مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
طالبان ترجمان خالد سہیل نے بی بی سی کو انٹریو دیتے ہوے کہا ہے کہ افغان عوام طالبان کے ہاتھوں میں محفوط ہیں اور کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ خالد سہیل نے بی بی سی کو فون انٹریو دیتے← مزید پڑھیے
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کابل میں داخل ہو گئے ہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان شہر میں داخل ہو چکے ہیں اور کسی قسم کی مزاحمت کی خبر نہیں ہے۔ طالبان ترجمان نے کہا← مزید پڑھیے
پاکستان کے انتہائی معروف خطیب اور مبلغ مولانا طارق جمیل کی نگرانی اور سرپرستی میں کچھ عرصہ پہلے ایک ضخیم کتاب بعنوان ’’گلدستۂ اہلِ بیت سلام اللہ و رضوانہ علیہم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس میں انھوں نے اہل بیت رسالت← مزید پڑھیے
پاکستان کے انتہائی معروف خطیب اور مبلغ مولانا طارق جمیل اکثر و بیشتر اپنی تقریروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ان کی عظمت و محبت کا بڑی رقت قلبی← مزید پڑھیے
لاڑکانہ سے سہیل چانڈیو نے ایک سوال ارسال کیا ہے۔ سوال کرنے والا سائل ہوتا ہے۔ آفرین ہے ٗایسے سائل پر جو مستقم اور مستقل مزاج ہو۔ سچ ہے ایسا سائل ہی اپنے مسئول سے داد پاتا ہے۔ درجنوں سے← مزید پڑھیے
ڈیڑھ ہزار برس پہلے آبادی بھی بہت کم تھی اور بندوق ، ٹینک اور جہاز بھی نہیں تھے لہذا کم ہلاکتوں سے بھی سطوت و جبروت کا کام چل جاتا تھا۔آج لوگوں کے ذہن کنٹرول کرنے کے لئے زیادہ لوگ← مزید پڑھیے
بہاولنگر ریلوے اسٹیشن پر ریاست بہاول پور میں باقی رہ جانے والے ہندو اور سکھ مہاجرین کو ہندوستان پہنچانے والی ٹرین کا کچھ مقامی مسلمان شدت سے انتظار کر رہے تھے ان میں چند جوشیلے اور جذباتی افراد بہاولنگر کے← مزید پڑھیے
غلام سرور خان مہمند پشاور کے ایک مشہور تاجر اور صنعت کار ہیں۔ انہوں نے ١٩٨٩ میں اپنی ١٩ سالہ بیٹی سمیہ سرور کی شادی اپنی بیوی ڈاکٹرسلطانہ کی بہن کے بیٹے ڈاکٹر عمران صالح سے بڑی دھوم دھام سے← مزید پڑھیے
تماشا جاری تھا اور رنگا رنگ روشنیوں کی چکا چوند میں شعبدہ باز اپنے فن سے تماش بینوں کی آنکھیں خیرہ کر رہا تھا۔ یہ عجیب تماشا تھا۔برس ہا برس سے جاری اور نہ ختم ہونے والا۔یہ کہنا بجا ہوگا← مزید پڑھیے
بزنس کے سلسلے میں مجھے کبھی کبھار لندن یاترا بھی کرنی پڑتی ہے اور لندن جیسے پرتعیش اور مہنگے شہر میں میرے بِزنس ٹِرپ کا دورانیہ عموماً مختصر ہی ہوتا ہے۔ اس لیے صبح و شام بڑے مصروف گزرتے ہیں۔← مزید پڑھیے
’’اگر تم اسی لمحے پھڑک جاؤ، تمہارا دم نکل جائے تو تمہارے ساتھ کیا کچھ مر جائے گا؟‘‘ دنیا کے مشہور ترین موٹیویشنل سپیکرز میں سے ایک ، سیاہ فام امریکی لیز براؤن نے چھید دینے والی آنکھوں سے اپنے← مزید پڑھیے
نبوت کے دوسرے سال حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی ۔مکہ میں اس وقت دو گھر تھے۔ ایک زید بن ارقم کا جسے دارارقم کہتے ہیں ، جہاں مسلمان جمع ہو← مزید پڑھیے
کامیابی صرف چیزیں بیچنے میں مہارت ، بہت زیادہ فنون اور مہارتوں پر عبور ، اعتقاد کی طاقت نہیں ہے یا انتہائی مقابلے کی دوڑ والے معاشرے کی مثال ہے جو ہمارے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دی جاتی← مزید پڑھیے
ہمارا خمیر ہی ایسی مٹی سے اٹھا ہے، ہماری معاشرتی تربیت ہی ایسی ہوئی کہ جب تک چاند توڑ کر قدموں میں لانے کی بات نہ ہو محبوب بھی نہیں سنتا۔ ستارے توڑ کر قدموں میں لانے کا وعدہ نہ← مزید پڑھیے
چند ماہ پہلے لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایک واقعہ ہوا، جب ایک طالبہ نے سب کے سامنے ایک لڑکے کو پروپوز کرتے ہوئے اسے خالص فلمی انداز میں ایک گھٹنازمین پر ٹیک کر گلاب کے پھول پیش کئے← مزید پڑھیے
مختلف ادوار میں کلاسیکی اور ضرب المثل کرداروں کی بازیافت ہر زبان کے شعرو ادب میں پائی جاتی ہے۔ یونانی ادب میں ارسطو کے شمار کردہ ٹریجڈی کے لوازمات میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ اسے کس قسم کے← مزید پڑھیے
جولائی کے دن ہمیشہ کی طرح گرم تھے۔بارشوں کے آنے تک تپے ہوئے دن۔ کمروں میں خنکی سی۔ پنکھوں کا مسلسل چلنا۔نیلی چقوں کا گرا رہنا،مشروبات،سوکھی گھاس پر پانی کی تلاش میں پھرتی چھوٹی چھوٹی چڑیاں، کبھی کبھی درختوں سے← مزید پڑھیے
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد نجانے کیوں مجھے مرحوم جنرل حمید گل بے تحاشا یاد آرہے ہیں ۔آپ ان کے نظریات سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ وہ← مزید پڑھیے
خیالات ہوں یا جذبات ٗ بنیادی طور لہروں کی شکل میں سفر کرتے ہیں۔ لہریں کہیں سکون اور سکونت میں نہیں ہوتیں۔ خیالات کی لہروں کو منجمد اور محفوظ کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ انہیں لفظوں کی صورت میں← مزید پڑھیے
مجھے جب کسی عدالتی فیصلے کے بارے میں رائے لینا ہوتی ہے تو میں استادِ محترم انصاف علی انصاف سے رجوع کرتا ہوں، بفضلِ خدا فوت وہ ہو چکے ہیں مگر اُن کا فیض ابھی تک جاری ہے۔ اُن کے← مزید پڑھیے