ہے کوئی جو میری مدد کو آئے ؟۔۔سیّد مہدی بخاری

ڈیڑھ ہزار برس پہلے آبادی بھی بہت کم تھی اور بندوق ، ٹینک اور جہاز بھی نہیں تھے لہذا کم ہلاکتوں سے بھی سطوت و جبروت کا کام چل جاتا تھا۔آج لوگوں کے ذہن کنٹرول کرنے کے لئے زیادہ لوگ مارنے پڑتے ہیں۔کاش یزید کسی ایک ہی فرد کا نام ہوتا تو کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا۔مگر یہ تو ایک کیفیت ہے جس کے عقیدے ، رنگ ، نسل اور نظریے کے بارے میں کوئی بھی اٹکل لڑانا ایک بے معنی مشق ہے۔یوں سمجھئے جیسے ہوا ہے ، پانی ہے ، آگ ہے ویسے ہی یزیدیت اور حسینیت بھی ہم سب کی زندگیوں میں سائے کی طرح ایک دوسرے کے تعاقب میں آزو بازو ، اوپر تلے ، اندر باہر چل رہی ہے۔ دونوں کیفیات مسلمانوں کے ہر چھوٹے بڑے فرقے سمیت دنیا کے ہر مذہب و لا مذہب میں نہ صرف موجود بلکہ مسلسل رواں ہیں۔مگر ہمیں یوں دکھائی نہیں دیتیں کہ مقابل پر سے نگاہ ہٹے تو خود پے نگاہ پڑے۔
یا تو وہ زمانے افسانوی تھے یا درحقیقت تھے بھی تو اب نہیں ہیں کہ جب حقائق یا سفید تھے یا پھر سیاہ۔آج کی دنیا میں کچھ سیاہ سفید نہیں رہا۔سب گرے ہے۔میرے اندر پوشیدہ حسینیت کی رمق اور یزیدیت کی لہر میں سے کس وقت کیا باہر آ جائے یا کب دونوں کیفیات اندر ہی اندر خلط ملط ہو کر پھر الگ الگ ہو جائیں یہ میں نہیں جانتا۔میں کب ظالم سے مظلوم اور مظلوم سے ظالم میں تبدیل ہو جاؤں۔نمی دانم۔
البتہ دو کربلائیں تو بالکل سامنے ہیں۔ایک کو لوگ شام کہتے ہیں اور دوسری کو یمن۔ دونوں کربلائیں ایک دوسرے سے ہزاروں کلو میٹر دور ہونے کے باوجود بھی ان معنوں میں جڑی ہوئی ہیں کہ دونوں جگہ مارنے والے بھی خود کو مرنے والے کا ہم عقیدہ سمجھتے ہیں۔
ڈیڑھ ہزار برس پہلے جب پیغام رسانی اونٹ یا گھوڑے پر بیٹھے تیز رفتار قاصدوں کی محتاج تھی تب بھی یہ اطلاعاتی عیاشی محض امرا و خواص کو میسر تھی۔عام آدمی براہ راست اطلاع بھیجنے یا وصول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔اسے تو اتفاقاً مہینوں برسوں میں معلوم پڑتا تھا کہ دور پار کیا ہوا کیا نہیں ہوا۔لہذا اس دور کا عام آدمی یہ کہتے ہوئے حق بجانب لگتا ہے کہ ہمیں اگر بروقت معلوم ہوجاتا کہ نواسہ رسول ، اہل بیت اور احبابِ اہلبیت پر ایسی المناکی و بے توقیری آن پڑی ہے تو ہم کاہے کو گھروں میں بیٹھے رہتے۔ (حالانکہ یہ عذر ایک دو کوس پرے کے اہل کوفہ پر لاگو نہیں ہوتا۔پر چلیئے اس دور کی سفاک شاہی کے پیش نظر اہل کوفہ کا پردہ رکھ لیتے ہیں)۔
مگر آج تو عالم اسلام میں ڈیڑھ ہزار برس پہلے جیسی سفاک شاہی نہیں۔آج تو خبر رئیل ٹائم میں یہاں سے وہاں اور شہر تا گاؤں پہنچتی ہے۔تو پھر ماریطانیہ سے انڈونیشیا تک ایک بڑا سا کوفہ کیوں نظر آ رہا ہے؟ ایسے ہی کوفیوں کے لیے شائد محاورہ ہے ’’ سوتے کو تو جگا لوں جاگتے کو کیسے جگاؤں‘‘۔
مشرق وسطیٰ کے سب سے غریب ملک یمن پر مشرق وسطیٰ کے سب سے امیر ممالک پچھلے تین سال میں بیس ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکے ہیں اور مسلسل کر رہے ہیں۔ ایک بازار ایسا بھی ہے جس پر چوبیس فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ان حملوں میں پچاس ہزار سے زائد لوگ ہلاک اور پچاس ہزار کے لگ بھگ زخمی ہو چکے ہیں۔ہلاک و زخمی ہونے والوں میں آدھے سے زائد سویلین ہیں اور ان سویلینز میں آدھے سے زائد بچے ہیں۔ ڈھائی کروڑ میں سے چوبیس لاکھ یمنی بے گھر ہو چکے ہیں۔
دوسری کربلا یمن سے کہیں زیادہ المناک ہے۔ گذشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران ڈھائی کروڑ آبادی میں سے آدھی دربدر ہو چکی ہے اور بارہ فیصد ہلاک و زخمی ہے۔ حلب جیسے شہر جو ہزاروں برس کے تہذیبی آثار پلو میں سمیٹے سفید پوشی نبھا رہے تھے وہ اب ننگے ہو چکے ہیں۔ اکیسویں صدی میں جتنی سستی زندگی شامیوں کی ہے خدا باقی صدی میں کسی کی نہ کرے۔اور جس قدر بے حسی یہاں سے وہاں تک کی مسلمان دنیا میں ان دونوں جیتی جاگتی کربلاؤں کے تعلق سے فراواں ہے اس کے آگے تو کوفہ کی افسانوی بے حسی بھی رحم ہے۔البتہ کسی کو پناہ چاہیے تو غیر مسلم ممالک سے رجوع کرے۔
جو مر رہے ہیں اور جو مار رہے ہیں، دنیا کے اکیاون مسلم ممالک کے سربراہان دس محرم کو اپنی عوام کے واسطے دو حرفی پیغام ضرور نشر کرواتے ہیں جس کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ امام عالی مقام کی قربانی عظیم ہے اور حسینیت ہی ہمارے واسطے راہ نجات ہے۔ اچھا، ٹھیک ہے !!!
اچھا چلیں، دور کیا جائیے ۔ اپنا شہر ہی دیکھ لیجیئے۔ اپنے اردگرد اپنا معاشرہ ہی دیکھ لیجیئے۔ روز چھپتی اخباری سرخیوں کو ہی بغور پڑھ لیجیئے۔ جبر و استحصال، دھونس دھمکی، قتل و غارت، جلاو گھیراو۔ کیا یہ دشت نینوا کا نقشہ نہیں؟ کوفہ شہر کے منارے سبز نہیں ہو سکتے ۔ یہاں کچھ سبز دکھے تو بتایئے گا۔
ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل والی کربلا کا آج کی کربلاؤں سے تقابل سوائے دماغی خلل کے کچھ بھی نہیں۔ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں تو بس اتنا کہنا چاہتا تھا کہ کربلا ختم نہیں ہوئی۔ یزید مکمل فنا نہیں ہوا۔ تھوڑا تھوڑا سب کے اندر باقی ہے۔ یہ ایک فرد کا نام نہیں یہ ایک نفسیاتی حالت کا نام ہے۔
ڈیڑھ ہزار برس قبل، کوفہ جیسے گنجان آباد و بسے ہوئے شہر سے چند میل کے فاصلے پر واقع دشت کربلا سے ایک صدا اٹھی تھی۔ یہ حسین ابن علی (ع) کی صدا تھی۔ “ہل من ناصر ینصرنا” (ہے کوئی جو میری مدد کو آئے ؟)۔ آج کی کربلاوں سے بھی وہی صدا ایکو کرتی آ رہی ہے مگر ہے کوئی ؟؟؟ دور کیا جانا اور سامراج سے جنگ کیا لڑنی، اپنے اردگرد ہی دیکھ لیجیئے۔ ہم حسینی ہیں یا یزیدی۔ فیصلہ آپ کا دل کر دے گا۔ نہج البلاغہ میں علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کا قول ہے “اپنے دلوں سے حال پوچھو۔ یہ وہ گواہ ہیں جو کسی سے رشوت نہیں لیتے”۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply