ایوا زوبک ، تمہارا شکریہ ۔۔۔۔۔آصف محمود

پاکستان کی جھیلوں ، ندیوں ، آبشاروں ، پہاڑوں اور وادیوں سے پیار کرنے والی ایک غیر ملکی لڑکی نے ہمارا پرچم اوڑھ کر ایک ویڈیو شوٹ کروائی اور ہم اس پر برہم ہو گئے ۔ کبھی آپ نے سوچا ہم اتنے تلخ ، تنک مزاج اور زود رنج کیوں ہو گئے ہیں ؟ ہمارا مزاج زلفِ یار کیوں بن گیا جو بات بات پر برہم ہو جاتا ہے ؟ ہم ذوق لطیف سے محروم ہو گئے یا نفسیاتی توازن کھو بیٹھے ؟ ہمارا مسئلہ کیا ہے ؟ کاش کوئی ادارہ ہوتا جو ایک رپورٹ مرتب کرتا کہ عشروں پر محیط دہشت گردی ، انتہا پسندی ، آگ اور خون نے اس سماج کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں ۔

ایوا زوبک پاکستان سے پیار کرتی ہے ۔ جو کام وزارت سیاحت کا تھا وہ ایوا زوبک کرتی رہی ۔ ہماری سوہنی دھرتی کی جتنی خوبصورت ویڈیوز اس نے بنا کر دنیا کو بتایا کہ اس جنت ارضی کا نام پاکستان ہے ، اتنا کام اگر وزارت سیاحت نے کیا ہو تا تو ملک میں سیاحوں کی لائن لگی ہوتی ۔ سیاحت کے لیے ہماری سنجیدگی دیکھیے ہم نے مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن کو وزیر سیاحت بنائے رکھا ۔ کیا ہم ان سے توقع کرتے تھے کہ وہ دنیا کو پاکستان کی سیاحت پر مائل کر سکیں گے ؟ جو دنیا سے دنیا کی زبان میں بات نہ کر سکتا ہو وہ دنیا میں آپ کے لیے سیاحت کے امکانات پیدا کرے گا ؟

پروفیسر فتح محمد ملک روایت کرتے ہیں کہ جب وہ جرمنی میں مقیم تھے تو وہاں ایک ثقافت میلہ ہوا اور اردو کے شعراء میں احمد ندیم قاسمی کے نام کے آگے لکھا تھا ، لاہور ، بھارت ۔ انہوں نے دکھی دل سے حکومت کو لکھا کہ یہاں کلچر اتاشی تعینات کیا جائے تاکہ لوگوں کو یہ تو معلوم ہو سکے احمد ندیم قاسمی کس ملک کا شاعر ہے ۔ لیکن جس ملک میں کمرشل اتاشی سینیٹرز اور وزراء کے قریبی عزیزوں کو لگا دیا جائے اور کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ شور مچاتا رہے وہاں ایک پروفیسر کی کون سنتا ؟

سوات میں آگ لگی رہی ، اب چنگاریوں کا رخ گلگت کی جانب ہے ۔ امن کی صورت حال مخدوش ہے ۔ ایسے میں ایک لڑکی ہے جو پاکستان آتی ہے اور بار بار آتی ہے ۔ اسے یہاں کی جھیلیں ، وادیاں ، آبشاریں اچھی لگتی ہیں ۔ وہ دنیا کو بتاتی ہے یہ ہے پاکستان ۔ اس خاتون کی ہمت دیکھیے وہ سفر بھی پی آئی اے سے کرتی ہے حالانکہ اسے بھی معلوم ہو گا کہ پی آئی اے والے جہاز اڑنے کے بعد اے سی بند کر دیتے ہیں ۔ خود میں چند ماہ پہلے کراچی سے واپسی پر بے ہوش ہوتے بچا ۔ یہ خاتون سیاحت کے فروغ کے لیے ایک ویڈیو بناتی ہے ۔ ویڈیو دیکھ کر میں سوچتا رہا کیا اس خاتون کو پاکستان کا سیاحتی سفیر نہیں بنا دینا چاہیے ۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا یہ مشورہ عمران خان تک کیسے پہنچاؤں کہ معلوم ہوا ، ا فسانے میں جو بات سرے سے تھی نہیں اہل وطن کو وہ بڑی ناگوار گزری ہے ۔

رات سے نیب آرڈی ننس کھول کر بیٹھا ہوں اور جاننا چاہتا ہوں کہ نیب کا اس معاملے سے کیا تعلق ؟ نیب نے اس کا نوٹس کیسے لے لیا ؟ اگر معاملہ پرچم کی بے توقیری کا تھا تو وزرت داخلہ کو دیکھنا چاہیے اور اگر معاملہ یہ تھا کہ ایک غیر ملکی عورت ایئر پورٹ میں جہاز کے اندر کیسے چلی گئی تو یہ بھی ایر پورٹ سیکیورٹی والوں کا یا پھر وزارت داخلہ کا کام تھا ۔ نیب کی عملداری بنیادی طور پر دو معاملات میں ہے ۔ اول کرپشن ۔ دوم : کرپٹ پریکٹسز ۔ نیب کا ادارہ مالی بد عنوانی کو دیکھنے کے لیے بنا تھا ۔ اگر چہ اختیارات کے نا جائز استعمال کو دیکھنا بھی ا س کے دائرہ کار میں آتا ہے لیکن قانون کی جورسپروڈنس کے مطابق اختیارات کا اس ناجائز استعمال کا تعلق کرپشن سے ہے ۔ اگر کرپشن کرنے میں ، ملکی خزانے کو لوٹنے میں اور بد عنوانی میں تعاون کرتے ہوئے کوئی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو وہ نیب کے دائرہ کار میں آتا ہے ۔ لیکن اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ ایک انتظامی غفلت ہوئی ہے ۔اگر کسی نے ایوا زوبک کو جہاز تک خلاف قانون پہنچایا اور یہ ویڈیو شوٹ ہوئی تو اس افسر اور اہلکار کے خلاف اپنے اپنے دائرہ کار میں ان کا محکمہ تو انضباطی کارروائی کر سکتا ہے لیکن یہ نیب کا کیس نہیں بن سکتا ۔ ہمارے ہاں معاملہ یہ ہے کہ شہر کا شہر ہی اونٹ بنا پھرتا ہے ، خیمے میں منہ گیا تو اب ضد ہے کہ پورے کا پورا ہی گھسنا ہے ۔ تمام اختیارات سمیٹ لینے ہیں۔ خیمے میں اب کسی اور کی عملداری قبول نہیں ۔

کچھ واقعاتی چیزیں بھی قابل غور ہیں ۔ جس طرح ایوا زوبک جہاز سے اترتی ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ جہاز شاید سفر کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ کوئی ایک ڈھانچہ ہے جو کہیں کھڑا ہے اور ائر ہوسٹسز وغیرہ کی ابتدائی تربیت میں استعمال ہوتا ہے ۔ جہاز تک جانے کے لیے سیڑھی استعمال ہوتی ہے اور وہ اتنا نیچے نہیں ہوتا کہ ایوا زوبک چھلانگ لگا کر اتر آئے ۔ لیکن اگر یہ چالو حالت میں بھی تھاتب بھی اس میں ایک ویڈیو بن گئی تو کون سی قیامت آ گئی ۔ پی آئی اے کا ایک مارکیٹنگ کا شعبہ ہے ، اگر اس نے تجویز کیا ہو کہ پی آئی اے کے لیے اور سیاحت کے فروغ کی خاطر اس طرح کی ایک ویڈیو بنا لی جائے اور یوں یہ اجازت دے دی گئی ہو تو یہ کون سا جرم ہو گیا ؟ کیا پی آئی اے کا متعلقہ افسر پہلے ممنون حسین صاحب سے رابطہ کرتا کہ میں ایوا زوبک کا ایک شوٹ کروا رہا ہوں آپ صدارتی آرڈی ننس جاری کر کے اس کی اجازت دے دیں ؟

ہمارے ہاں نوٹس لینا ایک وبا بنتا جا رہا ہے ۔ شہباز شریف صاحب تو خیر سے روز ایک نوٹس لے کر کارروائی ڈالا کرتے تھے ۔ روز ہم سنتے ہیں فلاں نے نوٹس لے لیا ۔ تھوڑی سی دیر کے لیے واہ واہ ہو جاتی ہے اس کے بعد کسی کو معلوم نہیں ہوتا نوٹس بھائی جان کہاں گم ہو گئے ۔ میڈیا نے الگ سے ایک ہیجان برپا کر رکھا ہے ۔ میں دیکھ رہا تھا ایک چینل پر ایک محترمہ چیخ چیخ کر فرمائے جا رہی تھیں کہ غیر ملکی خاتون نے غیر مہذب ڈانس کر کے قومی پرچم کی توہین کی ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایوا زوبک کا یہ ڈانس بہت سے مارننگ شوز سے زیادہ مہذب تھا ۔ لیکن یہ آزاد میڈیا کے کمالات ہیں کہ اس کی سکرینوں پر کپڑے جتنے مختصر ہو جائیں اسے فیشن شو اور کلچر کہا جاتا ہے لیکن یہی کام کہیں اور ہو جائے تو میڈیا چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے کہ دیکھا اہل وطن یہاں تو مجرا ہو رہا تھا ، توبہ توبہ ، یہ خبر سب سے پہلے ہم آپ کو دے رہے ہیں ۔

ایوا زوبک کا یہ شوٹ مجھے تو بہت اچھا لگا ۔ مجھے اس میں پرچم کی کوئی توہین محسوس نہیں ہوئی ۔ ایک لڑکی پاکستان سے محبت کرتی ہے اس نے جشن آزادی کے موقع پر اپنے انداز سے دنیا تک پیغام پہنچایا ۔ بجائے اس کے کہ ہم اس کے ممنون ہوتے ہم لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ گئے اور وہ وضاحتیں پیش کرتی پھر رہی ہے ۔شکر کریں اس نے آگے سے یہ نہیں کہہ دیا کہ میں نے دو منٹ کا ویڈیو شوٹ کر لیا تو تمہارے ضابطے پامال ہو گئے تم اور تمہارے ضابطے اس وقت کہاں تھے جب تمہارا ایک پورا جہاز غائب کر دیا گیا تھا اور تمہیں مہینوں اس کی خبر نہ ہو سکی ؟

بطور سماج ہم ایک آتش فشاں پر بیٹھے ہیں ۔ واہ واہ کروانے کی سطحی خواہش ، ہیجان ، اضطراب اور خوف کا شکا رہیں ، ہر کام میں ہمیں سازش نظر آتی ہے ، تنک مزاج ہو چکے ، ہماری نگاہ صرف عیب پر ٹھہرتی ہے ، ذوق لطیف سے ہم محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ ہم ہنس کیوں نہیں سکتے؟ مسکراہٹیں ہم سے روٹھ کیوں گئیں ؟ ہمیں کیا ہو گیا ہے ؟ کیا معاشرے ایسے ہوتے ہیں ؟

نیب کی نیب جانے اور آپ کی آپ ، مجھے تو سبز ہلالی پرچم میں لپٹی ایوا زوبک بہت اچھی لگی ۔ اس نے میرے ملک کی محبت میں یہ ویڈیو شوٹ کی ۔ میں اس کا شکر گزار ہوں ۔ تھینک یو ایوا زوبک ۔ تمہارا بہت شکریہ

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *