حیرانیاں، پریشانیاں ۔۔۔حسن نثار

آج کچھ حیرانیاں اور کچھ پریشانیاں شیئر کرتے ہیں مثلاً….مجھے کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن اپنے کرکٹرز سے بے پناہ ہمدردی ضرور ہے جو ایک میچ جیت کر ’’شاہین‘‘ اور دوسرا میچ ہار کر ’’کوے‘‘ بن جاتے ہیں۔بچپن میں بزرگوں سے سنا تھا کہ غیر ضروری چیزوں کا خریدار ایک نہ ایک دن اپنے گھر کا ضروری سامان بھی بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ میں جب پرائیویٹائزیشن کے نام پر اپنے حکمرانوں کو ملکی اثاثے بیچنے کی منصوبہ سازی کرتے دیکھتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا ان لوگوں نے بچپن میں اپنے بزرگوں سے کچھ نہیں سنااگر امیر دکھائی دینے کی خواہش یعنی نمود و نمائش امیر بننے کے رستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو لوگ اس عادت سے جان کیوں نہیں چھڑا لیتے؟خود اپنا پیٹ تو درندے پرندے چرندے بھی بھر لیتے ہیں تو کیا مجھے دوسروں کے خالی پیٹ بارے نہیں سوچنا چاہئے؟زرد اور سفید قیمتی دھاتیں کالے دنوں کے لئے ہوتی ہیں۔عزت کمانا اک وزنی پتھر کو پہاڑ کی چوٹی تک لے جانا ہے جبکہ اسے گنوانا اس وزنی پتھر کو بلند چوٹی سے نیچے لڑھکانے کے برابر ہے۔ میں اپنی تاریخ میں اس کھیل کا تسلسل دیکھ کر سوچتا ہوں کہ یہ سلسلہ کبھی ختم بھی ہو گا یا یونہی جاری رہے گا اور اگر رہے گا تو کب تک؟افراد ہوں یا اقوام کبھی  کبھی ان کی ایک خوبی ان کی بیشمار خامیوں پر حاوی ہو کر ان پر دبیز پردہ ڈال دیتی ہے جبکہ کبھی کبھی ان کی ایک خامی ان کی لاتعداد خوبیوں کو زندہ نگل جاتی ہے۔ ہمارا تعلق کس قسم کے لوگوں سے ہے یا ہم اپنی ہی قسم کے لوگ ہیں؟پیٹ اور دماغ میں جنگ چھڑ جائے تو جیت کس کی ہو گی؟ خالی پیٹ دماغ کو مغلوب کرے گا یا دماغ پیٹ پر غلبہ حاصل کرے گا؟خالی برتن شور بہت مچاتے ہیں اور خالی تھیلے کبھی سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے اسی لئے بدحالی کو خوشحالی کا استقبال کرنے کے لئے خود ایئر پورٹ پہنچنا پڑتا ہے۔دولت کی عمر لمبی نہیں ہوتی لیکن میں نے اسے کبھی مرتے بھی نہیں دیکھا یا شاید یہ دست اجل سے اس لئے محفوظ رہتی ہے کہ ٹھکانے بدلتی رہتی ہے۔ہر چشمے کا پانی پیاس بجھانے کے قابل نہیں ہوتا۔اس قوم کا مستقبل جاننا بہت آسان ہے جو حقیقی علوم پر سالانہ صرف ایک ارب خرچ کرے اور اورنج ٹرین منصوبہ پر 300ارب برباد کر دے۔ ایسا کرنے والا ہر شخص مجرم بھی ہے اور گنہگار بھی۔ہم کسی انسان کو عالم اور کسی مکان کو دارالعلوم کیسے کہہ سکتے ہیں؟عالم صرف وہ ہے جو عالم کا چہرہ تبدیل کر سکے۔جیسے آج تک کسی نے دیمک کے دانت، سانپ کے پائوں اور چیونٹی کی ناک نہیں دیکھی، اسی طرح آج تک کسی نے کرپٹ کی کرپشن بھی نہیں دیکھی…اسے صرف ملکی معیشت کی تباہی میں دیکھا جا سکتا ہے۔تانت کے بغیر کمان، دستے کے بغیر تلوار، انی کے بغیر نیزا، نعل کے بغیر گھوڑا، پیندے کے بغیر برتن اور وژن کے بغیر قیادت ایک برابر ہے۔مریض کا المیہ اس کی موت نہیں، مرض کی تشخیص کا نہ ہونا ہے اور مریض اگر فرد کی جگہ کوئی قبیلہ یا قوم ہو تو یہ المیہ عظیم ترین المیہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔سوائے باتوں کے کچھ نہ کچھ بناتے رہنے سے کچھ نہ کچھ تو بن ہی جاتا ہے۔بیشمار معصوموں کی ’’بچت‘‘ جب ایک مکار کے پاس جمع ہو جائے تو اسے دولت کہتے ہیں۔انسانوں کو حکمرانوں کی صورت میں بھی سزائوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مافیاز کو جنم دینا آسان، ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اپوزیشن کہتی ہے حکومت تنقید برداشت کرے اور نہیں جانتی کہ تنقید اور گالی میں فرق ہوتا ہے۔میں سیاستدانوں کی زیادہ سے زیادہ اتنی ہی عزت کر سکتا ہوں جتنی عزت وہ ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔پہلے جمہوریت کے ساتھ میثاق جمہوریت نے ہاتھ کیا، اب کہیں معیشت کے ساتھ میثاق معیشت والا ہاتھ نہ ہو جائے۔جب تک پانی سر سے گزر نہیں جاتا، ہم ایڑیاں نہیں اٹھاتے۔تجارت قیادت میں تبدیل ہو گی تو سب کچھ بک جانے کا خطرہ جنم لے گا۔تعداد میں اضافہ کے بعد ملک کے اندر گدھوں کی تعداد 54لاکھ تک پہنچ گئی

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *