• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ففتھ جنریشن وار میں ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو شکست؟— مکالمہ سپیشل رپورٹ

ففتھ جنریشن وار میں ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو شکست؟— مکالمہ سپیشل رپورٹ

رپورٹ: مبشر زیدی، واشنگٹن
پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے یعنی آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور اکثر ففتھ جنریشن وار کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جدید دور میں پروپیگنڈے کی لڑائی کا نام ہے۔ وہ ’’محب وطن‘‘ صحافیوں اور دوسرے لوگوں کو بتاتے رہتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی کس قدر ضروری ہے۔ لیکن یہ جنگ کون لڑ رہا ہے، اس بارے میں آج تک نہ کسی نے ان سے سوال پوچھا اور نہ انھوں نے تفصیل بتائی۔
پاکستان کے کئی صحافی دبے لفظوں میں بتاتے ہیں کہ مقتدر حلقوں نے کئی واٹس ایپ گروپ قائم کیے ہوئے ہیں جن سے مختلف  کام لیے جاتے ہیں۔ کون سی خبر چلانی یا نہیں چلانی، میڈیا منیجرز کو یہ ہدایت واٹس ایپ پر موصول ہوتی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر حکومت کے حق میں پروپیگنڈا اور مخالفین کی ٹرولنگ کے لیے واٹس ایپ گروپ قائم ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈے اور ٹرولنگ کے لیے کم از کم چالیس واٹس ایپ گروپ ہیں اور ہزاروں افراد ان کا حصہ ہیں۔ کئی گروپ ایڈمنز باقاعدہ تنخواہ دار ملازم ہیں جبکہ باقی ’’فی سبیل اللہ‘‘ اس ’’کار خیر‘‘ میں شریک ہیں۔

ISPR

یہ بات اس طرح کھلی کہ کچھ لوگ مبینہ طور پر ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے قائم کیے ہوئے ایک واٹس ایپ گروپ میں گھسے اور اس معلومات کی بنیاد پر ٹوئیٹر سے شکایت کرکے ٹرینڈز گرانے لگے۔ کئی روز تک ان گروپس کے بنائے ہوئے ٹرینڈز پینل پر نہیں آسکے اور اگر آئے تو جلدی ختم کردیے گئے۔ اس کے علاوہ ٹوئیٹر نے شواہد کی بنیاد پر ایک واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن میاں متین کے دو ٹوئیٹر اکاؤنٹ بھی بند کردیے۔
میجر جنرل آصف غفور نے خود بھی ایک ٹوئیٹ کی جس سے اس جانب اشارہ ملتا ہے۔ انھوں نے نام نہیں لکھا لیکن کسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئیٹر قوانین کے پابند رہیں اور بھڑکاوے میں نہیں آئیں۔
ہمیں ان افراد سے بات کرنے کا موقع ملا جو ان پروپیگنڈا واٹس ایپ گروپس میں شامل ہوئے اور انھوں نے وہاں گروپ ایڈمنز کو ٹرینڈز بناتے ہوئے دیکھا۔
ان افراد سے گفتگو کرکے معلوم ہوا کہ ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ سے تعلق رکھنے والے دو افسر اس کارروائی کی نگرانی کرتے ہیں۔ مقتدر حلقوں کے خاص لوگ ہیش ٹیگ سوچتے ہیں اور گروپ ایڈمنز کو بھیج دیتے ہیں۔ گروپ ایڈمنز اپنے ارکان کو ایک خاص وقت پر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ہزاروں ٹوئیٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
ہمیں ایک واٹس ایپ گروپ ’’ٹیم پاکستان زندہ باد‘‘ کی سرگرمیوں کے شواہد دکھائے گئے۔ یہ گروپ فون نمبر 0313XX05 کے ذریعے بنایا گیا۔ اس میں صرف پاکستانی نمبر نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے فون نمبر بھی شامل تھے۔ ایک گروپ ایڈمن کا فون نمبر 0321XXX1113 ہے اور اس کے سامنے میاں متین کا نام لکھا ہے۔ دوسرے کا فون نمبر 033XXX74270 ہے اور اس پر ارزم رانا کا نام لکھا ہے۔ مزید گروپ ایڈمنز کے فون نمبر 0300005XXX2، 03137XXX200، 0313XXX1773، 0343XX03701، 0344XXX3272 اور 034578XXx36 ہیں۔اس گروپ میں میاں متین کی جانب سے آڈیو ہدایات بھیجی گئیں۔
ایک آڈیو میں کہا جارہا ہے کہ آج ہم دو ٹرینڈ کریں گے۔ پرانے ارکان کے لیے الگ اور نئے ارکان کے لیے الگ ٹرینڈ ہوگا۔ جو ہیش ٹیگ بتایا گیا ہے، اسے کاپی کرکے ٹوئیٹر پر پیسٹ کریں اور کچھ بھی لکھ دیں۔ جیسے ایک ٹرینڈ ہے برنگ بیک ٹریٹرز (غداروں کو واپس لاؤ) انھیں واپس لائیں، قرار واقعی سزا دیں، چوک میں لٹکا دیں۔ ایک کو لٹکا دیں تو باقی سب ٹھیک ہوجائیں گے۔ نئے ارکان اور پرانے ارکان کا مقابلہ ہے کہ کون سا ہیش ٹیگ پہلے پینل پر آتا ہے۔
دوسری آڈیو میں کہا جارہا ہے کہ تین بجے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئیٹ کرنا شروع کریں۔ حسین حقانی، احمد وقاص گورایا، گلالئی اسماعیل اور ان جیسے ’’کتے‘‘ جو باہر بیٹھ کر ’’بھونکتے‘‘ ہیں، انھیں واپس لایا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یہ بات بھی کرنی ہے کہ جو لوگ ملک میں موجود ہیں انھیں پٹے ڈالے جائیں۔ ہر رکن پچاس ٹوئیٹ لکھ کر رکھ لے اور تین بجے کے بعد سب نے اگر پندرہ منٹ میں ایک ہزار ٹوئیٹ کردیے تو ٹرینڈ بن جائے گا۔Gulali Altaf Gussain Ayesha Siddiq
تیسری آڈیو میں کہا گیا کہ نئے ارکان جیت گئے ہیں کیونکہ ان کا ٹرینڈ پہلے پینل پر آگیا ہے۔ وینا ملک کو ٹیگ کریں، وہ آپ کو جواب دیں گی۔
کئی ٹوئیٹس کے ساتھ گرافکس بھی پوسٹ کی گئیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیشہ ور گرافک ڈینزائنر اس ٹیم میں شامل ہیں۔ جن افراد کی تصویریں اور نام لے کر تنقید کی گئی ان میں حال میں پاکستان چھوڑنے والی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل، بلاگر احمد وقاص گورایا، دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ، صحافی طحہ صدیقی اور رضا رومی بھی شامل ہیں۔
ہمیں بتایا گیا کہ انھیں شواہد کی بنیاد پر ٹوئیٹر نے کارروائی کی۔ بعد میں اس واٹس ایپ گروپ میں میاں متین نے ایک آڈیو پیغام بھیجا جس میں اعتراف کیا گیا کہ ان کا اکاؤنٹ ٹوئیٹر نے بند کردیا ہے اور وہ اس جنگ میں’’شہید‘‘ ہوگئے ہیں۔
ہم نے ایک گروپ ایڈمن کو کال کی جس کا نمبر 0343XXX3701 تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میاں متین اور یاسر اس گروپ کے انچارج ہیں اور وہ آرمی کو بھی اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔

یہ خبر آزادی صحافت اور معلومات تک عوامی رسائی کے نظریات کو مدنظر رکھتے ہوے شائع کی گئی ہے۔ اگر آئی-ایس-پی-آر، فوج، رپورٹ میں مذکورہ  اشخاص اپنا موقف دینا  چاہیں تو مکالمہ کے صفحات حاضر ہیں۔ ادارہ

Avatar
مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ففتھ جنریشن وار میں ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو شکست؟— مکالمہ سپیشل رپورٹ

  1. You people should also investigat similar kind of fb groups and pages and tell the media how our people are made fool and stimulated against their own country.simply see the twittes any officel and then comments of indians they spread misinformation.similarly i am witness of lot of account which wrote against pakistan and ita idiology when i research their id they mostly found fake and their user show their adress from middel east or some other place..these kind of people implant their idea in people mind against own institutions and then support them to propagate.but why you people dont talk abou them.learn from indian media.Now aday their target is our miltry .in every thing they blame your miltry and our people got their ideas and spread their misinformation.look at international media how strong influnce they have. That bbc avery little discuss about today Trip of foreign high comissioner.but tells us people that how local s are targeted by pakistan in indianoccupied kashmir.. s

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *