اپنی اہمیت کھو چکے تھے اور غیرمتعلقہ ہو رہے تھے۔ پرو پاکستان سائیڈ پر ان کا کنٹرول نہیں رہا تھا۔ پرو انڈیا سائیڈ پر بھی امن و عامہ کے قیام میں ناکام رہے تھے۔ کشمیر میں پختون لشکر کے خلاف کشمیریوں نے خود پیپلز ملیشیا بنائی تھی تا کہ اپنا اور اپنی پراپرٹی کا دفاع کر سکیں۔
انڈیا سے رسمی الحاق کے بعد اب یہ کھیل انڈیا کے پاس تھا۔ دہلی نے 27 اکتوبر کو افواج بھیج دیں۔ مہاراجہ کا انتظامیہ میں کردار نہیں رہا تھا۔ وہ اب عملاً سابقہ حکمران بن چکے تھے۔ ڈوگرا راج ریاست جموں و کشمیر میں اختتام کو پہنچ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہلی کے ہاتھ میں وہ دستاویز تھی جس کی انہیں خواہش تھی۔ تقسیمِ ہند کے اصولوں کے مطابق انڈیا پوری ریاست کا انچارج تھا۔ 29 اکتوبر کو ہری سنگھ کی سربراہی میں ایمرجنسی ایڈمنسٹریشن بنائی گئی۔ اس میں مہاراجہ کے تلخ حریف شیخ عبداللہ بھی شامل تھے۔
اس کے بعد ہری سنگھ کا زوال تیز
ی سے آیا۔ مارچ 1948 میں شیخ عبداللہ وزیرِ اعظم بن گئے۔ ہری سنگھ کے ایک نمائندے کو اسمبلی میں جگہ ملی۔ جون 1949 میں ہری سنگھ نے اپنی بچی کھچی اتھارٹی اپنے اٹھارہ سالہ بیٹے کرن سنگھ کے سپرد کر دی۔ ہری سنگھ کشمیر چھوڑ گئے اور پھر کبھی واپس نہیں لوٹے۔ نومبر 1952 میں ڈوگرا راج رسمی طور پر ختم کر دیا گیا۔ یہ 106 سال جاری رہا تھا۔ کرن سنگھ کو ریاست کا آئینی سربراہ بنا دیا گیا۔ 1967 تک وہ اس عہدے پر رہے۔ اگرچہ خیال تھا کہ یہ نمائشی عہدہ ہے لیکن کرن سنگھ نے شیخ عبداللہ کو 1953 میں برطرف کر دیا۔
ہری سنگھ کا انتقال ممبئی میں 1961 میں ہوا۔ ان کی دلچسپی گھوڑوں کی ریس دیکھنے میں رہی۔ ان کے دوستوں یا فیملی کے علاوہ شاید ہی کوئی آنکھ اشکبار ہوئی ہو گی۔

Advertisements
merkit.pk

(جاری ہے)

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply