یوم تکبیر کی یاد اور کریڈٹ۔۔سیّد علی حسن رضوی

18مئی 1974 کو بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ اسکے بعد پاکستانی عوام میں مایوسی مزید گہری ہو گئی۔ یہ بات تو طے ہے کہ بھٹو بھارت کے اس اقدام سے پہلے ہی سے آگاہ تھے۔ اسی مقصد کے لیے فرانس کی ایس جی این نامی فرم سے 1973 کے اوائل ہی میں ری پراسیسنگ پلانٹ کے بارے میں مذاکرات شروع کر دیے تھے۔ تین سال تک مذاکرات ہوتے رہے اور اس تمام عرصے میں پاکستان نے وہ تمام ضمانتیں اور یقین دہانیاں عالمی اداروں کو فراہم کیں  جن کی بنیاد پر پاکستان صرف صنعتی مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی استعمال کرے گا۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 300 ملین ڈالر تھی جو کہ پاکستان جیسا ملک بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس سلسلے میں بھٹو نے خلیجی اور عرب ممالک سے رابطہ کیا تو وہاں سے تسلی بخش جواب آیا۔ ان ممالک میں عراق، لیبیا، کویت، سعودی عرب کی جانب سے ہر طرح کی مالی مدد کی پیشکش ہوئی۔

اسکی بنیادی وجہ مسٹر بھٹو کا عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان کی طرف سے عربوں کی باقاعدہ فوجی مدد تھی جس کے باعث مسٹر بھٹو کی مقبولیت عرب ممالک میں بھی تھی۔ جولائی 1974 میں وزیراعظم بھٹو کو ہالینڈ سے ڈاکٹر عبدالقدیر نامی ایک گمنام پاکستانی سائنسدان کا خط موصول ہوا ،جس میں انہوں نے وزیراعظم کو اپنی مہارت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی ،جو کہ انہوں نے قبول کرلی۔ پھر اپنے بیوی بچوں اور اپنی تحقیق کے تمام صندوقوں کے ساتھ پاکستان آگئے۔ جولائی 1974 میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا اور اسکے سیاہ سفید کا مالک ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بنا دیا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے سات سال میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا دعویٰ کر دیا۔ بقول کوثر نیازی، بھٹو مرحوم نے اس وقت میز پر مکہ مارتے ہوئے کہا
” I will see the hindu bastards now”
ایٹم بم کا حصول مسٹر بھٹو کا واقعی جنون تھا۔ لیکن اس سلسلے میں بیانات دینا جتنا آسان تھا اتنا ہی کام کرنا  مشکل تھا۔ امریکہ سے مخاصمت کی وجہ کے پیچھے معاملات کچھ اور تھے لیکن وہ ایٹمی پروگرام سے متعلق ہی تھے۔

بھٹو کے بعد ضیاء الحق نے بھی کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ پہلے کی طرح ڈاکٹر قدیر کو کام کرنے اور مالی معاملات کی مکمل آزادی تھی۔ ڈاکٹر قدیر خان کو ہر طرح سے سپورٹ کیا اور امریکہ کو افغان وار میں الجھا کر اپنا پروگرام در پردہ جاری رکھا۔ یوں 1984 میں پاکستان نے مبینہ طور پر ایٹم بم تیار کر لیا لیکن اس کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ امریکہ کو اس بات کی خبر تو مل چکی تھی کہ پاکستان ایٹم بم بنا چکا ہے۔ اس نے مختلف ذرائع سے پاکستان کو ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کی بہت سی پیشکشیں کیں لیکن جنرل ضیاء الحق اور بعد میں آنے والے تمام سیاسی سربراہان نے اس دباؤ کو مسترد کرکے یہ پروگرام جاری رکھا۔ پھر شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی بھی اسی پروگرام کے تحت حاصل کی لیکن وہ بھی خفیہ ہی رہی۔ اب امریکہ پاکستان پر سی ٹی بی ٹی(CTBT) یعنی نیوکلیئر دھماکوں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کا دباؤ ڈال رہا تھا۔اسی دوران بھارت نے مئی 1998 کے اوائل میں پانچ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کے لیے پھر مشکل کھڑی کر دی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملک گیر مشاورت شروع کر دی کہ کیا کیا جائے۔ آیا دھماکوں کا جواب دیا جائے یا امریکہ سے امداد وصول کی جائے۔ ڈاکٹر قدیر خان، مجید نظامی مرحوم، ایس ایم ظفر مرحوم، گوہر ایوب کے بقول وزیراعظم نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ یہ سب لوگ اس وقت نواز شریف کے انتہائی قریب تھے۔ وزیر خارجہ سرتاج عزیر کابینہ اجلاسوں اور دیگر فورمز پر دھماکے نہ کرنے کے حق میں لابنگ کرتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ انہوں نے ہی وزیراعظم نواز شریف کو دھماکے نہ  کرنے پر آمادہ کیا ہو۔

مئی کے مہینے میں ہی دیگر سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کے اعلامیے میں امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم نے 30 مئی تک دھماکے نہ کرنے کی صورت میں ملک گیر احتجاج، دھرنے کی دھمکی دے دی۔ مجید نظامی صاحب اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے ان سے کہا کہ میاں صاحب اگر آپ نے دھماکہ نہ  کیا تو قوم آپکا دھماکہ کر دے گی۔ بالآخر سیاسی اور عوامی دباؤ کے آگے میاں نواز شریف نے گھٹنے ٹیک دیے اور 28 مئی کو چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا۔ ان دھماکوں سے نا صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں انتہائی خوشی کی لہر ڈور گئی اور مسلم ممالک کی عوام نے اس کا انتہائی جوش سے خیر مقدم کیا کہ پہلا اسلامی ملک ایٹمی طاقت بن گیا۔

ہر شخص اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ ہوا کرتا ہے۔ بھٹو مرحوم کا سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کردار نہایت ہی گھناؤنا تھا۔ وہ ایسے لالچی انسان کا چہرہ تھا کہ جس نے اقتدارکی خاطر ملک کے دو حصے قبول کر لیے لیکن اسی بھٹو سے اللہ نے ایٹمی پروگرام اور مسئلہ قادیانیت کا بہت بڑا کام لیا۔ اس کا کریڈٹ یقیناً سب سے زیادہ مسٹر بھٹو کو ہی جاتا ہے۔ اسکے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی اس پروگرام کو مکمل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بھٹو مرحوم سے سیاسی اختلافات کے باوجود ضیاء الحق نے یہ پروگرام نا صرف جاری رکھا بلکہ مکمل بھی کروایا۔ بھٹو کے بعد اگر کسی کو اس پروگرام کا کریڈٹ جاتا ہے تو وہ یقیناً ضیاء الحق مرحوم ہیں۔ ضیاء الحق کے بعد آنے والی تمام حکومتیں اس حوالے سے تعریف کی مستحق ہیں، کہ انہوں نے ایٹمی و میزائیل پروگرام رول بیک کرنے کے حوالے سے امریکی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نواز شریف کو اتنا کریڈٹ تو دیا جانا چاہیے کہ انکے دور میں، گو ان کی خواہشات کے برعکس ہی سہی، مگر عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دیا۔ لیکن یہ کہنا کہ ان کی حکومت امریکہ نے دھماکے کرنے کی وجہ سے ختم کروائی ہے تو یہ ایک کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بات بھٹو یا ضیاء مرحوم کے حوالے سے کی جائے تو قابل قبول ہے کیونکہ جن دنوں نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی ،اس وقت تو سانحہ کارگل کے حوالے سے نواز شریف بل کلنٹن سے خاصے قریب تھے۔ امریکہ بالکل ان کی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتا تھا، نہ  ہی یہ امریکی پلان تھا۔ اسی لیے تو امریکہ بہادر 11 ستمبر 2001 تک مشرف حکومت سے دور ہی رہا۔ مشرف تو پہلے دن سے امریکہ کے ساتھ تعلقات نارمل کرنا چاہتے تھے لیکن امریکہ نے گھاس نہیں ڈالی۔

اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی ایٹمی پروگرام کی پاداش میں مشرف دور میں پابند سلاسل رکھا گیا، جو آج کی تاریخ تک بھی عملاً پابند سلاسل ہی ہیں ،کہ انکی حرکت انتہائی محدود کر دی  گئی ہے۔ ہم بحیثیت قوم ان کی موت کا انتظار کررہے ہیں کہ کب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں اور ہم ان کے لیے مراعات، خطابات، اور میڈلز کا اعلان کریں۔ وہ محسن پاکستان ہیں لیکن قید میں ہیں۔ جب مر جائیں گے تو کتابوں میں انکا نام ہیرو کے طور پر درج کریں گے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں ہیرو کے لیے مرنا ضروری ہے۔

28 مئی یوم تکبیر ہماری تاریخ میں واقعی قابل فخر دن ہے لیکن برا ہو اس سیاست کا، اسکی وجہ سے یہ دن ہم 6 ستمبر کی طرح یاد نہیں رکھ پائے۔ مشرف اور پیپلز پارٹی 14 سالہ دور میں سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد ہوئی ،نہ ہی کورس کی کتابوں میں اس کا ذکر ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ کام ن لیگ کے دور حکومت میں بھی زیادہ جوش و خروش سے نہیں ہوا ،جو کہ اس دن کا سب سے زیادہ کریڈٹ لینے کی خواہاں ہے۔ ن لیگ نے پارٹی سطح پر ہمیشہ اپوزیشن میں رہ کر یہ دن جوش و خروش سے منایا ہے حکومت میں رہ کر نہیں۔ اصل میں ن لیگ ہمیشہ اس دن کو نواز شریف کی “بہادری” کے طور یاد رکھنے کی خواہاں ہے جبکہ دوسرے حقیقی کرداروں کی اہمیت بہت کم کرتی رہی۔ اسی وجہ سے یہ دن قومی دن کے طور پر منایا نہیں جا سکا کیونکہ یہ ایک پارٹی کے دن کے طور پر سامنے آیا۔

حالانکہ یہ فائدہ کسی خاص جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے لیکن یہاں پاکستان کے لیے سوچنے کی بات ذرا بھاری ہوتی ہے۔ نسل نو کو یہ بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ دھماکے کرنے کے لیے “بٹن دبانے کا حکم” کس نے دیا، کیونکہ 28 مئی تک پہنچنے کے لیے پچیس سالہ جدوجہد ہے،جس میں کسی فرد واحد نہیں بلکہ بہت سے نامور اور سینکڑوں گمنام ہیروؤں کی محنت شامل ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے پاکستان کو یہ دن دکھایا۔ لیکن یہ تو نئی نسل کو بتائیں کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں دھماکے کیے جس کی وجہ سے ہم حقیقی طور پر آج بھی بھارت کو آنکھیں دکھانے کے قابل ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حقیقی ہیرو، ڈاکٹر قدیر، بھٹو اور ضیاء اور سینکڑوں گمنام سائنسدان ہیں۔ باقیوں کی حیثیت بارہویں کھلاڑی کی سی ہے جو کسی کے زخمی ہونے پر کام آتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *