قول و فعل میں تضاد اور نصیحت۔۔۔علینا ظفر

ہمارے ہاں قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے مگر نصیحتیں کرنے کا  کام ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے۔سورہ صف میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔ اسی سلسلے میں ارشادِ نبوی ﷺہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کی انتڑیاں باہر نکل جائیں گی اور وہ انتڑیوں کے گرد چکی کے گدھے کی طرح گھومے گا۔ جہنمی اس سے کہیں گے کہ تم تو اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بُری باتوں سے روکتے تھے۔ تو جواب میں وہ کہے گا کہ ہاں میں اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا مگر خود ان پہ عمل نہیں کرتا تھا۔ اور بُری باتوں سے روکتا تھا لیکن خود اُن میں مبتلا تھا۔

ایک صحابی ِ رسول نے رسول اللہ ﷺسے تبلیغِ دین کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ تبلیغ میں کسی کو نصیحت مت کرنا۔ استادِ محترم نے ایک مرتبہ میری لکھی گئی کسی تحریر کی حوصلہ افزائی کرتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ لکھاری بھی رہنما کی طرح ہی ہوتا ہے۔ تب میں نے ان سے دو باتیں سیکھیں۔ پہلی یہ کہ زندگی میں کبھی ناصح کا انداز مت اپنانا۔ دوسرا کبھی اپنی تحریر میں کوئی ایسی بات یا نصیحت بھی مت لکھنا جس پر تم خود کبھی عمل نہ کرو۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک جس حد تک ممکن ہو سکے میں یہی کوشش کرتی ہوں کہ اپنی زندگی اور ہر تحریر میں ان کی اس بات پر عمل کرتی رہوں۔

ابھی پچھلے دنوں ایک صاحب اوروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت کے مصداق کسی کو بڑوں کے سامنے اونچا لہجہ و آواز نہ اپنانے اور ان کی عزت کرنے کا لمبا چوڑا واعظ دے رہے تھے۔ اور میرے ذہن میں ان کی اہلیہ محترمہ کی شبیہہ آ گئی جن کے کڑوے اور کٹیلے لہجے اور الفاظ کا شکار بڑے تو کیا بلکہ چھوٹے بھی ہمیشہ  رہے ہیں۔ ایسے صاحبان بھی موجود ہیں جو دوسروں کو مہمانوں کی میزبانی پر لیکچر دیتے پائے جاتے ہیں جن کے اپنے گھر ایک دن تو کیا ایک گھنٹہ بھی مہمانوں نے قیام کرنا ہو تو ان کے بیوی بچے جگہ کی کمی اور مال کی تنگی کے جھوٹے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں۔ سورہ بقرہ میں ایسے ہی لوگوں کے لیے میرے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم (اللہ کی) کتاب (بھی) پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سوچتے؟

سوشل میڈیا پہ موجود میرے بہت سے جاننے والوں کی فہرست ایسی ہے جن کی پوسٹ پڑھ کے کچھ ثانیے تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ان کے اکاؤنٹس کے پاسورڈز سچ مچ کسی اور کے ہاتھ آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کا کوئی اکاؤنٹ لاگ ان کر لوں تو یقین جانیے دوستوں کی پوسٹس سے نصیحتوں سے بھرے اقوال کا کوئی جمعہ بازار سا لگا ہوتا ہے۔ سو میں سے تقریباً اٹھانوے فیصد افراد وہی کچھ اپ لوڈ کر رہے ہوتے ہیں جنہیں خود ان اقوال زریں پہ عمل کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر سوچتی ہوں کہ یہاں اپنا قیمتی وقت برباد کرنے کی بجائے اگر اس وقت کو وہ ان نصیحتوں پر خود عمل کرنے میں صرف کر لیں تو اپنے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے لیے بھی باعثِ راحت ہو جائے۔ ہمارے ہاں نصیحت کرنے کا بہت رواج ہے لیکن عمل کے آگے قفل ہیں۔ ایک موصوفہ ایسی بھی ہیں جو دوسروں کو تصویریں فوٹوگراف کرانے پر ہر وقت طنز کا نشانہ بناتے ہوئے نصیحتیں کرتی رہتی تھیں اور اب میرے احباب کی فہرست میں اس وقت میرے باقی دوستوں سے زیادہ ان خاتون کی ہی اپنی سیلفیز اور دیگر تصویریں موجود ہوتی ہیں۔

میں اس بات پر بالکل یقین رکھتی ہوں کہ دنیا اچھے لوگوں سے کم ضرور ہوئی ہے مگر ابھی خالی نہیں ہوئی۔ لیکن میں نے زندگی کے جاننے والے بہت سے حقائق میں ایک یہ تلخ حقیقت بھی جانی ہے کہ یہاں کسی کو کسی سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ہے اور ہر کوئی نمبر گیم، ریٹنگ، نمود و نمائش، دنیا کی نظروں میں اچھا بننے، محض اپنی بڑائی ظاہر کرنے اور دکھاوے کی دوڑ میں شامل ہے جو جھوٹ کی قِسمیں ہیں۔ بہت پہلے ایک جملہ پڑھا تھا کہ “رب دِلاں وچ وسدا ای دل تروڑ کے توبہ کیتی کر”۔ کسی کو دکھاوے والے پیار و انسیت کے برتاؤ سے فریب مت دیں۔ اگر کوئی آپ کی بے اعتنائیوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے تو وہ بے وقوف ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس شخص کا کھرا دل ہونے کی نشانی ہے، اس کی قدر کیجیے۔ یہ بات فراموش نہ کیجیے کہ کسی نہ کسی موڑ پہ چاہے دیر سے سہی محبت کے جھوٹے دعویدار ظاہر ہوتے نظر آ ہی جاتے ہیں۔ بے لوث محبت کرنے والے اور بے ضرر لوگ ہر کسی کی قسمت میں ہوتے ہیں نہ قسمت ہر کسی پر اس درجہ مہربان ہوتی ہے۔ ہمارے استادِ محترم فرماتے ہیں کہ دوسروں پر معترض مت ہوں۔ کبھی یہ نہ چاہیں کہ لوگ آپ کے تابع ہو جائیں۔ سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکھیں۔ آپ کو پہل خود اپنے آپ سے کرنی ہے، اپنے گھر سے اور اہلِ و عیال سے کرنی ہے۔ لہذا خود کو سلجھانے اور سنوارنے کی ابتدا کیجیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *