وائرس سے جنگ ، ڈرسڈن والوں سے سیکھ لیں۔۔عبدالرحمٰن عمر

یہ نازی جرمنی کا مشرقی شہر ڈرسڈن (DRESDEN) ہے۔ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک۔ اسے دریائے الب(Elbe) کے کنارے آباد دوسرا فلورنس بھی کہا جاتا ہے۔خوبصورت تاریخی عمارات، تھیٹر، عجائب گھر، سیرگاہیں، درسگاہیں، لکڑی سے بنے خوبصورت مکانات اور کشادہ سڑکیں، غرض خوبصورتی کی تمام تر وجوہات شہر میں اکٹھی ہیں۔

یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ ہے۔ جنگ شروع ہوئے 6 سال کا عرصہ گزر چکا۔ اس سارے عرصے میں اب تک شہر سے باہر اسلحہ کے بڑے کارخانوں اور دیگر فوجی تنصیبات پر، صرف 7 اتحادی فضائی حملے ہوئے ہیں۔ جبکہ شہر کی آبادی ابھی تک حملوں سے محفوظ ہے۔ اس قدر محفوظ کہ شہری آبادی پر فضائی یا زمینی حملہ کا ایک بھی واقعہ گزشتہ چھ سالوں میں نہیں ہوا۔ محاذ کی طرف جانے والے فوجی اور فضا میں اڑتے طیارے تو دکھائی دیتے رہتے ہیں،اور آئے دن فضائی حملے کا خطرہ ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے سامنے آتا رہتا ہے۔ چند ماہ سے فضائی حملہ کی اطلاع والے سائرن بجنا ایک معمول ہوچکا ہے۔ لیکن ڈرسڈن کے شہری کبھی تو حملے کی بات کو اپنی نازی حکومت کا پروپیگنڈہ اور کبھی اتحادیوں کی گیدڑ بھبکیاں اور کبھی اخبارات کی خانہ پُری قرار دے دیتے ہیں۔ یوں خطرے کا الارم بجنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اگر کوئی “وہمی” شخص مجلس میں کہہ بیٹھے، کہ ڈرسڈن پر اتحادیوں کے حملے کا خطرہ ہے،تو اسے آڑے ہاتھوں لیا جاتا، اور خاموش کروانے کو کئی سیاسی و سازشی نظریات کی بارش کر دی جاتی ہے۔ چونکہ ڈرسڈن کے شہری مانتے ہیں کہ اس قدر خوبصورت اور تاریخی شہر کو اتحادی فوج کبھی بھی تباہ نہیں کرے گی۔ بہت سے لوگ اسے ناقابل تسخیر بھی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ اتحادی اگر جنگ جیت گئے تو ڈرسڈن شہر کو اپنا دارالحکومت بنائیں گے۔ اور کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ برطانوی وزیراعظم چرچل کی خالہ ڈرسڈن میں رہتی ہیں، اس لیے اتحادی فوج ڈرسڈن پر کبھی حملہ نہیں کرے گی۔ گزشتہ چھ سال سے جاری اس جنگ میں مسلسل پُرامن اور محفوظ رہنے کے باعث دیگر جنگ زدہ جرمن شہروں سے آنیوالے چھ لاکھ پناہ گزینوں نے شہر کی آبادی دو گُنا کردی ہے۔ دوسری طرف شہر کی نازی انتظامیہ بھی کچھ ایسا ہی سمجھتی ہے۔شہر میں صرف ایک مرکزی پناہ گاہ ہے، جو ہوائی حملہ کی صورت میں ایک ہزار لوگوں کے چھپنے کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ کچھ “وہمی” لوگوں نے اپنے طور پر گھروں میں زیر زمین پناہ گاہیں بنائی ہیں۔ لیکن دوست احباب ان کے اس کام کا مذاق اڑاتے ہیں، کہ ویسے تو اتحادی حملے کا کوئی امکان نہیں،ہاں اگر اتحادیوں کو تمہاری حرکت کا پتہ چل گیا تو لازماً جہاز بم برسانے آجائیں گے۔

یہ 13 فروری 1945ء کا عام دنوں جیسا ایک دن ہے۔ مہینے کے آغاز سے ہی سالانہ عیسائی مذہبی تقریبات پورے جوش و خروش سے منائی جا رہی ہیں۔ شہر میں جشن کا سماں ہے۔ سارا دن جاری رہنے والی تقریبات نے لوگوں کو تھکا دیا ہے۔ موسم سرد اور صاف ہے، لیکن لوگ دن بھر کی مصروفیت سے تھکے ہوئے ہیں۔اسی لیے جلد ہی شہر کی گلیوں میں چہل پہل ماند پڑ چُکی ہے۔
رات پونے دس بجے فضائی حملہ سے خبردار کرنے کے لیے یک بہ یک سائرن بج اٹھے۔ شہریوں کی اکثریت نے معمول کی کارروائی سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ طیاروں کی گونج دار آواز سنائی دی تو والدین نے بچوں کو یہ کہہ کر سلانے کی کوشش کی کہ دشمن کے جہاز شہر کی تصویریں لینے کو آئے ہیں کچھ نہیں ہوتا، سو جاؤ۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں تھا۔

مسلسل 6سال سے ہٹلر کی نازی افواج اتحادیوں کے لیے نت نئے محاذ کھول رہیں تھیں۔ اوائل 1945ء میں اتحادی سربراہان اس بات پر متفق ہوئے کہ ایسے جرمن شہروں کو نشانہ بنایا جائے جو کہ جنگی اسلحہ کی تیاری کا گڑھ ہیں۔ اتحادی فضائیہ نے اس منصوبے کیلئے خفیہ طور پر خوفناک تیاریاں شروع کر دیں۔
13 فروری کی شام اتحادی طیارے ہزاروں ٹن بارود لیکر ڈرسڈن کی سمت محو پرواز ہوئے۔

بے خبری سے بڑھ کر لاپرواہی کا شکار ڈرسڈن شہر پہ خوفناک حملہ کیلئے لمبی پرواز کے بعد 300 اتحادی لڑاکا و بمبار طیارے فضا میں آموجود ہوئے۔ ناکافی فضائی نگرانی اور دھوکہ کے باعث فضا میں نہ تو جرمن لڑاکا جہاز مزاحمت کو پہنچ سکے، نہ ہی زمین سے فضا میں کوئی مزاحمتی کاروائی ہوسکی۔ کیونکہ شہر کی حفاظت کیلئے نصب شدہ اینٹی ائیر کرافٹ گننز کافی عرصہ پہلے شہر کو محفوظ خیال کرتے ہوئے،مشرقی محاذ پر منتقل کر دی گئی تھیں۔

صرف 15 منٹ کے دورانیے میں پہلے حملے کے دوران 244 لنکاسٹر بمبار جہازوں نے تمام بم گرا دیے۔ جس سے شہر کا مرکز خوفناک آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ جانیں بچانے اور آگ بجھانے کے لئے، امدادی کاروائیاں شروع ہوئیں تو نصف گھنٹہ بعد ہی مزید 500 بمبار طیارے آن پہنچے۔ ان جہازوں سے برسنے والے 27 ہزار ٹن بارود نے خوفناک آگ بھڑکا دی۔ لکڑی کے گھر اور دیگر عمارتیں ایندھن کا کام دینے لگیں۔ بارود کے اس قدر وحشیانہ استعمال سےخوفناک آگ کا طوفان برپا ہوگیا۔ شہر کے مقیم نہ تو اس آفت کے لیے تیار تھے اور نہ ہی انہیں کوئی جائے پناہ ملی۔ عمارتیں ملبہ کا ڈھیر اور انسانی لاشیں گلیوں اور بازاروں میں بکھر گئیں۔آگ برسانے کا یہ سلسلہ پندرہ فروری تک جاری رہا۔ اور اب دریائے ایلب کے کنارے دوسرا فلورنس جلی انسانی لاشوں کے ڈھیر، اور تباہ حال عمارتوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ نازیوں نے 2 لاکھ اور اتحادیوں نے 25 ہزار انسانی اموات تسلیم کیں۔ اور اپنے اپنے مفاد کے مطابق اخبارات کو اطلاعات فراہم کیں۔ ان تباہ حال عمارتوں کو جنگ عظیم کی یادگار کے طور پر آئندہ ستر سال اسی حالت میں رکھا گیا۔ جن لوگوں نے اس خوفناک تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ ہی بیان کرتے پائے گئے کہ دشمن سے زیادہ ہمارے ناقابلِ تسخیر ہونے کے زعم اور بے بنیاد خوش فہمی نے ہمیں تباہ کیا۔

ہم بھی آج ایک خطرناک اور نہ نظر آنیوالے دشمن وائرس سے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ “حقیقی” جنگ اور وبا کے مابین بڑا واضح فرق ہے۔ “حقیقی” جنگیں تنازعات کے بارے میں ہوتی ہیں ، انسانوں کے مقابلے میں انسان ، اور عام طور پر دشمن کا بنیادی ڈھانچہ، گھر ، فیکٹریاں ، ریلوے، سڑکیں، ہسپتال ، خوراک و پانی کے ذخائر ملبے میں تبدیل کرکے جیتی جاتی ہیں۔ دونوں فریقین کے پاس حملہ اور دفاع کرنے کے وسائل ہوتے ہیں۔ پھر اس جنگ میں ہتھیاروں کے ساتھ پروپیگنڈہ، سفارت کاری اور آگے بڑھنے یا پیچھے ہٹ جانے کی راہیں بھی ہوتی ہیں۔
لیکن ہماری موجودہ “جنگ” تو ہر طرح کے ہتھیار کے بغیر ہے۔ دشمن نہ نظر آنیوالا اور بلا تفریق تباہی پھیلانے والا ہے۔ اپنے پہلے شکار سے شروع ہوکر اب تک دنیا بھر میں 48 لاکھ لوگوں کو اپنا شکار اور تین لاکھ سے زائد انسانی جانیں لے چکا ہے۔ یہ جنگ خوفناک صورت اختیار کر رہی ہے کہ جب ہم احتیاط کے دستیاب واحد ہتھیار کو بھی پھینک دینے پر بضد ہیں۔ ہمارے حکام بااثر سرمایہ داروں، تاجروں و مذہبی حلقوں کے دباؤ میں آکر ایک کی دوکان کو جواز بنا کر دوسرے کی دوکان کھولتے چلے جارہے ہیں۔ وائرس سے خطرہ کے اعلانات اور بند کمرے کے اجلاسوں میں احتیاطی تدابیر پہ خالی وعدے وعید کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سمجھ چکے ہیں۔ ہمارا نظام صحت قطعاً اس قابل نہیں کہ اس قدر بوجھ برداشت کر سکے۔ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات دستیاب نہیں۔ ہم وبا کی خبر کو جھوٹ، کافروں کی سازش، حکومت کا قرضے معاف کروانے کا کامیاب حربہ، ہماری مضبوط قوّت مدافعت وغیرہ جیسی خوش فہمیوں کو ڈھال سمجھ کر انسانی المیہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان خوش فہمیوں کے سہارے قاتل وائرس سے جیتا نہیں جا سکتا۔ ہاں اجتماعی خود کشی کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو گر ڈرسڈن کے مکینوں سے کچھ سیکھ لیا جائے۔

عبدالرحمٰن عمر
عبدالرحمٰن عمر
پڑھنے، لکھنے کا شوق، پیشہ وکالت اور فری لانس جرنلزم سے وابستہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *