قصہ قصہ لکھنو۔۔۔۔شافع قدوائی

ہمانشو باجپئی کی یہ کتاب لکھنوی تہذیب کے عوامی کردار اور اس تہذیب کی آبیاری کرنے والے متعدد بے نام فنکاروں اور عوام کی روداد فنکارانہ شعور کے ساتھ بیان کرتی ہے۔

تہذیب کو معروف حوالوں اور امتیازی نشانات (Landmarks)کے حوالے سے بیان کرنا مقبول عام پیرایہ اسلوب ہے۔ فنون لطیفہ (رقص، موسیقی، پینٹنگس وغیرہ)، شعرو ادب، خوردو نوش، آداب زیست، ثقافتی رسومیات، طرزِ تعمیر اور ملبوسات کے توسط سے ایک مخصوص ثقافت کے امتیازات واضح کیے جاتے ہیں اور عالمانہ تحریریں، تاریخی کتابیں اور تخلیقی بیانیہ ان ہی نکات کے محور پر گردش کرتا ہے۔

یوں بھی ہے کہ تہذیبی مظاہر کی نشان دہی کا اساسی حوالہ صاحب اقتدار طبقہ ہی ہوتا ہے اور ثقافت کا ہر نکتہ اقتدار کے کسی فعل و عمل سے روشن ہوتا ہے۔ تہذیب کی آبیاری اور معاشرہ میں اس کے نفوذ کی تمام صورتیں مقتدرہ کے وجود سے غذا حاصل کرتی ہیں۔ شہرہ آفاق لکھنوی تہذیب کے خدو خال کی نشان دہی عموماً نوابین اور ان کی بیگمات کے طرز بودوباش، ملبوساتی و غذائی ترجیحات، فنون لطیفہ ، شعرو ادب اور علوم و فنون کی پذیرائی کی وساطت سے کی جاتی ہے۔

مزید برآں قدرتی مظاہر، طرزِ تعمیر، عمارتیں اور معاشرتی و اخلاقی اقدار پر مبنی تصور حیات کو بھی ثقافتی شناخت کا اہم مظہر سمجھا جاتا ہے اور زبانی بیانیہ بشمول داستان، حکایت اور تخلیقی تحریریں بھی دربار سے وابستہ تفصیلات اور اس عہد کی حکومت کی ہر قسم کی فتوحات اور دستیابیوں کو ہی پیش نگاہ رکھتی ہیں۔ اکثر بدیہی اور دہرائی گئی حقیقت پوری سچائی کا اظہار نہیں کرتی اور اصل صورتحال نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

لکھنوی تہذیب اور اس کے متعلقات بشمول ادب، فنون لطیفہ، طرزِ عمارت، مخصوص کھانوں اور ثقافتی روایات پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں اور لکھنؤ متعدد ناولوں اور افسانوں کا مرکزی موضوع رہا ہے مگر دربار اور مقتدرہ سے قطع نظر اس تہذیب کا عوامی کردار کیا تھا اور عام لوگوں نے دنیا بھر میں مشہور لکھنوی تہذیب کے مختلف رنگ کس طرح بھرے، یہاں کے عوام کس طرح زندگی بسر کرتے تھے اور ادب اور فن عوامی سطح پر کس طرح صورت پذیر ہوتے تھے، اس نوع کے سوالات پر شاذہی غور کیا گیا ہے۔

لکھنوی تہذیب کس طرح عوامی قصوں میں منعکس ہوتی ہے اور عوامی حافظہ میں شعرو فن اور فکر و اظہار کے مختلف طریقے کیسے محفوظ ہیں، ہمارے عہد کا مقبول تنقیدی طریقۂ تفہیم ‘تہذیبی مطالعہ’ان سوالات کو مرکز توجہ بناتا ہے۔ مقام مسرت ہے کہ تہذیبی مطالعہ کے ان سوالات کے قرار واقعی جواب کے لیے لکھنوی تہذیب کے جواں سال شارح اور داستان گو ہمانشو باجپئی نے ایک پہلودار تخلیقی بیانیہ خلق کیا ہے جس کی اساس لکھنؤ کے عوامی قصوں کی انتہائی دلچسپ اور مختصر حکایتوں پر ہے اور یہ پر اثر تحریریں ان کی ہندی کتاب ‘قصہ قصہ لکھنوا’میں شامل ہیں۔

