کتھا چار جنموں کی، کانیا روپ،قسط1۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1937ء

مجھے چاچا بیلی رام اسکول داخل کروانے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ میں سفید قمیض اور خاکی رنگ کا نیکر پہنے ہوئے ہوں۔ ایک ہاتھ میں گاچی سے پُچی ہوئی تختی ہے، دوسرے میں ایک پیسے میں خریدا ہوا نیا اردو کا قاعدہ ہے۔ سلیٹ کی پڑھائی دوسری جماعت سے شروع ہوتی ہے، اس لیے مجھے سلیٹ اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کرنی پڑی۔ مجھے شاید زکام ہے، کیونکہ میں بار بار رومال سے اپنی ناک پونچھ رہا ہوں۔چاچا بیلی رام کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے میں اَن منے دل سے یاد کر رہا ہوں کہ اگر مجھے اس دن اسکول نہ جانا ہوتا تو میں گلی ڈنڈا کھیل رہا ہوتا۔

چاچا بیلی رام کی کریانے کی دکان ہے۔ وہ در اصل میرے مرحوم دادا کے بھائی ہیں۔ لیکن گاؤں میں سبھی ان کو چاچا بیلیؔ ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ نکھٹو سمجھ کرکوئی بھی اپنی لڑکی ان کے ساتھ بیاہنے کو تیار نہیں ہوا۔ اب پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ساری عمر اسی طرح گذار دی۔ دو بار راولپنڈی جا کر خدا جانے کس جات کی یا کس مذہب کی’ادھ کھڑ‘ عورتیں خرید لائے، شاید دو دو سو روپے میں۔ لیکن دونوں کچھ دن ان کے ساتھ رہنے کے بعد بھاگ گئیں۔ ایک تو ان کے کان میں ڈالی ہوئی سونے کی مُرکی بھی کھینچ کر اتار لے گئی۔ کہا جاتا تھا کہ وہ مونچھوں والے ہٹے کٹے نورےؔ نائی کے ساتھ بھاگی تھی۔ نورا تو کچھ دن کے بعد گاؤں لوٹ آیا لیکن اس عورت کا کچھ پتہ نہ چلا۔ اس کے بعد چاچا بیلی رام نے شادی کے نام سے توبہ کر لی۔ کہا جاتا تھا کہ پنڈی گھیب میں کوئی چمارن ہے جو ایک روپے کے عوض اپنے ساتھ رات گذارنے دیتی ہے۔ ایسا کچھ ساتھی لڑکوں سے سنا تھا کہ چاچا بیلی رام بھی مہینے میں ایک آدھ بار وہاں جاتے ہیں۔ تب میں نے ایک بیت بھی موزوں کیا تھا، جو گھر والوں یا چاچا بیلی رام کو تو نہیں، لیکن اپنے کھیل کے سب ساتھیوں کو سنایا تھا۔
خرچیا ہک روپّیہ سارا …. چاچا بیلی ہجے کنوارا
(ایک روپیہ، پورے کا پورا خرچ بھی کر لیا : چاچا بیلی پھر بھی کنوارے کا کنوارا ہی رہا)۔

میں نے اسکول میں  پہلی بار منشی رستم خان صاحب کو چمڑے کی منڈھی ہوئی کرسی پر بیٹھے دیکھا۔ان کے بار ے میں باتیں ضرور سنی تھیں کہ جب لڑکوں کو بید سے مارتے ہیں تو ہاتھ سوج جاتے ہیں۔مرنجان مرنج آدمی تھے اور ڈھلتی عمر نے انہیں کچھ اور بھی ضعیف بنا دیا تھا، لیکن اس لاغرالجثہ شخص کے سامنے میز پر ایک ڈنڈا رکھا ہوا تھا، جو اس کی طاقت کا اصلی مظہر تھا۔ میں اسکول جانے والے ساتھی لڑکوں سے سن چکا تھا کہ اس ڈنڈے کا نام مولا بخش ہے۔ یہ بھی افواہ تھی کہ رستم خان صاحب نہ بھی دیکھیں تو ڈنڈا خود بخود ہلنے لگتا ہے۔ یعنی ڈنڈے کی ایک آنکھ ہمیشہ کھلی رہتی تھی اور وہ منشی صاحب کو بتا دیتا تھا کہ کس لڑکے نے شرارت کی ہے۔میں نے ایک بیت مولا بخش کی کارکردگی پر بھی موزوں کیا تھا۔
ڈنڈا ویکھے اکھ اگھروڑ… . دل کردا ے، جاواں دوڑ۔
(اگر ڈنڈا ذرا سی بھی آنکھ کھول کر دیکھے…. تو جی چاہتا ہے میں بھاگ جاؤں) ۔

اسکول کی پڑھائی چلتی رہی۔ مجھے ابجد سیکھنے میں تو دو دن لگے کیونکہ میں پہلے ہی گھر میں اپنی ماں سے نہ صرف اردو ابجد سیکھ چکا تھا بلکہ تختی پوچ کر خوشخط لکھ بھی سکتا تھا۔ میری ماتا جی اردو پڑھ لکھ لیتی تھیں اور نوشہرہ چھاؤنی میں میرے بابو جی اور کوٹ سارنگ میں میری  ماتا جی کے درمیان خط و کتابت اردو میں ہی ہوتی تھی۔ منشی رستم علی خاں خوش تو بہت ہوئے لیکن جب ”پہاڑے“ سیکھنے کا وقت آیا تو جیسے مجھے سانپ سونگھ گیا۔ میں تختی پر یا سلیٹ پر بغیر کسی تردد کے پہاڑے لکھ سکتا تھا لیکن دوسرے لڑکوں کے ساتھ سر میں سر ملا کر گا نہیں سکتا تھا۔ اس لیے جب دوسرے لڑکے ایک ساتھ آواز ملا کر اونچی آواز میں کہتے: ”دو دُونے چار“ تو میں چپکا بیٹھا رہتا۔ منشی صاحب تو اونگھ رہے ہوتے لیکن مجھے لگتا جیسے مولا بخش میری جانب ایک ٹک دیکھ رہا ہے اور ہل رہا ہے، تب میں بھی ہونٹوں ہونٹوں میں ہی بدبدانے لگتا، ’دو دوُنے چار، تین دوُنے چھہ، چار دوُنے اٹّھ….“

پڑھائی چلتی رہی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے، جب تختی پر صحیح املا لکھنے اورایک بھی غلطی نہ کرنے پر منشی صاحب نے میری پیٹھ ٹھونکی تھی۔ لیکن جب حساب کے سیدھے سادے،یعنی جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کے سوالوں کا وقت آتا تو سارے پہاڑے یاد ہونے کے باوجود میں غلطیاں کرتا اور شرمندگی سے میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے، میں حساب میں کبھی اچھے نمبر نہ لے سکا اور کورے کا کورا ہی رہا۔ساری جماعت میں ایک میں ہی تھا جو اردو کی دوسری، تیسری، حتیٰ  کہ چوتھی جماعت کی اردو کتاب بھی روانی سے پڑھ سکتا تھا، لیکن حساب کے مضمون میں کوئی ایسی گانٹھ تھی جو میری سمجھ اور لیاقت کی رسی پر بندھی ہوئی تھی، یعنی سمجھ آ جانے کے باوجود سوال حل کرتے ہوئے میں غلطی کر جاتا تھا۔

چھٹی ہونے پر سارے لڑکے اپنے اپنے بستے باندھ کر دوڑتے ہوئے گھروں کوروانہ ہو جاتے۔ کچھ لڑکے گاؤں کی ساتھ والی ڈھوک سے آتے تھے، لیکن زیادہ کوٹ سارنگ کے ہی ہوتے تھے۔میں بھی بستہ باندھ کر دوڑتا لیکن سیدھا گھر جانے کے بجائے سناروں کی دکانوں کے ساتھ والی گلی میں مڑ جاتا۔ وہاں میری پھوپی بخت بی کا گھر تھا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی میں بستہ چارپائی پر پھینکتا اور ایسے زور زور سے سانس لیتا جیسے دوڑ دوڑ کر تھک گیا ہوں۔ میری پھوپی چھاچھ کا بھرا ہوا پیتل کا گلاس، جس میں مکھن کی ڈلی تیر رہی ہوتی، میرے ہاتھ میں پکڑاتی اور کہتی،”لے پُتر، لسّی پی لے، تھوڑا دم لے، پھر گھر چلے جانا!“ گھر کاہے کا؟ میں لسّی کا گلاس ختم کرتے ہی گلی ڈنڈا اٹھاتا اور اکیلے ہی صحن میں کھیلنے لگ جاتا۔ کئی بار پڑوس کا ایک ہم عمر لڑکا فضلوؔ بھی میرے ساتھ کھیلنے آ جاتا۔

گھنٹہ، دو گھنٹے….جب شام ڈھلنے لگتی، تو میری پھوپی جو اندر کمرے میں دوپہر کی نیند پوری کر رہی ہوتی، آنکھیں ملتی ہوئی باہر نکلتی۔ ”اللہ کی مار اس گلی ڈنڈے پر!“ وہ کوسنے دیتی۔ ”اوئے نا مراد، تو ابھی تک اپنے گھر نہیں گیا؟ تیری ماں تیرا راستہ دیکھتی ہو گی، جا جلدی سے، نہیں تو مجھے گلے گلامے ملیں گے کہ میں راستے میں تم کو روک لیتی ہوں۔تیرے بابو جی بھی گھر نہیں ہیں۔ تو ہی تو بڑا بیٹا ہے۔ ماں کا خیال رکھا کر۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ جو ماں کا کہنا نہیں مانتا، وہ نہ اس جہان کا نہ اگلے جہان کا!“ اور وہ جلدی سے مجھے میرا بستہ پکڑا کر دروازے سے باہر کر دیتی۔سن سن کر میرے کان پک گئے۔ قرآن شریف میں یہ آیا ہے، وہ آیا ہے۔

”ماں، یہ قرآن کیا ہے؟“ ایک دن میں نے اپنی ماں سے پوچھا۔۔ماتا جی نے دلار سے کہا، ”ارے ست پال. تو نہیں جانتا ہے، جیسے سکھوں کی متبرک کتاب گُرو گرنتھ صاحب ہے، یا ہم ہندوؤں کی بھگوت گیتا ہے، ویسے ہی مسلمانوں کی قرآن ہے، جس میں بہت اچھی اچھی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔“ میں پھر بھی نہ سمجھ سکا، اور میں نے پوچھا، ”ہندو کیا ہوتا ہے؟“ ماں نے کہا، ”جیسے کہ ہم ہیں۔ ہم ہندو ہیں، اور تیرے ننھیال سکھ ہیں، جو بال نہیں کاٹتے اور داڑھی بھی رکھتے ہیں اور پگڑی باندھتے ہیں۔“
”اور مسلمان کون ہیں؟“ میں نے پھر پوچھا۔
”جیسے تیری پھوپی بخت بی ہے۔“ میری ماں نے کہا۔ میرے ذہن میں منطق نے جیسے پہلی بار انگڑائی لی، میں نے ماں سے پوچھا، ”اچھا، اگر پھوپی مسلمان ہے، تو وہ میری پھوپی کیسے ہوئی؟“ ماں نے دلار سے میرا ماتھا چوما، ”وہ اس لیے کہ وہ تیرے بابو جی کی منہ بولی بہن ہے۔ بابو جی تو اکیلے ہیں نا؟ ان کا بھائی بہن کوئی نہیں ہے، اس لیے انہوں نے بخت بی بی کو اپنی بہن مانا ہوا ہے، اس سے راکھی بھی بندھواتے ہیں۔ یوں بھی ہماری زمینوں کی کاشت ان کا خاندان ہی کرتا ہے۔ دیکھتے نہیں تم، جب وہ نوشہرہ سے آتے ہیں تو تیری پھوپی کے لیے کتنے تحفے لاتے ہیں!“

مجھ آٹھ برس کے بچے کے ذہن میں ہندو، مسلمان، سکھ کا خیال اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا، لیکن میں نے اس بات کا ذکر بخت بی پھوپی سے کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ البتہ یہ بات میرے ذہن میں کھلبلی مچاتی رہی کہ میرے گھر میں بھگوت گیتا بھی ہے، گرو گرنتھ صاحب بھی میں ماں کے ساتھ گوردوارے میں جا کر دیکھ چکا ہوں، لیکن میں نے قرآن نہیں دیکھا۔ تو قرآن، جس میں اتنی اچھی باتیں لکھی گئی ہیں، دیکھنا اور پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ اورمیں تو اردو بخوبی پڑھ لیتا ہوں، قرآن پڑھنا کون سا مشکل ہو گا؟۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کتھا چار جنموں کی، کانیا روپ،قسط1۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

  1. سبق آموز اور خوبصورت اندازِ بیاں ۔۔جیسے اسی عمر کا بچہ اپنی سکول بیتی سنا رہا ہو۔۔پھر ایک دم سے کہیں کہیں وہ بچہ نوجوان بند کر ٹھیٹھ زبان میں شعر کہتا ہے،پھر وہی بچہ زندگی کا فہم و ادراک رکھنے والا ایک بزرگ بن جاتا ہے۔۔بہت ہی خوبصورت!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *