عادل ریت پر لیٹا ہوا تھا، ایک دن کا پیاسا کئی دنوں سے بھوکا۔ اس کا جسم شاید بےجان ہو چکا تھا اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ کسی عضو کو ہلا سکے۔ ہر چند لمحات کے بعد وہ← مزید پڑھیے
خدا بخش گھبرایا گھبرایا سا تھا اتنے سارے لوگ، کچھ پڑھے لکھے، کچھ دولت کی انا میں اکڑے ہوئے، کچھ سرکاری عہدوں پر فائز آقا بنے ہوئے۔ اسے انجینئر کے کمرے تک پہنچنا تھا۔ وہ تو پانچ ایکڑ زمین کا← مزید پڑھیے
انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام مجھے کتنا دکھ تھا اپنی زمین، اپنی جگہ چھوڑنے کا۔ وہ محض زمین نہیں تھی بلکہ میری جنّت تھی، جہاں← مزید پڑھیے
تھانیدار کے سیکریٹری نے فون اٹھایا۔ ہیلو۔۔ جی ہماری مدد کریں ۔ ہمارے گاؤں پہ راشٹریہ سنگھ کے لوگ حملہ کرنے والے ہیں، وہ ہم کو مار ڈالیں گے، ہمارے مکان جلا دیں گے، ہماری فصل کو آگ لگا دیں← مزید پڑھیے
ریمنڈ چلتا رہا، چلتا رہا، اپنی چھوٹی مگر مضبوط ٹانگوں کے ساتھ۔ موٹی سوت کی بنیان کے اوپر چیک دار قمیض اور اس کے اوپرکالے رنگ کی بھاری جیکٹ، سر پر اونی ٹوپی، ہاتھوں پہ دستانے، برفانی بوٹ۔ پورا سماں← مزید پڑھیے
اس حبس سے بھرے ہوئے بدبو دار سیل میں سہیل مسیح اونگھ رہا تھا ہمیشہ کی طرح۔ گال پچکے ہوئے اور آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں۔ اگر کبھی اس کی آنکھ لگ بھی جاتی تو جلّاد کی شکل، پھانسی کا پھندہ،← مزید پڑھیے
فجر روز بیٹے کو طعنے دیتی کہ اس کو باپ سے محبت نہیں ہے ورنہ وہ مکان بیچ کر اس کا علاج کرواتا۔ وہ مکان جو باپ نے عمر بھر ایک ایک پیسہ جمع کر کے کھڑا کیا تھا اور← مزید پڑھیے
ہائے! تم نے مجھے کیوں بیمار کردیا؟ اب تَو مجھے کھانسی کے ختم نہ ہونے والے دورے پڑ رہے ہیں۔‘ انسان نے کراہتے ہوئےکہا۔ میں تَو اپنے لیے صرف ایک خلیہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اوہ! تم بول پڑے۔ میں کب← مزید پڑھیے
کراچی شہر ہر طرف جھنڈوں اور جھنڈيوں سے سجا ہوا تھا۔ پچاسواں یومِ آزادی بہت جوش و خروش سے منایا جا رہا تھا۔ اصغر اس ماحول سے بےنیاز اپنی بیوی اور تین بچوں کے ہمراہ ایک موٹر وین میں منزل← مزید پڑھیے
بھاری بوٹوں کی چاپ نے خیالوں میں مگن اکبر کو چونکا دیا۔ ’میں تو شور کو سُنا اَن سنا کر دیتا ہوں لیکن آج مجھے کیا ہو گیا! وہ تو پتا نہیں کب سے لیٹ کر چھت کو گھور رہا← مزید پڑھیے
میرے جیون ساتھی، آؤ!اب تم واپس آجاؤ! میں اپنے بتوں کو توڑ دوں گی اور تم بھی اپنے بتوں کو پاش پاش کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ پھر ہم خوشگوار زندگی پالیں گے جس میں دونوں کا ایک ہی← مزید پڑھیے
’میں تمہیں کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں۔ تم تہہ خانے میں رات گئے اندھیرے میں گڑگڑا کر کیا دعا مانگ رہے ہو؟ تم تو نماز ہی شاذ و نادر پڑھتے ہو۔‘ خالدہ سے رہا نہ گیا۔ مبارک نے اپنی← مزید پڑھیے
نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی پرزے← مزید پڑھیے
نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقع کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں گم تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟ ← مزید پڑھیے
جب میں نے اپنے ادیب دوست خالد سہیل کو اپنا نیا افسانہ “شرمیلی کی روح شرمیلی کا جسم ،پر تیری مرضی” ان کی نظر ثانی اور رائے کے لئے ای میل کے ذریعے بھیجا تو ایک یا دو دنوں کے← مزید پڑھیے
جب کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں ایک پارک میں گیا مجھے کوئی انسان نظر نہیں آیا، سنسان پارک کو دیکھ کر میں گھبرا گیا، چاروں طرف خاموشی ہی خاموشی تھی، پھر ایک چڑیا میرے سامنے آ کر بیٹھ← مزید پڑھیے
ایک عالم ِدین کو وبا پھیلنے کی وجہ پتا لگ گئی ۔ اے عالمِ دین تیرےپاس یہ پیغام کہاں سے آیا ہے کہ یہ وائرس میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی سزا ہے کہ یہ وائرس عورتوں کی فحاشی← مزید پڑھیے
چاروں اطراف ہُو کا عالم تھا۔ صبح کاذب کے اندھیرے اور کہر میں سب چھپا ہوا تھا۔ شلوار قمیض میں ملبوس عدنان کمبل میں ٹھٹھرتا ہوا ،کچھ ٹھوکریں کھا کر ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔ “مجھے معاف کر دو۔← مزید پڑھیے
درمیانے قد اور بھاری وزن کے ڈاکٹر شرما نے الٹراسونک کمرےسے نکل کر دفتر کی طرف مڑ کر زورسے کہا۔ “جے ماتا جے ” اور سب گھر والوں کے چہرے لمبے ہو گئے ۔ میرے سسر کی آنکھوں سے چنگاریاں← مزید پڑھیے
نوید کیفے سے باہر نکل کر موٹر رکشہ میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرایا ۔ نوید نے دور سے آنے والے کھمبے کے ٹمٹماتے ہوئے بلب کی روشنی میں غور سے دیکھا تو ایک لڑکی گلاب← مزید پڑھیے