اس کتاب کی زبان خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ ہمانشو باجپئی فنِ قصہ گوئی پر ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں اور وہ مطبوعہ لفظ کے مقابلے میں بولے گئے لفظ (Spoken word)میں پوشیدہ ربط کے وسیع تر امکانات سے بخوبی واقف ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس نوع کے لفظ میں گفتگو کی سی برجستگی اور فوری پن پایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمانشو نے اپنی کتاب کی زبان بول چال سے بہت قریب رکھی ہے اور موضوعاتی رنگا رنگی سے قطع نظر یہی اس کتاب کی سب سے قابل قدر خوبی ہے۔

72 مختصر حکایتوں پر مشتمل اس کتاب کے مصنف لکھنؤ کے تاریخی محلے چوک کے باشندے ہیں اور وہ خود کو اس چوک یونیورسٹی کا طالب علم قرار دیتے ہیں جس کے وائس چانسلر ہندی کے ممتاز ناول نگار امرت لال ناگر تھے۔ناگر جی خود کو چوک یونیورسٹی کا وائس چانسلر کہنے میں فخر محسوس کرتے تھے ۔ اردو کے مشہور ادیب اور مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے اس کتاب کے تعارف میں لکھا ہے ؛

اس کتاب میں انہوں (ہمانشو باجپئی)نے خاص طور پر لکھنؤ کے عوام کو سامنے رکھا ہے۔ یہ نوابوں کے قصے نہیں ہیں بلکہ ایک عام آدمی کے، محنت کرنے والے آدمی کے، مزدوری کرنے والے آدمی کے قصے ہیں جنہیں ہمانشو نے سماج کے ایک اہم فرد کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ صرف قصے نہیں ہیں بلکہ ان قصوں میں لکھنؤ کی وہ تہذیب جو کبھی تھی، اس کا اظہار بڑی دل نشینی کے ساتھ انہوں نے کیا ہے اور پوری دلجمعی کے ساتھ ان قصوں کو جمع کیا ہے۔

ہمانشو نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے کہ یہ کتاب ان کے طبع زاد قصوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ یہ زبانی بیانیہ کی روایت کا حصہ ہے جس میں ان کا کردار قصہ گو کا ہے، مصنف کا نہیں۔ انہوں نے لکھنوی اور لکھنوا میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے؛

یہ قصے ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے یہ قصے پہلے کبھی نہیں سنے۔ یہ اس لکھنؤ کے قصے ہیں جہاں میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور رہتا ہوں اور اس لکھنؤکو اپنے انداز میں سب کو دکھانا چاہتا ہوں کیوں کہ یہ میرے لوگوں کے قصے ہیں۔ ان لوگوں کے جن کے قصے لکھنوی برانڈ کے قصوں میں اکثر شامل نہیں کیے جاتے۔ یہ لکھنوی قصے نہیں ہیں، یہ لکھنوا قصے ہیں۔

اس کتاب میں اودھ کے نوابوں، ان کے صنفی رجحانات، آرائش و زیبائش سے دلچسپی اور عشقیہ داستانوں کی دلفریب داستانیں بیان نہیں کی گئی ہیں بلکہ عوام کو قصہ کے قلب میں جگہ دی گئی ہے۔لکھنوی تہذیب کی اساس باہمی اخوت، رواداری اور مذہبی تعصب سے بے زاری پر استوار تھی اور دوسروں کے مذہب کے تئیں احترام عوام میں ایک مستقل جذبے کے طور پر جاگزیں تھا اور اسے طرزِحیات کا بھی نام دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں بہت کچھ لکھا بھی جا چکا ہے مگر ہمانشو نے اس کی مرقع کشی ایک پان والے وشوناتھ کے قصے سے کی ہے۔

گنگا جمنی تہذیب اصلاً مذہبی رواداری کا ایک نام ہے اور اب سے کچھ عرصہ قبل لکھنؤ میں اس کی پاسداری کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ ایک غیر مسلم پان فروش عاشورکے دن کتھے کا پان نہیں بیچتا تھا کہ کتھے سے منھ لال ہو جاتا ہے اور اس سے غم حسین کی توہین ہوتی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل ہمانشو کی زبانی سنئے ؛

موصوف (وشوناتھ) کی خاص بات یہ تھی کہ وہ عاشور یعنی دس محرم کے دن کتھے کا پان نہیں بیچتے تھے۔ ہر گز نہیں۔ چاہے آپ اس کے لیے ان پر قارون کا خزانہ وار کر دیں یا ان کی کنپٹی پر گولی مار دیں۔ عاشور کے دن جو بھی ان کی دکان پر پان لینے آتا وشواناتھ اسے بغیر کتھے کا پان ہی پیش کرتے۔ جاننے والے اسے خوشی خوشی قبول بھی کر لیتے۔ کوئی کتھے کے لیے اصرار کرتا تو وشوناتھ اپنی شہد گھلی زبان سے فرماتے ’اماں چھوڑیے، غمی کے دن کیا ہونٹ لال کرنا ‘۔ اگر کوئی ان کے اس انداز پر حیرت ظاہر کرتا یا ان کی تعریف میں قصیدے پڑھتا تو وشوناتھ بے نیازی اور انکساری کے ساتھ کہتے، ’لکھنؤ میں پان والوں کا یہی عام قاعدہ تھا، دیکھا دیکھی ہم نے بھی سیکھ لیا‘۔ اگر آپ پرانے لکھنؤکے پرانے لوگوں سے بات کریں تو ان کی بات کی تصدیق ہو جائے گی۔ مگر آج یہ قاعدہ عام نہیں۔ اس لیے وشوناتھ کی دس برس پرانی بات بھی سو سال پرانی لگتی ہے۔

معاشرتی اصلاح کا تعلق محض سماجی کارکنوں، سیاست دانوں اور دانش وروں سے نہیں ہے۔ وشوناتھ جیسے عام شہری بھی یہ فریضہ انجام دیتے تھے اور وہ بچوں کو تمباکو کی جگہ سونف اور الائچی کا پان دیتے تھے۔ یہ اس دور کا قصہ ہے جب نابالغ بچوں کو تمباکو اور سگریٹ فروخت کرنے پر قانونی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔

ہمانشو نے نخاس کے ایک پرانے چائے خانے ‘وزیرو کا ہوٹل’ کی حکایتِ دل پذیر بھی بیان کی ہے؛

وزیرو رسمی تعلیم سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے مگر وہ بڑے ‘کن رس’یا موزوں اور ناموزوں میں فرق کرنے میں بڑے مشاق تھے۔ ان کے ہوٹل میں ایک نواب صاحب آئے اور انہوں نے غالب کا ایک شعر غلط پڑھا۔ اس پر وزیرو نے کہا ‘نواب صاحب برائے مہربانی آپ تو چچا کو معاف ہی رکھیں۔ یہ کوئی مذہبی کتاب تھوڑے ہی ہے کہ جیسے چاہو ویسے ہی پڑھ دو۔

اب سے ساٹھ ستر سال قبل بعض فنکاروں نے گالیوں کو بھی اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا تھا۔ اس سلسلے میں استاد رفیع احمد خاں اور شیخ باقر علی چرکیں کے نام لیے جاتے ہیں۔ اسی فہرست میں وزیرو کا نام بھی شامل ہے کہ بقول مصنف وزیرو کے یہاں گالی دینا ایک فن تھا اور وہ اس فن کے سب سے بڑے فنکار تھے۔ لوگ وزیرو کی گالیاں سننے کے مشتاق رہتے تھے اور ان کے ہوٹل پر آنے والے چائے لینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی گل افشانی گفتار کے جلوے دیکھنے کے لیے آتے تھے۔

لکھنوی تہذیب کی آبیاری میں اودھی کا رول بہت اہم ہے تاہم مستقبل قریب کے اہم شاعروں مثلاً رمئی کاکا اور بل بدھر پرساد دکشت ’پڑھیس‘ سے واقفیت عام نہیں ہے۔ ہمانشو نے ان دونوں اہم فن کاروں پر دو مختصر خاکے لکھے ہیں۔ اسی طرح مشہور طبلہ نواز احمد جاں تھرکوا، مشہور گلوکارہ جدن بائی، بندا دین مہاراج، استاد پکھواجی، اچھن مہاراج (برجو مہاراج کے والد)، نوشاد، ناشاد، شعرا جوش ملیح آبادی، نخشب جارجوی، اثر لکھنوی، مجاز لکھنوی، نیاز فتح پوری، والی آسی، نیر مسعود اور انیس اشفاق وغیرہ سے متعلق واقعات بھی درج کیے ہیں۔

بھانڈوں کے بھی قصے بیان کیے گئے ہیں۔ہمانشو باجپئی کی یہ کتاب لکھنوی تہذیب کے عوامی کردار اور اس تہذیب کی آبیاری کرنے والے متعدد بے نام فنکاروں اور عوام کی روداد فنکارانہ شعور کے ساتھ بیان کرتی ہے اور مصنف کی یہ قابل قدر کوشش یقیناً عوام اور خواص ،دونوں سطحوں پر بار آور ثابت ہو گی۔

بشکریہ دی وائر

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *