مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
حرمِ امامِ حسین (ع) کے باہر کے برآمدوں میں بستر بچھائے وہ کمبل میں سے کچھ ایسے منہ نکالے جیسے گلہری کسی درخت کی کھوہ میں سے باہر جھانک رہی ہو سڑک سے اس پار دوکانوں کو مسلسل دیکھ رہا← مزید پڑھیے
میں گوجرانوالے کی وہ امرتا ہوں جسے نہ تو امروز جیسا آرٹسٹ ملا اور نہ ہی ساحر جیسا شاعر، مرزامکسچر مل گیا ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دل کو روؤں یا جگر پیٹوں ۔؟مجھے اس سے کوئی فرق نہیں← مزید پڑھیے
کبھی کبھار لاڈپیار میں ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔تو اچھا لگتا ہے ، لیکن ہرروز کام پہ جانے سے پہلے جب بھی میں نے عاصم سے خرچہ مانگا ۔۔۔ اس نے پیسے ہاتھ میں پکڑانے کی بجائے خود رکھے ۔کئی بار← مزید پڑھیے
جاوید خان کاپہلاسفر نامہ ’عظیم ہمالیہ کے حضور‘شائع ہوا تو راقم الحروف کو اس کے اولین قارئین میں شامل ہونے کاشرف حاصل ہوا۔پہلاتبصرہ بھی راقم نے کیا چونکہ جاوید خان ہمارے عہد رفتہ کے ہونہار طلبہ کی فہرست میں ہونے← مزید پڑھیے
جوں جوں اربعین حسینی نزدیک آرہا ہے، ساری دنیا سے بے قرار دلوں کا رُخ کربلا کی طرف ہوگیا ہے۔ کرونا کی وبا کا یہ دوسرا برس ہے۔ اس وبا کے بعد سے پوری دنیا کے معاملات درہم برہم ہوچکے← مزید پڑھیے
ایک دوست کو کہا کہ تھوڑا ٹھنڈا کر کے کھاؤ بھائی۔ ضروری نہیں کہ جس طریقے سے تم اس واقعے پر رد عمل دے رہے ہو سب اسی طریقے سے ری ایکٹ کریں۔ کوئی گالی دے کر ساڑ نکالتا ہے، کوئی غیر ملکی سازش کو کوستا ہے، کوئی اپنی حکومت کے لایعنی دعوؤں پر تپتا ہے تو کوئی پوچھتا ہے باہر والوں کی سازش بجا لیکن اندر والے کیا کر رہے ہیں۔ ← مزید پڑھیے
(“تزکیہ نفس اور قیامِ نظام” کے تسلسل میں چند احباب کے مزید سوالات کے جواب میں ) اَعلائے کلمۃ الحق کے حق میں نعرہ بلند کرنے والوں کے پاس شاید صدائے کلمۃ الحق کی طرف متوجہ ہونے کی فرصت نہیں← مزید پڑھیے
سچ تو یہ تھا میری آنکھوں میں میرے بچپن کی ساری ہنسی چھلکی تھی۔میرا وجود کسی معصوم بچے کی طرح کلکاریاں مارنے لگ گیا تھا۔مسرت کے بے پایاں احساس سے نہال میں نے اپنے سامنے چوک کو دیکھا تھا۔ اللہ← مزید پڑھیے
انسانی تاریخ مختلف اقوام کےعروج وزوال کی داستانوں سےبھری پڑی ہےایک قوم کازوال دوسری قوم کےعروج کاسبب بنتاہےاورجب کبھی کوئی قوم دوسری قوم پرغالب آتی ہے تووہ اپنی مغلوب قوم پریقیناً اثراندازہوتی ہےاورگہرےاثرات مضبوط حکومت کاپیش خیمہ ہیں ۔چنانچہ مسلمانوں← مزید پڑھیے
یقینا یہ عنوان بہت چونکا دینے والا اور پریشان کن ہے ‘لہٰذا میں پہلے یہ واضح کردوں کہ اس کا تعلق میری ذاتی تحقیق یا نظریات سے نہیں ہے اور یہ عزیزی علیم احمد (وہی گلوبل سائنس والے) کی تازہ← مزید پڑھیے
مجھے لکھنا تو نہیں آتا مگر تھوڑا بہت پڑھ ضرور لیتا ہوں ، کالم سے لیکر اچھی تحریر تک سب پر نظر رہتی ہے ، ملک پاکستان کے چند گنے چنے کالم نگار ہیں جنہیں بے حد شوق سے پڑھتا← مزید پڑھیے
یہ چھٹی جماعت کی بات ہے جب میں گورنمنٹ مسلم ماڈل ہائی سکول ،لاہور کا طالب علم تھا ،مجھے تعین کے ساتھ اخبار اور دن کا یاد نہیں پڑتا ،مگر خبر غیر معمولی ضرور تھی،اخبار کے upper half پر سیاہ← مزید پڑھیے
مجھے وہ سب بہت عجیب لگتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بھیک مانگنا کوئی پیشہ نہیں بلکہ ایک گھٹیا عادت ہے۔ہٹے کٹے ہونے کے باوجود بھکاری کام کرنے سے زیادہ ہڈ حرامی پسند کرتے ہیں۔یہ لوگ معاشرے کا ناسور اور← مزید پڑھیے
ابھی حال ہی میں جس طرح نیوزی لینڈ کرکٹ انتظامیہ نے پاکستان میں سکیورٹی خدشات کی آڑ میں اپنی ٹیم کا دورہ ایسے وقت منسوخ کردیا، جب ان کی کرکٹ ٹیم پاکستان میں پہلے سے ہی موجود تھی اور پریکٹس← مزید پڑھیے
مذہبی رجحان والوں کی ساری شرع زلف میں کیوں الجھی ہوئی ہے اور مذہب بیزار یا مذہب مخالف یا صرف حجاب مخالف رائے رکھنے والوں کی عقل پر وہ کپڑا کیوں پڑ جاتا ہے جو کوئی عورت اپنے سر پر رکھتی ہے؟
عین ممکن ہے جو کچھ لکھا ہے وہ کسی کی وضاحت سے باکل بودی سی دلیل ثابت ہو، تو شکریہ ادا کروں گا اگر کوئی مدد کر دے۔← مزید پڑھیے
(مکالمہ خصوصی/نامہ نگار:عقیل احمد)ترکش ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نمائندہ خصوصی حسن عبداللہ کہتے ہیں، کہ افغانستان میں طالبان کے حامی اور مخالف لوگ موجود ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حسن عبداللہ کابل سے مکالمہ کے نامہ نگار عقیل احمد کو← مزید پڑھیے
گلستان جوہر تو خود اپنی ذات میں ایک شہر بن گیا ہے، اپارٹمنٹس کا جنگل ۔ کبھی کبھی تو یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ شاید یہی میدان حشر ہو گا، لوگ ہی لوگ ایک جم غفیر ہے۔ آج کل← مزید پڑھیے
کسی اتھلیٹ کا اثاثہ اور امتیاز مضبوط جثہ، توانا پٹھے اور تگڑے ہڈ پسل ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اتھلیٹ ایسے کاسٹیوم پہنتے ہیں جن سے ان کے تراشیدہ جسم اور جسمانی قوت اچھے سے ظاہر ہوں۔← مزید پڑھیے
جیسے ململ کے کپڑے کو کسی کانٹوں سے بھرپور لدی ہوئی جھاڑی پہ رکھ کر بڑی بےدردی سے کھینچا جائے ناں ،بالکل ویسی ہی اذیت سے دوچار ہوا ہوں میں یہ ناول پڑھ کر۔ “چھٹکی”محبت کے بارے میں لکھا گیا← مزید پڑھیے
وہ ڈگڈگی بجا رہا تھا اور بندر کرتب دکھا رہا تھا۔قرب و جوار کے کچے گھروں میں سے دھواں اٹھ رہا تھا اور مختلف پکوانوں کی خوشبو چہار سو طلسم بکھیر رہی تھی۔چند دریچے وا ہوئے اور چند پردہ نشین نگاہیں بندر کا کرتب دیکھنے لگیں۔ گاؤں کی اس فسوں خیز شام میں ڈگڈگی کی آواز گونج رہی تھی اور بندر کرتب پہ کرتب دکھا رہا تھا۔← مزید پڑھیے