مبشر علی زیدی کی تحاریر
مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

میرے حسین علیہ السلام۔۔۔مبشر علی زیدی

مجھے سوال کرنے کی عادت بچپن سے تھی۔ کسی کو سوال پسند آئے یا نہ آئے، جواب ملے یا نہ ملے، سوال کرنا ضروری تھا۔ امی مجھے منہ پھٹ کہتی تھیں کیونکہ مہمانوں کے سامنے میرے سوال کبھی کبھی پریشان←  مزید پڑھیے

تربیت۔۔ مبشر علی زیدی

میں نے جرنلزم یا ماس کمیونی کیشن یا میڈیا سائنسز میں نہیں، ادب میں ماسٹرز کیا تھا۔ جرنلزم اٹکل پچو سیکھی۔ پہلی کہانی گیارہ سال کی عمر میں چھپ گئی۔ رسالے پڑھ پڑھ کر لکھنا آگیا تھا۔ لیکن صحافت میں←  مزید پڑھیے

بھنور میں پھنسی کشتی۔۔۔۔ مبشر علی زیدی

میں جس بستی میں رہتا ہوں، وہاں بہت سے چینی نسل کے لوگ آباد ہیں۔ بس میں، ٹرین میں، سوپرمارکیٹ میں، سڑک پر آتے جاتے ان سے سامنا ہوتا ہے۔ امریکا پہنچ کر سب خوش اخلاق ہوجاتے ہیں۔ اجنبی لوگوں←  مزید پڑھیے

چلتے چلتے۔۔۔مبشر علی زیدی

اپریل کا دوسرا ہفتہ ہے لیکن واشنگٹن سے سردی جانے کا نام نہیں لے رہی۔ کل بارش ہوئی اور ہفتے کو کچھ دیر روئی کی دھول جیسی برفباری بھی۔ آج صبح درجہ حرارت دو ڈگری تھا اور فیل لائیک صفر۔←  مزید پڑھیے

محب وطن۔۔۔ مبشر علی زیدی

اُس نوجوان کی آمد کی خبر سن کر ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ نوجوان پاکستان کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کئی سال پہلے بیرون ملک جانے پر مجبور ہوگیا تھا۔ ان دنوں روز←  مزید پڑھیے

سیاسی جماعت کیسی ہونی چاہیے؟ مبشر زیدی

سیاسی جماعت کی ہر ضلع میں تنظیم ہونی چاہیے۔ کئی جماعتوں کی ہے بھی۔ اس سطح پر سرگرم کارکنوں کی سیاسی تربیت کی جانی چاہیے۔ انھیں سیاسی کلچر کی تعلیم دینی چاہیے۔ ان میں سے چند کو عہدے دار بنانا←  مزید پڑھیے

مہنگا خدا۔۔۔ مبشر علی زیدی

“میں ایک ملحد ہوں۔ لیکن میری شادی ہوگئی ہے۔ بیوی کہتی ہے کہ سب لوگوں کے گھر میں خدا ہے، ہمارے گھر میں کیوں نہیں؟ تو بھائی کوئی اچھا سا خدا دکھا دو۔۔” میں نے دکاندار سے فرمائش کی۔ “←  مزید پڑھیے

کڑوا درخت…مبشر علی زیدی

گھر سے نکلتا ہوں تو دوڑتی بھاگتی گلہریاں ٹھہر کر استقبال کرتی ہیں۔ ماکنگ برڈ سیٹیاں بجاتا ہے۔ چڑیاں چُرخ چُرخ کرکے ہنگامہ مچا دیتی ہیں۔ اس علاقے میں بہت زیادہ درخت ہیں اس لیے پرندے بھی بہت ہیں۔ یہ←  مزید پڑھیے

گزارہ۔۔۔ مبشر علی زیدی

سابق فٹبالر رونی کا گھر کتوں سے بھرا ہوا تھا، میں اور ڈوڈو انٹرویو کرنے گئےتھے، اس کا گھر دیکھ کر گھن آئی، لان میں کیچڑ، کچن میں گندگی، بیٹھک میں بدبو، ہر کمرے میں دو کتے۔۔ ہم نے سنا←  مزید پڑھیے

کتے اور سور ۔۔۔ مبشر زیدی

ڈوڈو کے گاؤں اور میری بستی کے بیچ میں جنگل ہے۔ ڈوڈو جب آتا ہے، ہاتھ میں سونٹا ہوتا ہے۔ کوئی کتا، گیدڑ یا سور قریب آئے تو گھما کے مارتا ہے۔ کل ڈوڈو اپنے بچوں کے ساتھ آیا، ہاتھ←  مزید پڑھیے

میں اور میرا اسلام۔۔۔ مبشر زیدی

 میرا سچے دل سے ایمان ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کا مطلب میں یہ سمجھا ہوں کہ فطرت کے خلاف جو شے ہے، وہ اسلام نہیں۔ چنانچہ میں فطرت کے خلاف عقائد اور مقدس ہستیوں کو سوپرمین قرار←  مزید پڑھیے

بے گھر ۔۔مبشر علی زیدی

خدا ایک ویران سڑک پر درخت کے نیچے بینچ پر اداس بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ پیشانی پر شکنیں تھیں۔ ہونٹ بھینچے ہوئے تھے۔ جھٹپٹے کا وقت تھا۔ اندھیرا دھیرے دھیرے چاروں طرف پھیل رہا←  مزید پڑھیے

پناہ۔ مبشر زیدی

امریکہ میں لکھی گئی ایک کہانی، جو ناقابل اشاعت قرار پائی: “کراچی میں پندرہ سال کے دوران باون ڈاکٹر قتل کیے گئے۔ مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا لیکن بچ گیا۔ مجبوراً ترک وطن کرنا پڑا۔” ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔←  مزید پڑھیے

کوٹھا

کوٹھا (کم نہ زیادہ، پورے سو لفظوں کی ناقابل اشاعت کہانی) ۔ ڈوڈو مجھے اپنے ساتھ اُس بازار میں لے گیا۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر کوٹھے پر پہنچے۔ ایک ہال میں کوئی رقاصہ اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔←  مزید پڑھیے

پہچان

“آپ کو لوگ پہچان لیتے ہیں۔” میری بیوی اکثر یہ کہتی ہے۔ سچ کہ راستہ چلتے لوگ مجھے روک لیتے ہیں۔ کبھی میری کہانی کی تعریف کرتے ہیں۔ کبھی کسی فیس بک پوسٹ کو سراہتے ہیں۔ کبھی سیلفی کی فرمائش←  مزید پڑھیے

سزا ۔(سو لفظوں کی مسترد شدہ کہانی)

“مجھے معاف کر دیں بھٹو صاحب! مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔ میں شرمندہ ہوں۔” جنرل ضیا الحق گڑگڑائے۔ “نہیں، تمھیں معاف نہیں کیا جا سکتا”۔ ذوالفقار علی بھٹو کا لہجہ سخت تھا۔ ایسا نہ کہیں بھٹو صاحب! آپ دل کے←  مزید پڑھیے

“مکالمہ”

“مکالمہ” اک دن میں نے فرشتوں سے، جو مرے کندھوں پر بیٹھے رہتے ہیں، کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اک دوسرے سے مشورہ کر کے نیچے اتر آئے۔ “میں بھی آپ دونوں کی طرح رائیٹر ہوں”۔←  مزید پڑھیے