پنجاب یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ایک نوجوان شعیب امین کا پیغام موصول ہوا کہ ملک میں آج کل مفلسی کے حالات چل رہے ہیں جس کی وجہ سے خودکشی کے واقعات رُونما ہو رہے ہیں، اس پر دل پریشان رہتا← مزید پڑھیے
حس ہوتے ہوئے بے حس ہو جانا ایسے ہی ہے جیسے شرم و حیا کے ہوتے ہوئے بے حیا ہو جانا۔ حدیثِ پاک میں ہے “جب تو حیا کو کھو دے تو جو جی چاہے کر” اللہ اللہ! “جو جی← مزید پڑھیے
انسان ساری عمر سیکھتا ہے۔ جب آتش جواں تھا اور ہمارے پیڈیاٹرکس کے استاد ڈاکٹر شاہد دو آتشہ تھے، تو اتفاق ہسپتال کے بچہ وارڈ میں راؤنڈ کے دوران میں ہمیں کہا کرتے: You do not have to be defensive← مزید پڑھیے
زندگی نعمتوں سے بھرپور اور زبان پر شکووں کی بھرمار ہو تو یہ مقام، مقامِ حیرت نہیں، عبرت ہے۔ عبرت کا زمانہ حال بہت تابناک ہوتا ہے …… صرف مستقبل کربناک ہوتا ہے۔ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ← مزید پڑھیے
اے غزہ اور اہلِ غزہ! ہم شرمندہ ہیں۔ ہم شرم سے گڑے جا رہے ہیں، ہم اپنے ساتھ بھی نظریں نہیں ملا سکتے۔ ”بای ذنب قتلت“ …… گویا قیامت کے روز ہم سے تمہارے بارے میں جب پوچھا جائے گا← مزید پڑھیے
کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کھاتے پیتے ہیں، ہمارا وجود وہی خُو بُو اختیار کر لیتا ہے۔ انگلش میں ایک محاورہ ہے: You are what you eat۔ یہ محاورہ شائد صرف جسم کی حد تک ایک کلیہ فراہم کرتا← مزید پڑھیے
قول، عمل کی بنیاد ہے۔ بنیاد کمزور ہو تو عمارت مخدوش قرار دے دی جاتی ہے۔ بنیاد ٹیڑھی ہو تو عمارت کی تعمیر میں کجی اور کج روی نظر آتی ہے۔ قول نیت سے جنم لیتا ہے۔ دراصل عمل کرنے← مزید پڑھیے
خیر کا منبع و مرکز وہی ذاتِ ذوالجلال ہے جو بلاشرکتِ غیرے کائنات و مافہیا کی خالق بھی ہے، اور بدیع بھی! خالق ہونا حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں ہو سکتا ہے لیکن بدیع ہونا ایک ایسی صفت ہے← مزید پڑھیے
اُمّید ایک چراغ کی مانند ہے اور مایوسی ایک گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے۔ اُمّید کا ننھا سا دیا بھی اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ مایوسی کے گھپ اندھیروں میں یقین کے خورشید کی خبر دیتا ہے۔ اُمّید عجب چیز ہے۔← مزید پڑھیے
جس طرح کوئی چہرہ کسی چہرے کا متبادل نہیں، اس طرح کوئی لفظ بھی کسی لفظ کا متبادل …… ہو نہیں سکتا! لفظ ظاہر ہے، اس کے معانی باطن میں ہیں۔ اسی طرح انسان کا ظاہر بس ایک کتاب کا← مزید پڑھیے
ربِ کائنات نے یہ کائنات اس طرح تخلیق کی ہے کہ یہاں اسباب و نتائج کی دنیا غالب رہتی ہے، طاقت علی الاعلان حکمرانی کرتی ہے، جبکہ عقیدے، عقیدت اور اخلاقیات کی دنیا باطن میں پنہاں مخفی رہتی ہے۔ لطف← مزید پڑھیے
مسلم امہ کے زوال کے اسباب ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے نہیں، صدیوں سے لکھا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان جب مسلم معاشرے میں شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اسے دائیں بائیں سے یہی سننے کو← مزید پڑھیے
یہ کائنات ایک صحیفہِ حسن ہے۔ اس میں ہونے والا ہر واقعہ، ہر فرد، ہر ذی جسم مثل ایک آیت ہے، جسے کتابِ ہستی سے نکالنا ممکن نہیں۔ ہر ذی جسم کا حق ہے کہ اسے اپنے ہی اسم سے← مزید پڑھیے
عجب بات ہے، تاریخ کو عقیدے کی نگاہ سے دیکھا جائے تو مورخین کے نزدیک قابلِ قبول نہیں رہتی اور اگر اسے سرمہ عقیدت کے سرمائے کے بغیر دیکھا جائے تو یہ اہلِ عقیدہ کے ہاں قبول کے قابل نہیں← مزید پڑھیے
معروف و مقبول طربیہ نظم “میں نعرہِ مستانہ” کے آخری تین اشعار ہنوز موضوعِ سخن ہیں۔ درمیان میں کچھ تعطل آ گیا۔ آج اس نظم کو مکمل کرتے ہیں اور سامانِ دل و جان مکرر کرتے ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ← مزید پڑھیے
خوش نصیب ہے وہ جو اُمّتِ محمدیہ میں پیدا ہوا۔ خوش نصیب ہے وہ جسے کلمہ توحید، لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ نصیب، ہوا…… اور کمال خوش نصیب ہے وہ ذی روح جسے عشقِ مصطفیؐ عطا ہوا۔ مرشدی حضرت واصف← مزید پڑھیے
سلسلہ کلام وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے عارضی طور پر منقطع ہوا تھا۔ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ شاہد و مشہود کا سلسلہ ہو، یا عاشق و معشوق کا، اصل میں سلسلہ بندے اور رب کا ہے۔۔ یہ← مزید پڑھیے
اقبالؒ کا طائرِ خیال جب مائل بہ سیرِ لاہوت ہوا تو اس نے خود کو جبریل تو نہیں کہا، مگر بالِ جبریل ضرور کہا ہے۔ چنانچہ ”بالِ جبریل“ میں کہتے ہیں: تیرا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو فروغِ دیدہِ← مزید پڑھیے
القادر یوینوسٹی کے اسلامک اسٹیڈیز کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر ظہور اللہ ازہری صاحب ایک صاحبِ علم شخصیت ہیں۔ تصوف، الٰہیات اور سیرت النبیؐ کے حوالے سے آپ کی خدمات گراں قدر ہیں۔ گزشتہ نومبر میں القادر یونورسٹی میں← مزید پڑھیے
گذشتہ کالم میں ہم نے 1984 میں گورنمنٹ ایم اے او کالج میں منعقد دانشوروں کے مذاکرے میں حضرت واصف علی واصفؒ کے ایک جملے ”پاکستان نور ہے، نور کو زوال نہیں“ کے سیاق و سباق پر سیر حاصل تبصرہ← مزید پڑھیے