تتھاگت نظم(26)..تین کتابیں۔ نظم ۲

تتھا گت نظمیں
تین کتابیں۔ نظم ۲
سلسلہ کے لیے دیکھیں۔ نظم نمبر ایک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’دوسری پستک بھلا کیا ہے، تتھاگت؟‘‘

’’دوسری پستک ہے اُن کا دھرم، مذہب
جس سے پیوستہ ہیں صدیوں، ان گنت نسلوں سے
سارے لوگ ….‘‘

’’….لیکن ’دھرم‘ کی تفسیر کیا ہے؟‘‘
بُدھّ کو یوں ٹوکنا اچھا نہیں تھا
مضطرب آنند، لیکن، جوش میں یہ پوچھ بیٹھا

’’دھرم جینے کی کلا ہے د ھَ ر م (دھرم): مذہب۔ ؍ کلا : فن
فرض ہے، کرتویہ ہے۔ (کَ ر تَ و ی ہ) کرتویہ : فریضہ
… اور اس تناظر میں مگر یہ فرض بھی اک خارجی ڈھانچہ ہے
……پوجا کا طریقہ؟
کس کو مانیں؟
کیا کریں؟ کس طور اپنا سر جھکائیں؟
کوئی سمت الراس ایسی
جو ہمیں اس فرض کی اصلی ادائی کی ضمانت دے، مگر …‘‘

گو مگو میںُ رک گئے دم بھر کو، جیسے سوچتے ہوں

پھر کہا، ’’ہاں، دھرم یہ بھی تو بتاتا ہے
کہ خلقت خالقِ دنیا کو کس صورت میں دیکھے!‘‘

’’مورتی پوجا، تتھا گت؟‘‘

’’ہاں … مگر شاید ’’نہیں ‘‘بھی!‘‘
میں، تمہیں تو علم ہے، آنند بھکشو، مورتی پُوجک نہیں ہوں پُوجک : پوجنے والا
مورتی کے ہی حوالے سے
کسی بھی آنکھ سے اوجھل حقیقت کو سمجھنا
ابتدائی راستہ ہے
(میں گذر آیا ہوں جس سے )
یہ تو کیول دھیان کو مرکوز کرنے کا ہنر ہے کیول : فقظ، صرف
میں جسے پہلے ہی بس میں کر چکا ہوں
یہ ’’نہیں‘‘ کی شرح و تفسیر ہے آنند بھکشو!‘‘

’’ہاں‘‘ کی پھر تفسیر کیا ہے؟

چُپ رہے کچھ دیر کو، دھیرے سے پھر گویا ہوئے
وہ ’’نہیں‘‘ کی شرح تھی، اب
’’ہاں ‘‘ کا کیا مفہوم ہے، یہ بھی سمجھ لو
وہ کروڑوں لوگ
جو میری طرح ’’سادھک‘‘ نہیں ہیں سادھک : سادھنا، تپسیا، سخت ریاض کرنے والا
وہ جنہیں ’’محسوس‘‘ سے چل کر ہی ’’نا محسوس‘‘
تک جانے کی منزل کا پتہ پانا ہے، بھکشو
ان کے قدموں کے لیے شاید یہی اک راستہ ہے
بُت پرستی، مورتی پوجا کا، یہ ’’محسوس‘‘ کا رستہ
جسے وہ دیکھ بھی سکتے ہیں آنکھوں سے
جسے وہ چھو بھی سکتے ہیں ، جسے پرنام کر سکتے ہیں
کسی کے سامنے جھک کر زمیں پر!
اور یہ رستہ بہت آسان بھی ہے!‘‘

’’اور بھی کچھ راستے ہوں گے، تتھاگت؟‘‘
زندہ استفسار کی مورت بنا آنند بولا

’’ہاں، یقیناًاور بھی ہیں …
شِرک کے رستے سے ہٹ کر، قادرِ مطلق کو
اُس کے ہی حوالے سے سمجھنا
ایک، واحد، مالک و مختار، یکتا
عورتوں کی کوکھ سے پیدا ہوئی مخلوق سے بالکل یگانہ
پے بہ پے جنموں کے بندھن سے سدا آزاد، ایشور
ایک ، قطعاً ایک، خالق
دوسرا کوئی نہیں !
اس بات پر ایمان لانا …. ایک بہتر راستہ تو ہے، مگر …‘‘

’’ہاں، بتائیں، پیر و مرشد!‘‘

’’ایشور، اِک شخص،یعنی اِک ’اکائی‘ تو نہیں ہے
اُس کی، یعنی ایشور کی،
ہر شناخت ایک ہی’صورت ‘ میں مضمر ہے کہ اس کی
کوئی بھی ’صورت ‘ نہیں ہے
یعنی وہ اک منفرد، اکمل، ’اکائی‘ بھی نہیں ہے
اور اگر ہم ایشور کو ساری دنیاؤں کے، سب آفاق کے
’’میزان‘‘ کی صورت میں دیکھیں ، تو بھی کیا پہچان ہے
اُس خالقِ دنیا کی جو خود میں ’’اکھنڈِت‘‘ ہے اکھنڈِت : اٹُوٹ، جو ثابت و سالم ہے
مگر سب ’’کھنڈ‘‘ کیا ہیں، جانتا کوئی نہیں ہے کھنڈ: اجزاء
اس لیے مذہب کی جو پہچان ممکن ہو
کسی عہدِ رواں میں، مملکت میں، اُس کو ہی تسلیم کر لیں
قائم و دائم ہے وہ اک ملک کے
اپنے حوالے سے، تناظر میں ۔۔۔۔‘‘

تو گویا دھرم یا مذہب یقیناًدوسری پستک ہے، بھکشو!‘‘
(جاری)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *