کیا تاجر ٹیکس چور ہیں؟ (حصہ دوم) ۔۔۔ کامران طفیل

اب جب کہ ہم جان چُکے ہیں کہ ٹیکس گذار اور ٹیکس اکٹھا کرنے والوں میں واضح طور پر اعتماد کا فقدان ہے اور تاجروں اور ایف بی آر کا بنیادی تنازعہ ٹیکس ادا کرنے نہ کرنے پر نہیں بلکہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے طریقہ کار پر ہے، یعنی حساب کتاب رکھنے اور اُس کی پڑتال وہ بنیادی نقطہ ہے جو وجہ نزاع ہے۔

اہم ترین سوال یہ ہیں کہ کیا واقعی برسوں پرانی عادتیں اور رواج ایک دن میں بدلے جاسکتے ہیں؟ کیا دنیا میں ہم سے پہلے بھی کسی قوم کو یہی مسئلہ درپیش رہا ہے اور اگر رہا ہے تو انہوں نے یہ مسئلہ کیسے حل کیا؟ خدشات اور خوف کیسے دور کئے جاتے ہیں؟

پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ برسوں پرانی عادتوں کو ختم کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا اور چیزوں کو ٹیپر آف کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ یعنی تدریج کا عمل اختیار کیا جاتا ہے اور راتوں رات انقلاب کی خواہشات کو گنگا میں بہانا پڑتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی مثالیں شراب کی حرمت اور تحویل قبلہ کے واقعات ہیں اور دنیا کی تاریخ میں تازہ ترین مثال سعودی عرب کا آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ایک کٹر مذہبی ریاست سے ایک معتدل ریاست میں بدلنے کی کوشش کرنا۔
اسی طرح معیشت کو حسابی کتابی کرنے کی کوشش کرنا بھی دنیا کی تاریخ میں کوئی نئی یا نرالی بات نہیں ہے۔ ہم سے پہلے بہت سی ریاستیں اسی مشکل سے گزر چُکی ہیں لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ترغیب و تشویق کا راستہ اختیار کیا۔ لوگوں کو راغب کرنے کے لئے اس میں کچھ معاشی مفادات بھی رکھے جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ لوگ حساب کتاب لے عادی ہوتے گئے۔

آخری سوال یہ ہے کہ خوف اور خدشات کو کیسے دور کیا جائے تو اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ حکومت ٹیکنالوجی استعمال کرے جس کی بنا پر ٹیکس کا تعین کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر نادرا کے پاس جو برا بھلا ڈیٹا موجود ہے حکومت اسی کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے والے ایک لاکھ افراد کا ڈیٹا جمع کرے کیونکہ اس سے زیادہ لوگوں کی ابھی سسٹم میں گنجائش نہیں۔ ان افراد کو ٹیکس آفس بلوا کر ان سے ری کنسیلئیشن کی جائے اور ٹیکس عائد کیا جائے۔ اگلے سال تک ٹیکس آفسز اور عملے کی تعداد بڑھا کر دو لاکھ اور پھر اگلے برس تین لاکھ ٹیکس گزاروں کا اضافہ کیا جائے تو پانچ سال میں پندرہ لاکھ ٹیکس گذار بڑھ جائیں گے، مارکیٹ میں خوف بھی نہیں پھیلے گا اور کم افراد سے زیادہ ٹیکس حاصل ہوسکے گا۔

گویا سہج پکے سو میٹھا ہو والا معاملہ اختیار کرنا ہوگا۔

ان سب باتوں سے بالاتر ایک مشورہ جو حکومت کو دیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کو فروغ دے تاکہ معیشت میں استحکام آئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *