یکم محرم: یوم شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہہ۔۔سید مہدی بخاریٍ

نبوت کے دوسرے سال حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی ۔مکہ میں اس وقت دو گھر تھے۔ ایک زید بن ارقم کا جسے دارارقم کہتے ہیں ، جہاں مسلمان جمع ہو کر عبادات اور لائحہ عمل طے کرتے تھے اور ایک بیت نبوی جو رسول پاک کا گھر تھا۔ جہاں قریش اور بنو ھاشم (خاندان) والے جمع ہوتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اسلام قبول کرتے ہی مسلمانوں کی تعداد جب چالیس ہو گئی تو مسلمانون نے دین کے کھلے عام پرچار اور قریش کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔ یہ سب جمع ہو کر جلوس کے شکل میں دارارقم سے نکلے اور اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے بیت الحرام کی طرف چل پڑے۔ یہ پہلا احتجاج تھا کفار و مشرکین مکہ کے خلاف۔ یہ پہلا مارچ تھا (لانگ مارچ نہ سہی)۔
ظلم کے خلاف احتجاج کرنا، ظالم کی کھلی مذمت کرنا، ظلم کو ایکسپوز کرنا ہی عین دین ہے۔ اسلام تو سکھاتا ہی عدل ہے۔ یہ تو دین ہی ظلم کے خاتمے کے لئے آیا۔ جس جس نے جبر و طاقت شاہی سے اس دین کا لبادہ اوڑھ کر ظلم ڈھایا ہے وہ خدا کے ہاں جوابدہ ہے۔ خدا تو سورہ اعراف کی آیت 44 میں کہتا ہے
لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔
ظالم کی مذمت کرنا تو خدا کا حکم ہے۔ قاتل کی مذمت کرنا اور اس سے نفرت کا اظہار کرنا تو خدا کا دین ہے۔ قاتل کوئی بھی ہو۔ جس نے کسی انسان کو بے جرم و خطا قتل کیا وہ لعنتی ہے۔ ابولولو فیروز ہو، ابن ملجم ہو یا ابن زیاد و شمر و یزید ہوں۔ یہ سب لعنتی کردار ہیں۔ یہ قابل مذمت ہیں۔ چلیں آج ذکر چل ہی پڑا اور محرم بھی ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ بخاری و مسلم سمیت صحاح و تواریخ کی کتب میں تواتر سے نقل ہوا اور اسے منبروں سے سنتے ہم سب ہی بڑے ہوئے ہیں۔
مدینے کا زمانہ تھا۔ نبی کریم رحلت فرما چکے تھے۔ حسنین کریمین مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے۔ حسین ابن علی نے اصحاب کی محفل میں کسی بات کے جواب میں فرما دیا کہ عمر ہمارے غلام ہیں۔ پہنچانے والوں نے یہ بات سنتے ہی خلیفہ وقت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گوش گزار کر دی کہ حسین ابن علی تو آپ کو غلام کہہ رہے تھے۔
یہ سننا تھا کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ زمین سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سنانے والوں کو مخاطب کیا ” اے لوگو! تم سب اس کے گواہ ہو ناں کہ حسین نے مجھے غلام کہا ؟ “۔ اب جو لوگ شکایت کے انداز میں سنانے پہنچے تھے وہ خوشی خوشی بڑھ کر بولے ” یا امیر المومنین بالکل ہم گواہ ہیں”۔ خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان سب کو ساتھ لیا۔ مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ حسنین وہیں تشریف فرما تھے۔ خلیفہ وقت کو آتے دیکھا تو دونوں بھائی ملاقات کو اٹھے۔
اب ایک عجب واقعہ پیش آیا۔ عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حسین ابن علی کو مخاطب کر کے کہا ” یا ابن علی، کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے مجھے اپنا غلام کہا ؟ “۔ حسین ابن علی نے تبسم فرماتے جواب دیا “ہاں ، یہ سچ ہے”۔ یہ سنتے ہی خلیفہ وقت نے عبایہ سے قلم و چمڑے کا ٹکرا نکالا اور حسین ابن علی کو تھماتے ہوئے بولے ” اے علی کے بیٹے، مجھے یہ تحریر لکھ دو اور نیچے اپنی مہر لگا دو۔ میں نے اپنے کانوں سے سن رکھا ہے کہ آپ کے نانا نے فرمایا حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں”۔
حسین ابن علی نے تحریر لکھ دی۔ وہ جو کچھ دیکھنے آئے تھے جب انہیں دیکھنے کو کچھ نہ ملا بلکہ معاملہ ہی الٹ ہو گیا تو وہ چل دیئے۔ حضرت عمر نے وہ تحریر اپنے پاس آخری سانسوں تک محفوظ رکھی۔
یہ ماہ ان دونوں ہستیوں کی شہادت کا ماہ ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کر کے جئیں۔ کچھ نہیں ہوتا، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چودہ سو سال بیت چکے۔ جن اختلافات کے سبب آج تک آپس میں دست و گریبان رہے ہو وہ سب ایک طرف مگر یہ یاد رکھیئے کہ دین خدا انسانیت کا پیغام لایا تھا۔ امن و بھائی چارے کا پیغام لایا تھا۔ یہ نفرتیں ابھارنے نہیں آیا تھا۔ یہ دشمنیاں پالنے نہیں آیا تھا بلکہ اس دین نے عربوں کے مابین چالیس سالہ پرانی دشمنیاں ختم کروائیں تھیں۔
دارارقم سے خیمہ گاہ حسینی تک، خلافت سے امامت تک، جنگ جمل سے کربلا تک صادق صرف و صرف وہی ہے جو پیغام دین کے ساتھ کھڑا رہا اور اسی پر جان دے دی۔ تاریخ سبق حاصل کرنے کے لئے ہوا کرتی ہے یہ تبلیغ یا کسی پر اپنا عقیدہ مسلط کرنے کے واسطے نہیں ہوتی۔ دنیا میں آج تک جتنے انسان پیدا ہوئے یا موجود ہیں ان کو صرف و صرف دو گروہوں میں ہی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یا تو انسان حق پر ہوتے ہیں یا دوسری جانب یعنی حق کے مخالف۔ اسی واسطے خدا تعالٰی نے اپنا نظام رائج کیا۔ انبیاء بھیجے جو انسانوں کو حق کی جانب لا سکیں مگر انسانوں نے ان کی بھی ڈٹ کے مخالفت کی۔
سادہ زبان میں یوں کہہ لیں یا تو آپ حسینی ہیں یا یزیدی، یا تو ابراہیمی ہیں یا نمردی، یا تو انسان موسی کے ساتھی ہیں یا فرعونی۔ مجھے یقین ہے، میرا ایمان ہے کہ شرعی اختلافی مسائل کو سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو خلفائے راشدین و اہلبیت و امہات المومنین سب حسینی ہیں، سب ابراہیمی ہیں سب موسی کے ساتھی ہیں۔ ارے غلط فہمیاں تو سگے رشتوں میں جنم لے لیتی ہیں، ان کو لے کر آپ کیوں آپس میں دست و گریبان ہیں ؟ کیا قرآن بھول گئے اور صرف تاریخ یاد رکھی ؟
” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ بازی نہ ڈالو”
“اور ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو ،تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ،خبر دار بے شک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں شعور نہیں”
“(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں )جو الله کے عہد کو اس کے پختہ ہونے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور انسانوں کے رشتوں کو کاٹتے ہیں جس کو الله نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ،یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں”
امت مسلمہ رافضیت و ناصبیت کے بیچ الجھ کر لٹکی رہ گئی۔ یہ دونوں طبقہ فکر حدود سے نکل گئے۔ رافضیت کا شیعت سے کوئی تعلق نہیں۔ فقہ جعفریہ الگ شے ہے رافضیت الگ۔ بالکل ایسے ہی سنی کا ناصبیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ناصبیت الگ شے ہے فقہ حنفی و مالکی و جنبلی و شافعی الگ۔ اسی طرح غیر مقلد ، وہابی و دیوبند الگ ہیں۔
سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ رافضیت ایک سٹیٹ آف مائنڈ ہے یعنی نفسیاتی حالت ہے جس کے زیر اثر انسان شدت پسندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے اول فول بکنے لگتا ہے۔ نفرت میں اصحاب رسول و خلفاء راشدین و مقدس و مقدم ہستیوں پر سب و شتم کرنے لگتا ہے اور دین اسلام کا مقرر کردہ دائرہ توڑتے ہوئے حد سے نکل جاتا ہے۔
ناصبیت اس کا مخالف روپ ہے۔ ناصبی بغض اہلبیت میں ان کے دشمنوں کے دفاع میں الٹا لٹک جاتا ہے۔ اہلبیت کے قاتلوں کا وکیل بن جاتا ہے اور توہین اہلبیت کا مرتکب ہوتا ہے۔
غالیت و نصیریت الگ شے ہے۔ غالی و نصیری کچھ مقدس ہستیوں کی بابت غلو کرنے لگتے ہیں اور ان کو ان کے مقام سے بڑھا کر نعوذ باللہ خداوند کے قریب لے جاتے ہیں۔ غالی و نصیری عقیدے کا تو دین اسلام سے اس واسطے تعلق ہی نہیں بنتا کہ شرک کا اسلام سے کیا واسطہ ؟
ہمارے ہاں چونکہ کتابوں و تحقیق سے لوگوں کا واسطہ ہی نہیں اس واسطے ملا جو کہتا ہے اسے حق سچ سمجھتے ہوئے پورے کے پورے مسلک پر فتوی بانٹنے لگتے ہیں۔ رافضی قابل مذمت ہے اور اس کا کوئی مسلک نہیں۔بظاہر امام شافعی کے ماننے والے ہوں یا بظاہر خود کو شیعہ کہیں مگر یہ حدود سے تجاوز کر چکے۔
ناصبیت کا حنفی، بریلوی، وہابی، دیوبندی سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ بظاہر ناصبی کسی بھی امام کو فالو کرتا ہو یا خود کو غیر مقلد کہتا ہو مگر ناصبی حدود سے نکل گیا۔ ان دونوں میں تفریق کر کے اور ان کو پہچان کر رہیں۔ آپس میں دست و گریبان ہونا یا تو تو میں میں پر اتر آنا تو دین ہے نہ انسانیت ہے۔
مسلمانوں کو اپنی صفوں سے رافضیت و ناصبیت دونوں کی مذمت کرنے اور ان کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ انسان کا جو بھی عقیدہ ہو ، جو بھی نظریہ ہو، جو بھی موقف ہو ، وہ اپنے گھر ، اپنی بیٹھک، اپنے رفقاء تک رکھے۔ آپ چاہے ایتھسٹ یا ملحد ہوں یا کسی مسلک کے پیروکار ہوں آپ کی جو مرضی و منشا کیونکہ آپ اپنے خدا کو اس بابت خود جوابدہ ہیں لیکن یہ حق روئے زمین پر کسی کو نہیں پہنچتا کہ وہ اجتماع میں، عوام الناس کے بیچ ، عوامی فورمز پر فتنہ و فساد پھیلانے لگے۔ زمین پر فساد پھیلانے والوں، ان کا ساتھ دینے والوں ، ان کی حمایت کرنے والوں پر کلام باری تعالی میں کھلی لعنت آئی ہے اور آخرت میں دردناک عذاب کی وعید۔
یہ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ہمارے لکھنے یا کچھ سمجھانے سے کسی کو ٹکے کا فرق نہیں پڑنے والا اور کرنے والے یہی حرکات و سکنات جاری رکھیں گے مگر کم سے کم اپنی دلی تسلی کی خاطر حق لکھنا ضروری ہو جاتا ہے تا کہ سند رہے۔ باطل کے خلاف خاموشی بھی ظلم ہوتی ہے۔ انسان ظلم کا حصہ نہ بنے بس۔۔۔
مجھے معلوم ہے آپ میں سے کئیوں کو یہ پڑھ کر کیڑا کاٹے گا اور آپ مجھ سے میرے عقیدے کے بارے سوال کرنا چاہیں گے۔ یوں تو کئی بار لکھ چکا ہوں مگر چلو سلطان باہو کے ایک ہی شعر میں قصہ ختم کر دوں۔
نہ میں سنی، نہ میں شیعہ، میرا دوہاں توں دل سڑیا ہُو
مک گئے سب خشکی دے پینڈے، دریائے وحدت وڑیا ہُو

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply