مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
۵۔ خوف تصور کریں ” رات کو گیارہ بجے قریبی رشتہ دار گھر میں نازل ہوجاتے ہیں۔ آپ کے گھر سے شہر کم از کم ایک کلومیٹر دور ہے۔ گھر بھی ویرانے میں ہے۔آپ کے پاس کوئی سواری بھی نہیں← مزید پڑھیے
بہت دنوں سے اس موضوع پر کچھ لکھنے کو دل تھا مگر تامل اس لئے تھا کہ ان واقعات میں کچھ خود ستائی کا پہلو نکل سکتا ہے ،مگر اس دور میں جب پاکستان میں ہر طرف یہ احساس جڑ← مزید پڑھیے
پہلی جنگ عظیم 1914ء سے 1918ء کے درمیان لڑی گئی تھی۔ یورپی ممالک جو تقریباًتین صدیوں سے دنیا بھر کی اقوام کا استحصال کررہے تھے ،اُن کی طاقت اور سرمایہ کی بھوک اِس قدر بڑھ گئی کہ یہ ممالک آپس← مزید پڑھیے
کتاب : پلیٹو سے ما بعد جدیدیت مغربی ادب زیر نظر کتاب ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جس نے ایک نہایت دلچسپ محرک کے تحت کتاب لکھی یہ تحریک شاید ادب کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا اعلان← مزید پڑھیے
بچپن گاوٴں میں گزرا جہاں پر اقلیتی لفظ بھی بڑی بے تابی سے کہنے اور سُننے کو ملا۔ جس وقت کھانے کے لیے برتن الگ ، پانی پینے کے لیے گلاس الگ حتیٰ کہ یہاں تک بھی دیکھنے کو ملا ← مزید پڑھیے
ایک وقت تھا کہ کراچی کی سڑکیں مہمانوں کی آمد سے سال میں کئی بار رونق افروز ہوتی تھیں۔ بجلی کے کھمبے مہمان ملک کے جھنڈوں سے سجتے تھے، تو دوسری جانب ہمارا چاند ستارہ بھی خوب اٹھکھیلیاں کرتا نظر← مزید پڑھیے
قریباً ہزار سال پہلے دسویں صدی کے آخر پر سامانی عہد میں سلطنت غزنویہ کا نامزد آزاد سلطان بُت شکن یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین المعروف سلطان محمود غزنوی خرقانی کی داستان صنف زوجان سے متعصف تھی۔ یمین← مزید پڑھیے
ایک محاورہ ہے “کسی کتاب کو اس کے سر ورق سے نہ پرکھیں”، مگر اس کتاب کو سر ورق سے پرکھنے کی مکمل سہولت دی گئی ہے۔ ظہرا منظور الٰہی نے اس مختصر کتاب میں چند سلگتی زندگیوں اور بے← مزید پڑھیے
دنیا میں آج تک جتنے بھی نشے پائے جاتے ہیں اُن میں سے سب سے زیادہ مہلک اور خطر ناک نشہ طاقت کا نشہ ہے ۔اور یقین مانے یورپ اور امریکہ سر سے پاؤں تک اِس نشے کی لت میں← مزید پڑھیے
فیض کے آخری زمانے کی ایک نظم ہے جس کا عنوان ہے ” اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے” ۔ اس میں وہ ہماری اجتماعی زندگی کی آرزووں اورآشاوں کی عدم تکمیل اور قوم کے سینے کے گھاو نہ← مزید پڑھیے
ہمارے عہد کی ادبی تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس پر جدیدیت کے سائے ابھی تک منڈلا رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں اس حقیقت کا شعور پیدا کرنے سے قاصر← مزید پڑھیے
The Old Testament اندازاً 1500 قبل مسیح عقائد کے اساسی صحائف کے سلسلے میں عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید دو بالکل مختلف کتا بیں ہیں۔ عیسائی کلیسیا کے مطابق عہد نامہ قدیم ہمیں جدید کی جانب لے جاتا← مزید پڑھیے
۳۔دکھ دکھ انسانی فطرت کا انتہائی اہم عنصر ہے۔ دکھ کا سامنا ہر عمر کے افراد کرتے ہیں۔ کچھ کھونے کا احساس ، صدمہ اور بے قدری انسان کو شدید رنجیدہ کردیتی ہے۔ شدید رنج کے باعث آنسوؤں کا سیلاب← مزید پڑھیے
(میرا جی کی نظم میں اساطیر، جنس ، مقامی جدیدیت کا مطالعہ) باریک بینی، یکسوئی اور مرکوز دھیان رکھتے ہوئے 150 پیج پڑھنے کے بعد میں نے بلآخر کلیات میراں جی کے لیئے آن لائن آرڈر بک کروا ہی دیا۔← مزید پڑھیے
۲۔ حیرت (surprise) غیر متوقع واقعات کو دیکھ کر حیران ہونا انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے۔ ایسے واقعات جو ہماری سوچ و فہم میں بھی نہیں ہوتے ، ان کے اچانک رونما ہونے پر ہمارہ منہ کھلا کا کھلا← مزید پڑھیے
شہر کے وسط میں ایستادہ مضبوط اور گھنے درخت کو اکھاڑ کر شہر کے ایک کنارے گاڑ دیا گیا تھا۔ یہ اکھاڑ پچھاڑ نئی بات نہ تھی۔ درخت سے خالی ہونے والے گڑھے میں ایک دل کش مصنوعی درخت لگا← مزید پڑھیے
” گذشتہ دنوں مجھے لوئیس قوام کی کتاب ” دنیا کون چلا رہا ہے”پڑھنے اور مصنفہ سے ملنے کا اتفاق ہوا تو سوچا کہ مکالمہ کے قارئین تک اس کتاب کا مرکزی پیغام پہنچایا جائے۔” ہم سے جب یہ پوچھا جاتا← مزید پڑھیے
لفظی معانی : سوشلزم اور کمیونزم دونوں کا origin فرانس ہے اور اتفاق سے دونوں الفاظ ہی 19 ویں صدی کے ہیں۔ سوشلزم کا لفظ سوسائٹی سے نکلا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تمام ملکیت پیداوار اور← مزید پڑھیے
زوجان ہیجڑوں/خواجہ سراؤں کے کلچر کی شاخیں برصغیر پاک و ہند دِلی کے ’’سجان خاندان‘‘ کے ہیجڑوں/خواجہ سراؤں سے جا کر ٹکراتی ہیں، جنہوں نے ہیجڑا کلچر کو نا صرف برصغیر بلکہ اس کے مختلف حصوں سمیت پنجاب تک پھیلا← مزید پڑھیے
استاد محترم ڈاکٹر گابور ماتے کے مطابق اس وقت دنیا کی کثیر آبادی ٹراما زدہ ہے یعنی کسی حد تک ابنارمل ہے اور اگلی نسل میں یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی اور اس بات کا امکان ہے کہ ایک← مزید پڑھیے