ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط6

سن چھیالیس کے آخری مہینے میں جگن ناتھ آزاد ایک دن راجہ بازار میں تیز تیز قدموں سے جاتے ہوئے نظر آ گئے۔ میں پیچھے ہو لیا، کہ کہیں ٹھہریں گے تو بات کروں گا۔ جاتے جاتے بازار تلواڑاں کی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ قسط 5۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں گورڈن کالج راولپنڈی میں منشی تلوک چند مرحوم سے ملنے کے لیے ایک مذہبی فریضے کی طرح جانے لگاَ میں ہر دوسرے تیسرے دن، اسی وقت جب وہ لان میں کرسی پر بیٹھے ہوئے اخبار پڑھ رہے ہوتے۔ مجھے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،نیا روپ .ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔ قسط4

1945ء تک نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔۔اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تین برسوں کے اس عرصے کے دوران میں کوٹ سارنگ صرف دو بار جا سکا،←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط3

تب پہلی بار دس برس کے بچے یعنی مجھے یہ غیر مرئی طور پر محسوس ہوا کہ یہ سفر ہجرتوں کے ایک لمبے سلسلے کی ابتدا ہے۔ میں کوٹ سارنگ آتا جاتا رہوں گا، لیکن اب میں پردیسی ہو چکا←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی کا نیا روپ۔قسط2/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1939ء گاؤں کے باہر مائی مولے والی بنھ (پانی کے باندھ کا پنجابی لفظ)۔ ایک جھیل ہے جس میں آبی پرندے تیرتے ہیں۔ میں کنارے کے ایک پتھر پر پانی میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ مرغابیاں بولتی ہیں، تو میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی، کانیا روپ،قسط1۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1937ء مجھے چاچا بیلی رام اسکول داخل کروانے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ میں سفید قمیض اور خاکی رنگ کا نیکر پہنے ہوئے ہوں۔ ایک ہاتھ میں گاچی سے پُچی ہوئی تختی ہے، دوسرے میں ایک پیسے میں خریدا←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (32)ہست اور نیست

ہست اور نیست (ایک) پس منظر سانپ کے ڈسنے سے ج�آانند نیلا پڑ گیا، تو بھکشوؤں نے ماتمی چادر سے اس کو ڈھک دیا تھا پھر یکا یک اس ن�آنکھیں کھول دیں اور واپس آ گیا تھا زندہ لوگوں کے←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (31)…….سلسلہ سوالوں کا

سلسلہ سوالوں کا (آنند : بھوج پتر پر کیوں لکھتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھوج پتر: (درخت کی چھال سے بنائے گئے مخطوطات اپنے دھرم گرنتھ ہم سارے؟ تھاگت : تا کہ آنے والی نسلیں ان کو پڑھ کر سیکھ سکیں وہ سب←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم(29)…زنخا بکھشو 2

زنخا بھکشو دوسری اور آخری قسط گزشتہ قسط کا آخری بند یہ تھا ………………………………….. رو پڑا وہ سسکیوں کے بیچ میں اتنا کہا پھر پچھلے دو جنموں میں بھی میں اک نپُنسک ہی تھا ، سوامی ن پُ ن س←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (28)۔۔۔۔زنخا بھکشو

اور پھر جس شخص کو آنند اپنے ساتھ لے کر بُدھّ کی خدمت میں پہنچا اُس کا حلیہ مختلف تھا سر پہ لمبے بال تھے، ہاتھوں میں کنگن اور کانوں میں جھمکتی بالیاں تھیں صنفِ نازک کی طرح ۔۔ پر←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم 27..تیسری کتاب..3

تتھاگت نظم 27..تیسری کتاب..3 ’’دو کتابوں کا تو میں احوال نامہ دے چکا ہوں یاد ہے، وہ کیا تمہیں ، بھکشو؟‘‘ مسکرا کر، پیار سے، (لیکن تمسخر سے نہیں) آنند سے پوچھا تتھا گت نے ۔۔۔ تو بھکشو کے لبوں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم(26)..تین کتابیں۔ نظم ۲

تتھا گت نظمیں تین کتابیں۔ نظم ۲ سلسلہ کے لیے دیکھیں۔ نظم نمبر ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دوسری پستک بھلا کیا ہے، تتھاگت؟‘‘ ’’دوسری پستک ہے اُن کا دھرم، مذہب جس سے پیوستہ ہیں صدیوں، ان گنت نسلوں سے سارے لوگ ….‘‘←  مزید پڑھیے

مولانا رومی ۔ ایران سے چل کر ہالی وڈ تک کی زیارت

جب مولانا رومی تصوف سے چھلکتی ہوئی اپنی شاعری سے صرف ایران ہی نہیں، بلکہ سارے عالم اسلام کو اپنا گرویدہ بنا رہے تھے توکیا کولمبس نے امریکا دریافت کر لیا تھا یا نہیں، سوال یہ نہیں ہے۔ سیدھا سادہ←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم ۔۔۔(25) ۔۔۔ تین کتابیں (پہلا حصہ)

تتھاگت نظم (25) تین کتابیں (پہلا حصہ) ’’دیس، جاتی، ایک پِیڑھی ۰کی کتابیں ۰پِیڑھی۔ نسل تین ہی ہوتی ہیں، جن سے نسل اپنی قومیت کی منفرد پہچان کر سکتی ہے، بھکشو!‘‘ ’’ہاں، مگر …..‘‘ آنند بولا وید تو کل چار←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (24)بھیڑ سے یہ کہا تتھاگت نے، سیریز۔۔۔۳

ؓبھیڑ سے یہ کہا تتھاگت نے، سیریز۳ ……………………………… پیڑ کاٹو گے؟ بھیڑ سے یہ کہا تتھاگت نے پیڑ کاٹو گے، کیا ملے گا تمہیں صرف لکڑی، جلانے کی خاطر؟ جھاڑ جھنکار مردہ پتوں کا؟ کونپلیں، پتّیاں، گھنی شاخیں چاروں جانب←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم..(23)بھیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے (۲)

بھیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے (۲) …………………. بھِیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے جنس تو جسم کی ضرورت ہے ہر کوئی چیز، وایُو، جل، بھوجن وایُو : ہوا جسم کے واسطے ہے، تو سمجھو جنس بھی ایک←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم ۔۔۔(22)بھِیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے

تتھاگت نظم ۔۔۔(22) بھِیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے (ایک) اپنے پچھلے جنم میں کیا تھا میں؟ کون تھا؟ کیا تھی میری حیثیت؟ ذات کیا تھی؟ قبیلہ کیا تھا مرا؟ کب ،کہاں، کیسے زندگی گذری؟ موت کب آئی؟ کیا←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (21)–زندگی دشمن نہیں ہے

تتھاگت نظم (21)…زندگی دشمن نہیں ہے اور پھر اک شخص آیا سَنگھ کا یا آشرم کا کوئی دروازہ نہیں تھا جو کسی کو روکتا وہ گرتا پڑتا، ٹیڑھا میڑھا جب کھلے آنگن میں پہنچا بے تحاشا رو رہا تھا جیسے←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (20)…..سلسلہ سوالوں کا

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم 19۔۔۔انگلی مالا (2)

انگلی مالا(ا )میں اس ڈاکو کو کہانی بیان کی جا چکی ہے، جو جنگل میں لوگوں کو لوٹ کر ان کی انگلیاں کاٹ لیتا تھا اور پھر انہیں ایک ہار میں پرو کر اپنے گلے میں پہن لیتا تھا۔ تتھا←  مزید پڑھیے