• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شریف زادیاں اور کمانڈو احسان نیازی۔۔قاضی شیراز احمد ایڈووکیٹ

شریف زادیاں اور کمانڈو احسان نیازی۔۔قاضی شیراز احمد ایڈووکیٹ

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اور لیلتہ جائزہ کی شب جس کو چاند رات بھی کہا جاتا ہے۔اس رات ہمیشہ کی طرح اس ملک میں ایک چاند اور بھی دکھائی دیا۔آمنہ عثمان ملک نامی ایک خاتون ،چند سکیورٹی گارڈز لے کر عظمی خان ماڈل اور ایکٹریس جس نے جوانی پھر نہیں آنی میں اہم کردار ادا کیا تھا، اس کے گھر میں گھس آئیں۔وہاں توڑ پھوڑ کی،وہاں پر موجود دو خواتین ہما خان اور عظمی خان کو ہراساں کیا،اور ان کو ڈرایا دھمکایا۔اس واقعے کے تین پہلو ہیں۔

ایک یہ کہ آمنہ عثمان نامی اس خاتون کا یہ عمل غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ان کو یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ قانون ہاتھ میں لیں اور کسی کے گھر کی چار دیواری کا تقدس پامال کریں۔گوکہ وہ گھر ان کے خاوند کا تھا۔مگر ان کا یہ فعل سراسر غلط اور غیر قانونی تھا۔اس تمام واقعے کے اصل ذمہ دار ملک عثمان صاحب تھے۔جس کا اعتراف آمنہ عثمان نے اپنے وڈیو پیغام میں بھی کیا۔یہ جان کر خوشی بھی ہوئی کہ آمنہ عثمان کا تعلق جس گھرانے سے ہے وہاں اب بھی وہی مشرقی روایات اور شادی شدہ زندگی کی روایتی پاسداری موجود ہے۔مگر ہمارے ہاں بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں غریب ہونا ایک گالی اور امیر ہونا ایک گناہ ہے۔اس ملک کے غریب خود تو گلی میں چلتی معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی کرکے ان کو قتل کر لیتا ہے مگر کوئی امیر کسی کی طرف غور سے دیکھ بھی لے تو وہ گناہ گار شمار ہوجاتا ہے۔غریب ناپ تول میں کمی،ملاوٹ،دھوکہ و فریب سے اپنا مقدر بدلنے کا حق محفوظ رکھتا ہے مگر امیر کی گاڑی کے نیچے آنے والا کتا بھی لاکھوں کی مالیت کا بن جاتا ہے۔ ہماری چونکہ اکثر آبادی بے روز گار ہے اور اس تاک میں رہتی ہے کہ کس وقت کوئی نیا ہنگامہ ہو اور ہمیں اپنی دانش مندیاں اور فلسفے بیان کرنے کا موقع ملے۔اپنی بہن بیٹیوں کے گھر بچانے کے لیے آئے روز قتل اور جھوٹے مقدمے دائر کرنے والے ملک ریاض کی بیٹی کے اس عمل پر ایک دم سیخ پا ہو گئے۔اس کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنی تیرہ سالہ شادی شدہ زندگی اور گیارہ سالہ بچے کو باپ کی شفقت سے محروم ہونے سے بچا رہی تھی۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اس قوم کو عظمی خان سے کوئی ہمدردی ہے یا اس کی چار دیواری کے تقدس کی پامالی کا کوئی غم ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ آمنہ عثمان نامی یہ خاتون ملک ریاض کی بیٹی ہے۔اور اس کا تعلق ایک امیر گھرانے سے ہے۔وہاں کسی عام پاکستانی کی بہن بیٹی ہوتی تو اس کے بھائی،بھانجے بھتیجے اس سے بڑا وبال کھڑا کرتے۔کیونکہ میرا تعلق بھی تھانہ کچہری سے ہے میں روز ایسے کئی واقعات دیکھتا ہوں جو غیرت کے نام پر ہوتے ہیں۔ہمارے ملک کا غریب اور مڈل کلاس جتنا اس ملک کے  آئین و قانون کا پاسدار ہے، سب  کو معلوم ہے۔یہ وہ عوام ہے (جو میرے پاس تم ہو) میں جب شہوار کی بیوی مہوش کے منہ پر تھپڑ رسید کرتی ہے تو پوری قوم خوشی سے نہال ہو جاتی ہے۔مگر جب حقیقی  سکرین پر یہ کام آمنہ عثمان سر انجام دیتی ہے تو پوری قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔یہ کھلا تضاد اور منافقت ہے۔

اس کا دوسرا پہلو وہ دو شریف زادیاں ہیں جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شراب اور کوکین کے ساتھ ساتھ کسی اور کے خاوند کے ہمراہ اعتکاف فرما رہی تھیں۔اپنے گناہوں کی معافی کے لیے فل میک اپ کیے سج سنور کے کسی اور کے خاوند کے ہمراہ بیٹھیں تھیں۔میرا جسم میری مرضی کے نظریے کی حامی یہ روشن خیال اداکارائیں کئی گھر اجاڑ چکی ہیں۔چونکہ ملک عثمان اس گناہ میں سب سے زیادہ گناہ گار ہے مگر یہ شریف زادیاں اپنی عیاشی اور امیرانہ طرز زندگی کے لیے کئی ملک عثمان اپنی اداؤں سے شکار کرتی ہیں۔ خود ان کو گھریلو زندگی اور اولاد جیسی نعمت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اس لیے یہ شادی شدہ عورتوں کو ان پڑھ،سادہ اور پست خیال سمجھتی ہیں۔اور ان کے احساس و جذبات کی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔مگر ان شریف زادیوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ جس سے تعلقات قائم کرکے یہ عیاشی فرما رہیں تھیں وہ کوئی عام خاتون نہیں تھی۔آمنہ عثمان کی رمضان المبارک میں دوران اعتکاف اس یلغار نے شاعر کا وہ شعر سچ کر دکھایا کہ۔۔۔۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم،
نہ ادھر کے رہے ،نہ اُدھر کے رہے!

ملک عثمان جیسے عیاش مرد تو اس تاک میں رہتے ہیں کہ کب ان کو زلفوں اور بانہوں کا سہارا ملے اور یہ اپنی دولت پانی کی طرح بہائیں۔یہ مرد کی فطرت ہے، اس میں آمنہ عثمان کا کیا دوش۔۔بیوی تو وفا کا پیکر ہوتی ہے۔مگر جب وہ اپنی وفا کو کسی داشتہ یا رقاصہ کے کوٹھے پر بے لگام ہوتے دیکھے تو اس کا ردعمل یہی ہوتا ہے۔جو آمنہ عثمان کا تھا۔مگر آمنہ عثمان ملک ریاض کی بیٹی تھی یہ اس کا اضافی گناہ تھا۔قانون کی پامالی کی بات اگر کی جائے تو قانون دونوں طرف پامال ہوا۔آئین کا مذاق ہر دو جانب اڑایا گیا۔گھر میں گھس کر ہراساں کرنا،توڑ پھوڑ کرنا،اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا اگرچہ جرم ہے۔مگر رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں شراب اور کوکین کے ساتھ ساتھ ایک شادی شدہ مرد کے ہمراہ رنگ رلیاں منانا کیسے آئینی اور قانونی ہوگیا؟۔

تیسرا پہلو محترم حسان خان نیازی صاحب تھے جوکہ نامی گرامی شخص ہیں۔ان سے زیادہ آئین اور قانون کا رکھوالا کون ہو سکتا ہے یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے واقعے میں جس طرح انہوں نے آئین اور قانون کا دفاع کیا سب کو معلوم ہے۔وکالت جیسے مقدس پیشے کا مذاق بنوایا اور عوام کے اندر کالے کوٹ کو ایک دہشت کی علامت بنانے والا یہ مظلوم کا حمایتی اور ظالم کے آگے ڈٹ جانے والا کمانڈو حسان نیازی ان دو مظلوم خواتین کے ساتھ تھانے میں جا پہنچا اور ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کروائی۔اس نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار نبھایا۔اس کے والد حفیظ اللہ نیازی صاحب حکومت گرانے کے لیے صبح شام منصوبے بناتے ہیں اور کمال کے فلسفی ہیں جبکہ ان کا بیٹا نئے پاکستان کے نام پر قانون کو گھر کی لونڈی بنائے پھرتا ہے۔تھانے کے باہر دھرنے سے لے کر پریس کانفرنس تک ان کی پھرتیاں کمال تھیں۔گویا نئے اور پرانے پاکستان کا فرق واضح فرما رہے تھے۔یہ کام ریاستی اداروں کا ہے نہ کہ کسی بھانجے بھتیجے کا۔ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کا دفاع اچھی طرح جانتی ہے۔جب اپنی باری تھی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں تک توڑ ڈالیں اور آج جب کسی اور کی حمایت کا دل آیا تو وہیں پر پناہ لینے پہنچ گئے۔آئین و قانون اور انصاف کی بالادستی کے راگ الاپنے لگے۔سستی شہرت کے حصول کے لیے ہم کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہیں۔یہی ہمارا وطیرہ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *