کشمیر ۔ گلگت بلتستان (33)۔۔وہاراامباکر

یہ بڑا علاقہ ہے جس کا دارلحکومت گلگت کا شہر ہے۔ یہاں کے شہری 1947 میں پروپاکستانی تھے۔ مہاراجہ کے انڈیا کے ساتھ الحاق کے خلاف گلگت سکاوٗٹس نے یہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ اس کے بعد اس علاقے پر پاکستان سے براہِ راست حکومت کی جاتی رہی۔ فیصلہ ساز زیادہ عرصہ بیوروکریٹ رہے۔
جب کشمیر میں جنگ بندی ہوئی تو نئی سرحد نے گلگت تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ توڑ دیا۔ یہ برزل پاس کے ذریعے گلگت کو سرینگر سے ملاتا تھا۔ اس کے بعد یہاں پہنچنے کا راستہ ایبٹ آباد اور راولپنڈی سے براستہ مانسہرہ بابوسر کے پاس سے جیپ کے ذریعے تھا۔ یا پھر اتنا ہی مشکل دوسرا راستہ پشاور اور چترال کے ذریعے سے تھا۔ ٹیلی گراف کا رابطہ بھی سری نگر سے تھا جو اس کے بعد منقطع ہو گیا۔
سکردو کے لئے صورتحال مزید مشکل تھی۔ یہاں پر روایتی روابط کارگل سے تھے۔ جنگ بندی کے بعد یہ تنہا رہ گیا۔ یہاں کا راستہ گلگت سے بھی زیادہ دشوار تھا۔ فضائی راستہ مہنگا تھا اور محدود پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ پاکستان نے راولپنڈی سے گلگت تک انڈس ویلی روڈ تعمیر کی۔ اس نے گلگت اور سکردو کے لوگوں کی زندگی آسان کی۔ اس کے بعد 1978 میں کھلنے والی قراقرم ہائی وے رابطوں کے لئے بڑی پیشرفت تھی۔ ارضیاتی لحاظ سے اس قدر متحرک اور دشوار راستے پر یہ سڑک بلاشبہ انجنیرنگ کا ایک عجوبہ ہے، جس کی تعمیر کیلئے چینی اور پاکستان معماروں نے بڑی تعداد میں اپنی جانیں گنوائیں۔
شمالی علاقہ جات میں انتظامی صورتحال 1971 سے 1977 کے عرصے میں بہتر ہوئی۔ ہنزہ اور نگر کے مقامی حکمرانوں کی مراعات ختم کی گئیں۔ فرنٹیر کرائم ریگولیشن کے قوانین ختم ہوئے۔ اس علاقے کو جدید پاکستان کے طریقے سے منظم کیا گیا۔ 1972 میں گلگت ایجنسی اور بلتستان ایجنسی کو ضم کر کے ایک یونٹ بنا دیا گیا۔ تیسرا ڈسٹرکٹ دیامیر بنایا گیا۔ ہر ایک کا سربراہ ایک ڈپٹی کمشنر تھا۔
یہ پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں شیعہ آبادی کی اکثریت ہے۔ مختلف وقتوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ناخوشگوار واقعات بھی ہوتے رہے ہیں۔ مقامی آبادی کا مطالبہ اس کو پانچواں صوبہ بنانے کا رہا ہے۔ تاہم تنازعہ کشمیر کی وجہ سے ایسے کسی مطالبے کو قبول نہیں کیا گیا۔
کچھ حلقوں نے بلورستان بنانے کی بات کی۔ اس کا مطلب “پہاڑوں کا دیس” ہے۔ اس تصور کے مطابق پختونخواہ سے چترال اور کوہستان، گلگت اور بلتستان کو ایک خودمختار علاقہ بنایا جائے۔ (ظاہر ہے کہ پاکستان نے اس کی حمایت نہیں کی)۔
یہاں پر پانی ذخیرہ کرنے کے مستقبل کے بہت بڑے منصوبے بھی ہیں جن میں ایک دریائے سندھ پر دیامیر بھاشا ڈیم ہے جو گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کی سرحد پر ہے۔ یہ پانی کے بڑے ذخیرے کے علاوہ 4500 میگاواٹ کی بجلی پیداوار کا منصوبہ ہے۔ ایک اور بڑا پراجیکٹ بنجی ہائیڈروپاور پراجیکٹ ہے جس کی برقی پیداوار 7200میگاواٹ ہو گی۔ دونوں منصوبوں کے لئے چین کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔ انڈیا نے ان دونوں منصوبوں پر 2006 اور 2009 میں اعتراضات کئے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ پاکستان انڈیا کی قبضہ کردہ زمین پر یہ بنا رہا ہے۔ پاکستان نے 2009 میں بنجی ڈیم پر اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو آزاد جموں و کشمیر پر بنجی ڈیم پر اعتراض کرنے کا حق نہیں۔ یہ سرکاری طور پر جاری کردہ بیان میں حیران کن حد تک فاش غلطی تھی کیونکہ یہ علاقہ آزاد جموں و کشمیر میں نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ بھی شاید خود اپنے علاقوں کے بارے میں اچھا علم نہیں رکھتی۔
یہ علاقہ اس لحاظ سے منفرد رہا کہ یہ پاکستان کا واحد علاقہ تھا جہاں کے رہائشیوں کو بہت طویل عرصے تک ووٹ کا حق نہیں دیا گیا۔ پاکستان سپریم کورٹ نے 1999 میں فیصلہ دیا تھا کہ اس علاقے کے لوگوں کو باقی ملک کی طرح باقاعدہ شہریت اور ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔ لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بالآخر، ستمبر 2009 میں پاکستان نے اس علاقے میں جمہوری سیاسی نظام پہلی بار متعارف کروایا۔ یہ نظام آزاد کشمیر کے نظام سے قریب تر تھا۔ 2009 میں جاری ہونے والے “گلگت بلتستان آرڈر” میں علاقے کا نام گلگت بلتستان کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ طویل مدت تک ہونے والی بحث کے بعد لیا گیا۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی اجازت دی گئی۔ اس میں علاقے میں گورنر کا آفس تخلیق کر دیا گیا۔ 33 ممبران پر مشتمل اسمبلی بن گئی۔ 61 امور کی فہرست بنا دی گئی جس پر فیصلہ کرنے کا اختیار اس اسمبلی کے سپرد ہوا۔ گلگت بلتستان کونسل تشکیل دی گئی۔
اس علاقے میں آزاد کشمیر کے برعکس امیدواروں کو یہ حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی ہیں۔ خودمختاری کے حق میں بلورستان نیشنل فرنٹ کو بھی سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح صرف پاکستان سے وفاداری کے حلف کی ضرورت ہے۔
نومبر 2009 میں پہلے انتخابات منعقد ہوئے۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ پاکستان کی تمام اہم سیاسی جماعتوں نے بھرپور طریقے سے انتخاب میں شرکت کی۔ باقی پاکستان میں مضبوط سیاسی جماعتیں ہی یہاں پر مقبول رہیں۔ پہلا انتخاب پاکستان پیپلز پارٹی نے جیت لیا اور سکردو سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ 2015 کے انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) جبکہ 2020 میں پاکستان تحریکِ انصاف نے کامیابی حاصل کی۔
گلگت بلتستان کے شہریوں کا مطالبہ باقاعدہ صوبہ بنائے جانے کا یا انتظامی خودمختاری کا رہا ہے لیکن ایسا ہونے کا جلد امکان نہیں ہے۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply