دھرنا سیاست، خسارے کاسودا۔۔۔محمد حسین کھرل

میرا سیاسی تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔لیکن آج آپ جے یو آئی کے کسی کارکن کو نہیں بلکہ اک عام پاکستانی کو پڑھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ تمام سیاسی کارکن بالائی نظم کے ہر حکم پر آمنا و صدقناکہنے والےمقلد محض ہی ہوں۔ کچھ لوگ سوچنے سمجھنے کے عارضے میں مبتلا بھی ہو سکتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ایسی گستاخیوں اور گستاخوں کے لیے ہماری سیاسی جماعتوں میں گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔

کل دھرنا اس لیے غلط تھا کہ وہ جائز حکومت کے خلاف تھااور آج اس لئے درست ہےکہ وہ اک ناجائز حکومت کے خلاف ہے۔ نا کافی دلیل ہے۔ کیوں کہ کم ازکم پاکستان میں کوئی حکومت ایسی نہیں آئی اور نہ آئندہ امید ہے کہ جسے اپوزیشن نے ناجائز نہ کہا ہو ۔ اس لیے کیا ضمانت ہے کہ آئندہ ہر حکومت کے خلاف اپوزیشن یہی طرز عمل نہیں اپنائے گی؟ جس ملک میں سیاسی استحکام ہمیشہ ہی دیوانے کا خواب رہاہو، وہاں دھرنوں کی یہ سیاست کیا گل کھلائے گی یا کیسے مستقبل کی نوید ہو گی، کسی سے پوشیدہ نہیں۔

tripako tours pakistan

تحریکوں کی ہائی جیکنگ بھی کوئی ناممکنہ امر نہیں۔بلکہ اکثرتحریکیں ہائی جیک ہوتی آئی ہیں۔ 77 کی تحریک پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی تحریک تھی۔ جو شروع تو انتخابی دھاندلی کے خلاف ہوئی ،لیکن اسے معنون کیا گیا تحریک نظام مصطفیٰ سے ۔ قومی اتحاد میں سیکولر افراداور جماعتوں کی موجودگی کے باوجود77کی تحریک کو یہ مقدس عنوان کہاں سے اور کیسےملا ، نیز اس تحریک سے کن قوتوں نے فائدہ اٹھایا یہ سب قوم کے لیے آپ بیتی اورآنکھوں دیکھی حقیقت ہے۔ سیاسی عدم استحکام خواہ کسی بھی عنوان سے یا کسی بھی دورمیں ہو،ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کی منشاء رہا ہے۔ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر کٹنا صرف خربوزے ہی کا مقدر ہے۔ اگر بلوے کی سیاست سود مند ہو سکتی تو عرب آمروں کے خلاف عرب بہار جیسے خوش کن عنوان سے ہونے والے بلوے عربوں کی مزید بربادی کا باعث نہ بنتے۔

جےیوآئی پندرہ ملین مارچ کرتی ہے لیکن نشریاتی و اشاعتی قومی ذرائع ابلاغ پر بلا کا سکوت طاری رہتا ہے۔ پھر اچانک جے یوآئی کی چھوٹی سے چھوٹی سرگرمی قومی خبر نامہ کی بڑی خبر بننا شروع ہو جاتی ہے۔اگرچہ پیمرا کی پابندی کے باعث اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی۔ لیکن جو مقصود تھا وہ شاید حاصل ہوچکا۔ ایک طرف اس دھرنے کو پذیرائی دی گئی اور دوسری طرف جے یو آئی کے کارکن کو سوٹوں سے لیس شدت پسند کے طور پر پیش کیا جا چکا۔ جے یو آئی کے رضا کاروں کی تنظیم انصار السلام جس کا کام جلسہ گاہ اور قیادت کو حفاظتی حصار مہیا کرنا ہے۔ ذرائع ابلاغ پہلےاسے بھرپور کوریج دیتےہیں اور پھر موضوع بحث ٹھہراتے ہیں ۔ میڈیا پر براجمان دانشور اسے خلاف آئین قرار دینے لگتےہیں اور بات پابندیوں تک پہنچ جاتی ہے۔

مذہبی قوتوں کو مشتعل کرنے کی جب جب کوشش ہوئی یہ جےیو آئی کی قیادت ہی تھی جس نے مذہبی حلقوں کو مشتعل ہونے سے روکے رکھا۔ جے یو آئی کی قیادت کی نہ مان کر جو لوگ مشتعل ہوئےقطع نظر اس کے کہ انھوں نے ہتھیار اٹھائے تھے یا نہیں،ان لوگوں کا انجام سب کے سامنے ہے۔حیرانی تو اس بات کی ہے کہ پورے مذہبی حلقے کواشتعال پسندی سے دور رکھنے والی قیادت آج اپنے ہی کارکن کو سیاسی اشتعال پسندی کی طرف کیوں دھکیل رہی ہے؟ مدلل،معتدل، پوروقاراور دھیما لہجہ جس جماعت اور قیادت کی پہچان رہا ہے۔ آج وہ بلوے کی قیادت کاعلم تھامے برسرے میداں ہے آخر کیوں؟

فرض محال دھرنے کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت ختم ہو جاتی ہے۔ توآئندہ حکومت میں جے یوآئی کہاں کھڑی ہو گی، زیادہ سے زیادہ کسی بڑی جماعت کی اتحادی؟ وہ بڑی جماعتیں جنھوں نے اصل فائدہ اٹھانا ہے وہ پچھلی صفوں میں یا اخلاقی حمایت تک محدود اور جےیوآئی کا پیادہ قربانی کے لیے اگلی صفوں میں کیوں؟ بات فقط اس قربانی تک محدود نہیں اگر خدا نخواستہ اس تحریک کے نتیجے میں سسٹم لپیٹ دیاجاتا ہے اورا علانیہ مارشل لا لگتا ہے تو ہمیشہ ہمیشہ کی رسوائی کس جماعت کے کھاتےپڑے گی؟ اور اداروں کے پے رول پر ہونے کا طعنہ کسے سننا ہو گا؟

اس سب سے بڑھ کر اک طرف جے یو آئی کا بیانیہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بیرونی ایجنڈے کا پرچارکر ہےاور دوسری طرف جےیو آئی سمیت پوری اپویشن کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت کی حیثیت کٹھ پتلی کی ہے جس کی ڈور چلمن کی اوٹ میں بیٹھی ہیئت مقتدرہ کے ہاتھ ہے۔ جب موجودہ حکومت کی حیثیت صرف کٹھ پتلی کی ہے تو وہ تن تنہاکیسے بیرونی ایجنڈے پر کام کر سکتی ہے؟ کہیں ایساتو نہیں کہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکنے کے باعث عالمی ہیئت مقتدرہ چاہتی ہو کے ڈور کے دوسرے سرے پر بیٹھی قوتیں براہ راست آ کر خدمات سر انجام دیں ۔ اور ہم انجانے میں انہی قوتوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہوں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *