اچھی کتاب وہ ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں اس طرح لے کہ انسان کام کاج چھوڑ کر کتاب پڑھتا مزے لیتا علم کے موتی اپنے دامن میں سمیٹتاجب حرف آخرپر پہنچتے تواس بات پر اظہار افسوس کرے کہ← مزید پڑھیے
گُنگناتا لہجہ ،قدقامت بدن اَور قدقامت مزاج ،جہاں مجھ جیسے گیارہویں بارہویں کے طالب علم دب کر رہ جاتے ۔مادرعلمی حسین شہید کالج کی پرانی عمارت اپنے کلاسیکل حُلیے اور ماحول کی وجہ سے منفر د تھی۔مرکزی داخلہ گاہ سے← مزید پڑھیے
مدت مدید ہوئی ایک دوست نے گاؤں پاک گلی سے شادی کی۔ہماری پہاڑی اور قدیم رسم کے مطابق میں شادی کادوست ٹھہرا۔رات دوست کو گانا(راکھی ) باندھنے کی رسم ہوئی اَور صبح سویرے ہم دونوں کو ایک کمرے سے اٹھاکر← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک کشن گنگاکی وادی(قسط14)- جاویدخان پندرھویں ،آخری قسط اِک شب آب زادی کے قُرب میں :۔ مَیں بستر پر دراز ہوا۔تھکن جوبدن میں سوئی ہوئی تھی جاگنے لگی اَور مَیں سونے گا۔بستر← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک کشن گنگاکی وادی(قسط12)- جاویدخان قسط 13 جھیل کاپہلامنظر :۔ جھیل کے سامنے والے لالازار پر درمیان میں کھڑے ہوکر جھیل کِسی حد تک نیم کوس لگتی ہے۔جنوب مشرقی سمت پہاڑ پر گلیشر ہیں← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک کشن گنگا کی وادی قسط12 ہم راہی کے سنگ ،پربتوں کے قرب میں:۔ میرے ہم راہی صدام حسین میرے ساتھ تھے وہ رستے سے پوری طرح واقف تھے یُوں پگڈنڈیوں پر← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک کشن گنگاکی وادی(قسط10)- جاویدخان پڑاؤ: ہماراپڑاو پہاڑوں میں گِھری ایک خیمہ بستی تھی ۔جب ہم یہاں پہنچے تو سورج سر پہ کھڑاتھا۔ہماری جیپ رینگتی ہوئی ایک خیمے کے آگے جاکر رُک← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے کشن گنگاکی وادی(قسط5)- جاویدخان قسط6 اَٹھ مقام کااِرتقااَور ایک کہانی :۔ کہتے ہیں ایک بزرگ تھے ۔وہ جہاں گَرد صوفی تھے۔اِن وادیوں اَور بنوں سے بھی اُن← مزید پڑھیے
تیسری قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے کشن گنگاکی وادی(قسط3)- جاویدخان چوتھی قسط کَسی ہوئی زندگی کے آثار :۔ متوازی پہاڑوں نے باہم اطراف میں بلندہوکر،درمیان میں ایک تنگ وادی کوترتیب دیاتھا۔وادی تنگ دامن← مزید پڑھیے
دوسری قسط پڑھنے ے لیے لنک کھولیے کشن گنگاکی وادی(قسط2)- جاویدخان تیسری قسط کشن گنگاکے ماں باپ :۔ دائیں پہاڑ کی چوٹی بلند ہوئی جارہی تھی اَور اس کے بازو زمین سے چوٹی کے نیچے تک ٹیڑھی← مزید پڑھیے
کشن گنگاکی وادی(قسط1 )- جاویدخان کھانا: ہماراکھاناآچکاتھا۔راحیل خورشید اَور میر سفر سردار عاشق حسین صاحب نے کاشف نذیر اَور اعجازیوسف کی مہمان نوازی کاخاص ٹھیکہ لے رکھاتھا۔سو مُرغ کڑاہی کو یہ کہہ کرپکوایاگیاتھاکہ یہ سوغات خاص کراِن دو مہمانوں کے← مزید پڑھیے
ہمارے پاس سرپٹ دَوڑتے گھوڑے تھے اَور نہ ہی کہانوں والے اُونٹ،توان کی کہانوں پر کیاخاک لادتے ۔۔؟جس وادی سے ہم رُخصت ہورہے تھے ۔وہاں اَب خیمہ نشیں توکوئی نہیں تھا۔کنکریٹ کاجنگل اُگ آیا ہے اَور یہ گھنا ہوتاجارہا ہے۔کبھی← مزید پڑھیے
ایک تھے محمد اَمبیر خان ۔اُنھوں نے اپنے بیٹے نیازمحمد خان کی شادی قریبی گاؤں ٹنگی کھیترسے کروائی۔بہوکے سسرال اَورمیکے کے درمیان لگ بھگ ایک کلومیٹر کاپیدل اَور پہاڑی رستہ تھا۔رستے میں گھناجنگل تھا،جھاڑیاں تھیں ،پرانے درخت تھے اَور ایک← مزید پڑھیے
کشمیر کی مٹی میں جادوئی تاثیر ہے۔ایک کشش ہے جو دُور دُور تک بکھرے ہوئے اپنے انگوں کو اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔اس مٹی سے کئی سادھو،سنت ،رشی ،منی لوگ ،اولیا اور شاعر پیداہوئے۔غنی کاشمیری،حبہ خاتون ،للہ عارفہ ،میاں محمد← مزید پڑھیے