مہمان تحریر کی تحاریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بند کمرے سے کیسے نکلوں؟ ۔۔۔سہیل وڑائچ

ہر شخص اور ہر گھر کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کو سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال میرا بھی ہے میں اندھیرے کمرے میں بند ہوں، میرے احساسات وہی ہیں جو ایک قیدی کے←  مزید پڑھیے

رفو گر چاہیے۔۔۔۔سہیل وڑائچ

سارا قصہ میری رنگین ریشمی اور عزیز از جان لنگی کا ہے۔ یہ خاندانی لنگی ہے، پُرکھوں کی پرم پرا اور روایات کی یاد دلاتی ہے۔ چند دن پہلے اسے آہنی کالے صندوق سے نکالا تو اس میں جابجا سوراخ←  مزید پڑھیے

روک سکو تو روک لو۔۔۔۔حامد میر

یہ اکتوبر 2002تھا۔ جیو ٹی وی کی ٹرانسمیشن کے آغاز کو صرف چند ہفتے ہوئے تھے۔ جیو کے رپورٹرز اور کیمرہ پرسن کسی سرکاری تقریب یا سرکاری دفتر میں کوریج کے لئے پہنچتے تو انہیں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا۔←  مزید پڑھیے

مہان سنگھ کی سمادھی۔گوجرانوالہ۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

ایک بے آرام تنگ سی گلی جس کے دونوں جانب کے بھدے سے مکان پہلوانوں کی مانند ماتھے قریب کرتے ہوئے اک دوجے کے ساتھ بھڑ جانے کو تیار۔ ایک ایسی گلی جس میں داخل ہو کر انسان خود بھی←  مزید پڑھیے

پولینڈ کی دیہی زندگی کا دیدار۔۔۔۔ رمضان رفیق

آج سفر کی ہی بات کرتے ہیں، منزلوں کو پھر کبھی اپنا موضوع بنائیں گے۔ کبھی کبھی سفر منزل سے زیادہ بھا جاتا ہے، اگر راستے پر فطرت کے رنگ بکھرے ہوں تو نظارے اپنی فرحت بخشی سے ایک قرار←  مزید پڑھیے

کرنٹ افیئرز۔۔۔۔حسن نثار

موالیوں کا مجمع ہے۔غیظ و غضب، غصہ، نفرت، حقارت اور انتقام کے مارے ہوئے لوگ۔کانوں سے دھواں اور زبانوں سے زہر نکل رہا ہے۔فہم و فراست، تحمل تجمل توازن، دانش، رواداری، دلنوازی، جاں سوزی، صبر اور نظم و ضبط کا←  مزید پڑھیے

ایک عیاش بارشاہ۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

اسکول میں جب ہم معاشرتی علوم پڑھتے تھے تو غالباً آٹھویں جماعت میں ایک باب مغل سلطنت کے زوال کے اسباب سے متعلق ہوا کرتا تھا، مجھے یہ بہت پسند تھا کیونکہ ہر سال اِس سے متعلق ایک سوال ضرور←  مزید پڑھیے

حیرانیاں، پریشانیاں ۔۔۔حسن نثار

آج کچھ حیرانیاں اور کچھ پریشانیاں شیئر کرتے ہیں مثلاً….مجھے کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن اپنے کرکٹرز سے بے پناہ ہمدردی ضرور ہے جو ایک میچ جیت کر ’’شاہین‘‘ اور دوسرا میچ ہار کر ’’کوے‘‘ بن جاتے ہیں۔بچپن میں←  مزید پڑھیے

مفاہمت یا مزاحمت۔۔۔حامد میر

سیاست میں تلخیاں مزید بڑھنے والی ہیں۔ مزید مقدمات اور مزید گرفتاریوں پر حکمران خوشیوں کے ڈھول پیٹتے نظر آئیں گے لیکن یہ ڈھول ایک نئی جنگ کا طبل بن جائیں گے۔ اس جنگ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ←  مزید پڑھیے

پروین کلو کی کتاب کارل مارکس پر تبصرہ۔۔۔۔روما رضوی

“فلسفے نے دنیا کو صرف مختلف انداز سے سمجھا ہے ۔۔۔مگر وقت کی اصل ضرورت دنیا میں عملی تبدیلی کی ہے” ایسا کہنا دنیا کے عظیم ترین ماہر معاشیات و روشن خیال فلسفی کارل مارکس کا ہے ۔۔ میرا موضوع←  مزید پڑھیے

میں اب کہیں بھی پڑھا نا نہیں چاہتا۔۔۔۔احمد حماد

شعبہ تدریس سے وابستہ ہونا جان و مال، اور عزت و آبرو کے لیے اس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، مجھے اندازہ نہیں تھا۔ میں اس کام کو پیغمبروں کی میراث سمجھتا اور دل و جان سے محنت کرتا۔ دیانت←  مزید پڑھیے

زیدی فوٹو گرافرز اور شاہد زیدی کا کمال فن۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

چلئے آپ بھی کیا یاد کریں گے ہم آج کی بات نہیں کرتے۔ آج سے تقریباً ستر برس پیشتر کے زمانوں کا قصہ چھیڑتے ہیں۔ ہم ان دنوں کافی نابالغ ہوا کرتے تھے یعنی ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے اور←  مزید پڑھیے

کالا شاہ۔۔۔۔روبینہ شاہین

علی زین انڈونیشیا میں پیدا ہوا اور زندگی کے ابتدائی چار سال وہیں گزارے۔ جکارتہ میں زیادہ تر انڈونیشینز، چائینیز اور انڈینز رہائش پذیر ہیں۔ انڈونیشینز اور چائنیز بچوں سے بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں، پھر ان کو تیکھے←  مزید پڑھیے

والدین سے اپیل۔۔۔حسن نثار

کئی سال پہلے کی بات ہے میں ’’بیلی پور‘‘ والے گھر کی بالکنی میں کھڑا ہریالی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کبوتروں کی غٹرغوں موسیقی سن رہا تھا کہ میرے سامنے بیری کے درخت میں جنگ چھڑ گئی۔ کوا جھپٹ←  مزید پڑھیے

جمائی آنے کا سبب معلوم ہوا۔۔۔۔رضا علی عابدی

جمائی کیا ہے؟ کیا بڑا سا منہ کھولنے کا نام جمائی ہے؟ کیا یہ ہماری روزمرہ زندگی میں ہم پر اس طرح طاری ہوتی ہے کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم جماہی لے رہے ہیں یا ہم یقین←  مزید پڑھیے

قصہ قصہ لکھنو۔۔۔۔شافع قدوائی

ہمانشو باجپئی کی یہ کتاب لکھنوی تہذیب کے عوامی کردار اور اس تہذیب کی آبیاری کرنے والے متعدد بے نام فنکاروں اور عوام کی روداد فنکارانہ شعور کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ تہذیب کو معروف حوالوں اور امتیازی نشانات (Landmarks)کے←  مزید پڑھیے

شیر کی موت ۔۔۔۔حامد میر

اُسے اقتدار تو مل گیا لیکن اختیار نہ ملا۔ عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے والا یہ لیڈر اختیار حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کر سکے۔ اُس نے پارلیمنٹ کے ذریعہ اختیار حاصل←  مزید پڑھیے

مشتاق احمد یوسفی:اپنے کرداروں کے ساتھ ہنسنے والامزاح نگار ۔۔۔۔۔محمد تقی

مشتاق احمدیوسفی کا کمالِ فن یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے ساتھ ہنستے ہیں، ان پر نہیں منم آں شاعر ساحر کہ بہ افسونِ سخن از نئ کلک ھمہ قند و شکر می بارم میں وہ جادوگر شاعر ہوں←  مزید پڑھیے

مسجد بیگم پورہ اور مٹھو کی حویلی۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

بیگم پورہ کی تاریخی مسجد کے وسیع صحن میں دھوپ بہت تھی اور تشویش اور انجانے کا خوف بہت تھا۔ صحن پر کھلتی متعدد قدیم محرابیں جو کسی زمانے میں کھلی ہوں گی۔ سفید دروازوں اور شیشوں سے ان زمانوں←  مزید پڑھیے

پرانی شیروانی کا ٹوٹا ہوا ایک بٹن۔۔۔۔مظہر برلاس

مودی تنہائی کا شکار تھے اور وہاں سب سے اہم سمجھے جانے والے پیوٹن کے لئے بھی کوئی اہم تھا، اسی لئے پیوٹن ہر جگہ عمران خان کے ساتھ باتیں کرتے نظر آئے۔ بشکیک میں پاکستانی وزیراعظم نے اپنی کرشماتی←  مزید پڑھیے