آپ تو خصی نکلے ۔۔۔۔ مبشر علی زیدی

میرے بچپن میں خانیوال میں مویشی منڈی سنگلاں والا چوک میں لگتی تھی۔ یہ آج بھی شہر کا مرکز ہے۔ اس کے چاروں طرف بازار ہے۔ لوگ بکرے چھترے اور دنبے بیچنے وہاں آتے تھے۔ بچھیا بچھڑے بھی ہوتے ہوں گے۔
کراچی کی وسیع و عریض مویشی منڈی دیکھنے کے بعد سنگلاں والا چوک کو دھیان میں لانا مشکل لگتا ہے۔ بدقسمتی سے مجھے کبھی وہاں سے جانور خریدنے کا موقع نہیں ملا۔
میری یاد میں پہلے پہل بابا نہیں، ہمارے تایا بوعلی شاہ قربانی کے جانور لاتے تھے۔ ایک بار وہ سینگوں والا دنبہ لے کر آئے تھے۔ ایک سال چھتروں کا جوڑا لائے جن میں سے ایک کی سری اور کان سیاہ تھے اور دوسرے کے کتھئی۔ میں نے پہلی بار مسجد کے چبوترے کے پاس جانور ذبح ہوتے دیکھے۔
ایک بار میں نے بابا سے ضد کی کہ چھترا نہیں، بکرا خریدیں اور مجھے ساتھ لے کر چلیں۔ یہ 1983 یا 1984 کی بات ہوگی۔ ہم سنگلاں والا چوک کی طرف جارہے تھے کہ بابا کو راستے میں ایک ٹیڈی بکرا نظر آگیا۔ بابا نے پوچھا، بیچنا ہے؟ جواب ملا، جی آ۔ میں بابا کا ہاتھ پکڑ کے کھینچتا رہا کہ نہیں، سنگلاں والا چوک سے بڑا بکرا لیں گے لیکن بابا نے چار سو روپے میں سودا کرلیا۔ مجھے رونا آگیا۔ اب بابا ایک ہاتھ سے بکرا کھینچ رہے تھے اور دوسرے سے مجھے۔ میں مچلا جارہا تھا اور چگی داڑھی والا ٹیڈی بکرا حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ بابا نے سمجھایا کہ یہ چھوٹا سا بکرا ہے، تم اسے مزے سے ٹہلا سکتے ہو، یہ بھاگے گا نہیں۔ یہ سن کر میرے آنسو تھمے اور میں ہنس پڑا۔
اگلے سال بابا کسی دن دفتر سے واپسی پر پہاڑی بکرا خرید لائے۔ مجھے منڈی نہ جانے کا افسوس ہوا لیکن بکرا آنے کے خوشی زیادہ تھی۔ عید سے پہلے کئی دن تک میں اس کے لیے پٹھے خود خرید کے لاتا رہا۔ عید کی صبح اسے گھر کے باہر باندھا تاکہ دوسروں پر رعب پڑے۔ کسی کام سے گھر کے اندر آیا اور پھر جو باہر نکلا تو بکرا غائب تھا۔
میں روہانسا ہوگیا کہ کسی نے بکرا چوری کرلیا ہے۔ لیکن بابا نے کہا، دیکھو ٹوٹی ہوئی رسی پائپ سے بندھی ہوئی ہے۔ بکرا چوری نہیں ہوا، رسی تڑا کے بھاگا ہے۔ میں نے دیوانوں کی طرح آس پاس کی گلیوں میں بھاگ دوڑ کی اور آخر وہ محلے کی چکی کے سامنے گھاس کھاتا ہوا پکڑا گیا۔
اسی دور میں پتا نہیں کیوں بابا کا کوئی دوست انھیں گھر میں پالنے کے لیے ایک بکری دے گیا۔ اس کے سر پر نوکیلے سینگ تھے۔ امی بکری کے پاس جانے کو منع کرتی تھیں لیکن بچے جانوروں کو دیکھ کر قابو میں کیسے رہ سکتے ہیں۔ میں نے کسی دن روایتی عاشقانہ طبیعت سے مجبور ہوکر بکری کے منہ پر پیار کرنا چاہا۔ بکری نے اپنی سری گھمائی تو اس کا سینگ میرے گال پر لگا۔ خون تو نہیں نکلا لیکن نشان پڑگیا جو بہت سال تک یکطرفہ محبت کا ثبوت بنارہا۔
دبئی میں قیام کے چار برسوں کو چھوڑ کر میں کراچی میں تیس سال تک ہر بار سہراب گوٹھ کی مویشی منڈی جاتا رہا۔ پہلے اور مقامات پر بھی منڈیاں لگتی تھیں۔ لالوکھیت کی منڈی سارا سال لگی رہتی تھی اور قسائیوں کے علاوہ صدقے کے بکرے خریدنے والے وہیں جاتے تھے۔ میں نے اپنے بچوں کے عقیقے کے بکرے وہیں سے لیے تھے۔ بقرعید سے پہلے نارتھ ناظم آباد میں ضیا الدین اسپتال کی چورنگی پر بڑی تعداد میں بچھیا بچھڑے آجاتے تھے۔ برنس روڈ پر بھی جانوروں کی بڑی منڈی لگتی تھی۔ اب شہر میں کہیں منڈی کی اجازت نہیں ہوتی اور سہراب گھوٹھ سے آگے سوپرہائی وے پر کئی میل کے دائرے میں مویشی منڈی لگائی جاتی ہے۔ البتہ اہل تشیع حضرات اپنے چند مراکز پر قربانی کے جانور تول کر فروخت کرتے ہیں۔
شیعوں اور سنیوں نے نماز پڑھنے کے طریقے اور روزے کے اوقات کے علاوہ بڑی جدوجہد سے قربانی کے جانوروں میں بھی اختلاف تلاش کیا ہے۔ چنانچہ سنی ہمیشہ خصی اور شیعہ ہمیشہ آنڈو بکرا تلاش کرتے ہیں۔ میں ان عامیانہ الفاظ کو استعمال کرنے پر معذرت چاہتا ہوں لیکن آگے اس بارے میں لطیفہ سنانا ہے۔
خصی اس بکرے کو کہا جاتا ہے جسے آختہ کردیا جاتا ہے۔ وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ سنی اس لیے اسے پسند کرتے ہیں کہ وہ پیشاب نہیں پیتا۔ لیکن شیعہ کہتے ہیں کہ اس عمل سے جانور میں نقص پیدا ہوجاتا ہے اور قربانی کے جانور میں نقص نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں کے پاس اپنے اپنے جواز ہیں اور کوئی فریق قائل نہیں ہوتا۔
لطیفہ سنانے والا یاد نہیں۔ شاید معین اختر نے سنایا تھا۔ ایک بچہ گھر کے بڑوں کے ساتھ بکرا خریدنے مویشی منڈی گیا۔ وہاں اس نے نیا لفظ سنا تو چچا سے پوچھا، خصی کیا ہوتا ہے؟ چچا نے بچے کو بہلانے کے لیے کہہ دیا، جس بکرے کے دو دانت ہوں، اسے خصی کہا جاتا ہے۔
بچے کے دادا ایک ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز تھے۔ بچے نے گھر آکر ان سے فرمائش کیا، دادا جان! ذرا منہ کھول کر دکھائیں۔ دادا جانی نے پوپلا منہ کھولا تو پوتے نے کہا، ’’ارے! آپ تو خصی نکلے۔‘‘

Avatar
مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”آپ تو خصی نکلے ۔۔۔۔ مبشر علی زیدی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *