منصور مانی کی تحاریر
منصور مانی
صحافی، کالم نگار

امی جان میں نے کبھی کیوں آ پ سے نہیں پوچھا؟۔۔۔۔ منصور مانی

گھر کے باہر تمبو لگ چُکا تھا، دریاں بچھائی جا چکیں تھی، لوگ یہاں وہاں ٹولیاں بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں کبھی گھر کے اندر آتا اور کبھی باہر نکل جاتا گھر میں کافور کی مہک اگر بتیوں کی←  مزید پڑھیے

امی جان ۔۔منصور مانی

 لال رنگ کی نیکر اور اُس پر کالے رنگ سے بنے ہوئے کچھ نقش ،نیکر نئی تھی، پر اُس پر پہنی ہوئی قمیض پُرانی، دیوار سے لگا جانے میں کس بات پر اچھل رہا تھا یاد نہیں ، امی جان←  مزید پڑھیے

لڑکپن کا عشق یاد نمبر 87۔۔منصور مانی

 سرکاری بس صبح کے اُس سمے خالی تھی ، میں اُن کے ساتھ تھا، ہم نے ایک خالی سیٹ دیکھی اور اُس پر بیٹھ گئے، میں کھڑکی کی جانب بیٹھا تھا، موسم میں خُنکی تھی، وہ میرے برابر میں بیٹھ←  مزید پڑھیے

آو بیٹیاں جلا دیں۔۔۔ منصور مانی /نظم

آؤ بیٹیاں جلا دیں ! کہ شاید پھر انصاف ہو جائے! میں اپنی مریم جلاتا ہوں تم اپنی ماریہ جلا ڈالو! بدن کو خاک کر ڈالو! ناموس بچانی ہے یا انصاف چاہتے ہو؟ لختِ جگر کو بھول نہیں سکتے تو←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا صحافت اور ضابطہ اخلاق ۔۔منصور مانی

صحافی اور لکھاری اپنے بارے   میں یہ سوچنا پسند کرتے ہیں “ہم کسی کے احکام کے پابند نہیں ہم اپنے ذہن خود بناتے ہیں کہ کون سی خبر کو جگہ دی جائے،کس موضوع پر لکھا جائے یا ترتیب میں←  مزید پڑھیے

لڑکپن کا عشق۔یاد نمبر39۔منصور مانی

باورچی خانے کا دروازہ صحن میں  تھا،  میں صحن میں سرکنڈوں سے بنے موڑھے پر بیٹھا اُنہیں دیکھ رہا تھا، چولھے کے سامنے پڑی پیڑھی پر گلاب کا ڈھیر پڑا تھا،ہلکورے لیتا یہ ڈھیر  اتنا   پُر فسوں تھا کہ میں←  مزید پڑھیے

لڑکپن کا عشق۔یاد نمبر65/منصور مانی

لڑکپن کا عشق،یاد نمبر 65 میں چوبرجی کے چار میناروں کے سامنے ساکت کھڑا تھا،  ابھی  آگہی  کا در  وا ہونے میں سترہ برس کی مسافت  حائل تھی!میرے سامنے  تیسرے مینار  کی اوٹ میں  ایک آدمی  بیٹھا ہو اتھا جس←  مزید پڑھیے

محرم ، اب محبت اور یکجہتی کی علامت کیوں نہیں؟۔منصور مانی

غریب دیتے ہیں پرُسہ اب محبت کا۔۔ 80 کی دہاہی کا اوئل تھا،میں گلی میں اپنی عمر سے بڑے لڑکوں کے ساتھ مل کر سبیل سجا رہا تھا، ریکارڈ پر کہیں نوحے فضا میں سوگواری بکھیر رہے تھے، مگر ہم←  مزید پڑھیے

لڑکپن کا عشق۔یاد نمبر 1۔منصور مانی

اُس دن کچھ بھی اچھا نہیں تھا، میرے جوتے خستہ حال تھے اور اُن کے تسمے مجھ سے باندھے نہیں جا رہے تھے ، میں اسکول جانا نہیں چاہتا تھا، امی جان نے غصے سے میری طرف دیکھا، میرے تسمے←  مزید پڑھیے

لڑکپن کا عشق۔ منصور مانی

  یاد نمبر 48 موم بتی کی مدہم   پھڑپھڑاتی پیلی روشنی میں  سامنے والی دیوار پر   ہم دونوں کے سائے ایک دوجے میں مدغم تھے! ہم مگر الگ تھے!کمرے کی دہلیز اور سیڑھیوں کی کگار پر وہ گھٹنوں میں سر←  مزید پڑھیے

مت لکھو

یار دفع  کرو مت لکھو، اپنے بیوی بچے دیکھو! یہاں کوئی ساتھ نہیں کھڑا ہوتا, کوئی صحافتی تنطیم ,کوئی پریس کلب, یہ سب مرنے کے بعد یاد کرتے ہیں, آپ کو کتنی بار منع کیا تھا لکھنے سے کہ اتنا←  مزید پڑھیے

احتجاج

آداب کچھ عرصے کے لیے خاموشی مقدر بنا دی گئی ہے، کس نے بنائی کیوں بنائی یہ سوال لاحاصل ہے ! چلیں غصے کو اپنے اندر پالتے ہیں دیکھتے ہیں کیا رنگ لاتا ہے سحر ہونے تک! انعام نے مکالمہ←  مزید پڑھیے

سستا انصاف

اس ملک کی بدقسمتی کے اس کے حاکم لٹیرے، ،محافظ ڈکیت، اور منصف عدل سے عاری ہیں، صحافت اب کوٹھے کی وہ رقاصہ بن گئی ہے جو ہر مجرے کے بعد آداب بجا لیتی ہے۔ قانون میں ایسے ایسے سقم←  مزید پڑھیے

آج ابو جان کی وفات کو ایک برس بیت گیا!

آج ابو جان کی وفات کو ایک برس بیت گیا! ان کی وفات کے بعد لکھی گئی ایک تحریر۔ سرجن حفیظ نے گلاس میں یخ بستہ فانٹا نکالی اور میری طرف بڑھائی، ابو سامنے لیٹے تھے اور دیکھ رہے تھے،←  مزید پڑھیے

پہلی جماعت دوسرا انعام، انعام رانا

فیس بک پر تھا کہ ایک پیغام موصول ہوا، کوئی انعام رانا تھا، پیغام کیا تھا، ایک عرضی تھی محبت کے آٹے میں سلیقے سے گوندھی ہوئی، پڑھا، لکھا تھا “آپ مکالمہ کے لیے لکھیں، عزت افزائی ہو گی”۔ سوچا←  مزید پڑھیے

بیٹری والی کار

چھوٹے چھوٹے ہاتھ اُٹھا کر، ننھی گلابی ناک پُھلا کر، گردن اپنی کچھ گھما کر، دیکھ رہی ہے، بیٹی مجھ کو۔۔۔۔ ہاتھ میں اس کے ایک کھلونا، تھوڑا مہنگا اور نیارا، نظریں اس کی جمی ہیں مجھ پر، اب تو←  مزید پڑھیے

کراچی برابر دشت و ارم ہے

پلکیں اٹھاؤ جانم یہ آسمان کھلے گا، یہ صبح سانس لے گی،اوربادباں کھلے گا!۔۔۔۔محترم سے آشنائی فیس بک کے ذریعے ہی ہوئی،کچھ لوگ ہوتے ہیں جو دل میں اتر جاتے ہیں،اور کچھ ایسے خود پسند ہوتے ہیں کہ دل میں←  مزید پڑھیے

کیا کوئی جواب ملے گا؟

چھوٹے چھوٹے ہاتھوں پر جب چھڑی سے ضرب لگتی تو بس پہلی ضرب ہی تکلیف دیتی تھی اس کے بعد ہتھیلی سُن ہو جاتی تھی، اور میں اپنی آنکھیں ماسٹر صاحب کی آنکھوں میں ڈال کر اپنے سوالوں کے جواب←  مزید پڑھیے

بڑھاپے کا عشق

بڑھاپے کا عشق پکڑے گئے، آج صبح جب اُنہیں جامعہ کراچی تلک ہمراہی کا شرف بخشا تو کہنے لگیں، اتی چلچلاتی دھوپ میں آپ کو میں ایسے تو نہیں جانے دوں گی، ایسا کرتے ہیں دو گھڑی، کچھ ٹھنڈا ہو←  مزید پڑھیے

شبِ وصال

احباب اکثر شکوہ کرتے تھے کہ آپ کی تحریر اور نظموں میں بہت مایوسی نظر آتی ہے خون اور بے بسی کی تصویر جھلکتی ہے۔۔ان تمام احباب کے لیے ممتاز شیخ کی زیر ادارت سہ ماہی لوح میں شائع ہونے←  مزید پڑھیے