عرفان خان، ایک ضدی خواب گر۔۔عبدالرحمٰن عمر

زندگی گلے میں پڑا   ڈھول نہیں جسے بے دلی سے پیٹنا ہے بلکہ خواب دیکھئے، تعاقب کیجئے، زندگی نہ صرف آپکی محنت کا قرض لوٹائے گی بلکہ آپکے لئے کامیابی کی سیج سجائے گی

ابھی تریپن یا چوون سال ہی اس کی عمر تھی، اسی لئے جب کینسر سے بیمار ہونے کی خبر آئی۔تو دنیا بھر میں اس کے چاہنے والے۔ ماننے کو ہی تیار نہیں تھے کہ وہ کینسر کے ہاتھوں دنیا چھوڑ جائے گا۔ لیکن وہ خود مان گیا تھا کہ یہ کینسر کی خبر موت کا بلاوا ہے۔ اسی لیے کینسر کی تصدیق ہوتے ہی زندگی کے نام ایک یادگار خط لکھ ڈالا۔ وہ زندگی جسے اس نے گلے میں پڑا ڈھول نہیں سمجھا تھا۔ بلکہ اپنی مرضی سے جیا تھا۔ اور بھرپور جیا تھا۔ اس موڑ پہ بھی داستاں کو خوبصورت موڑ دینے پہ بضد نظر آیا۔ اس نے کہا “میں تو کسی اور سمت گامزن تھا۔ ایک تیز رفتار ریل پر سوار۔۔۔ جس میں میرے پاس خوابوں، توقعات، منصوبوں، خواہشوں جیسا سامان تھا۔۔۔ لیکن اچانک کسی نے پیچھے سے آکر میرا کاندھا تھپتھپا کر کہا، آپ کی منزل قریب آچکی ہے، اترنے کی تیاری کیجیئے
میں بوکھلا سا گیا، میری سمجھ میں کچھ نہ آیا؛
“نہیں نہیں۔۔۔ ابھی میرا اسٹیشن نہیں آیا!”
نہیں صاحب، اس ریل کا یہی اصول ہے، اگلے اسٹیشن پر آپ کو اترنا ہی ہوگا۔
اٹھارہ بیس سال کی عمر سے اس ضدی لڑکے نے زندگی کو اپنی مرضی سے جینا چاہا اور پھر جیتا چلا گیا۔ ہاں شہرت اور کامیابیوں کے دوران اس غلط فہمی کا شکار ہوچکا تھا کہ جیون کے سمندر میں اٹھنے والی لہروں پر ہم مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ اس کی یہ غلط فہمی شائد کامیابیوں کا خمار تھا۔
کالج کی تعلیم سے فارغ ہوا۔ کچھ کرنے، کچھ بننے کا سوال سامنے آکھڑا ہوا تو زندگی کی یک رنگی سے اکتایا ہوا ٹونک کے چھوٹے سے ہندوستانی شہر کا باسی شہرت اور کامیابی کا ایک بڑا خواب دیکھ رہا تھا۔ خود اپنے بارے بڑا واضح تھا کہ صرف پیسے کیلئے کام نہ کر پاؤں گا۔
باپ شکاری تھا اور چاہتا تھا کہ بیٹا جفاکش بنے۔ لیکن یہ کیا، صاحبزادہ عرفان خان تو بڑا اداکار بننے اور مشہور ہونے کا خواب بُن رہا تھا۔ خاندان والے فلم میں کام کرنا تو کُجا فلم دیکھنا بھی گھٹیا کام سمجھتے تھے۔ ابا کی بجائے اماں سعیدہ خانم کو منانا آسان تھا۔ سو ایسا ہی کیا گیا۔ موقع پا کر ماں سے کہا میں فلموں میں کام کرنا چاہتا ہوں۔ ماں نے کہا، بیٹا یہ ناچنے گانے والے کام ہمیں زیب نہیں دیتے۔ مجبوری میں اک جھوٹ گھڑا گیا اور کچھ دن کی محنت سے اماں کو منا لیا گیا کہ انڈین نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ واپس آ کر جے پور یونیورسٹی میں پڑھاؤں۔ ماں مان گئی۔ نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ کے لئے انٹرویو ہوا تو ایک دوسرا جھوٹ انٹرویو پینل کو سنایا گیا کہ میں آٹھ دس ڈراموں میں کام کر چکا ہوں اور فلم مجھے بالکل پسند نہیں، ڈراموں میں ہی کام کرنا چاہتا ہوں۔ دل میں خواہش بڑا فلمی اداکار بننے کی تھی۔ لیکن یہ خدشہ بھی تھا، کہ پتہ نہیں میری شکل و صورت فلم کے لیے قابلِ قبول ہوگی بھی کہ نہیں۔ نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ کے ساتھ بھی ایک غلط فہمی جُڑی تھی کہ بڑا اداکار بننے میں بس داخلہ لینے کی دیر ہے۔ غلط فہمی اکثر انسان کو رلاتی ہے، اور ایسا ہی صاحبزادہ عرفان خان کے ساتھ ہوا۔ تعلیم مکمل ہوئی تو ممبئی کا رخ کیا اور مختلف ڈرامہ سیریلز میں کام ملنا شروع ہوگیا چونکہ ڈائیلاگ کی ادائیگی اور تاثرات میں ہم آہنگی تھی اس لیے کام کو خوب پسند کیا گیا۔ اور اس پسندیدگی کی آوازیں بھارتی فلم نگری سے بھی آتی رہیں۔ لیکن خان تو تعریف کے ساتھ بلاوے کا بھی منتظر تھا۔جو دیر تلک نہیں آیا۔ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ جب عرفان نیشنل سکول آف ڈرامہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے قریب تھا تبھی انھیں اپنی پہلی بین الاقوامی فلم ملی۔ مِیرا نائر نے انھیں “سلام بامبے” میں ایک بڑے کردار کے لیے چُنا۔ وہ بمبئی آکر ورکشاپ میں شامل ہوئے، لیکن دو روز بعد ان سے کہا گیا کہ آپ فلم کا حصہ نہیں ہیں۔ بعد ازاں اسی فلم میں عرفان خان نے سڑک کنارے بیٹھ کر لوگوں کے خط لکھنے والے لڑکے کا ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا۔ لوگوں نے دیکھا اور پھر بھول گئے۔ زندگی نے مناسب وقت پہ آپکی محنت کا قرض چکانا ہوتا ہے۔ اور عرفان خان کا یہ قرض میرا نائر کے ہی ہاتھوں 18 برس بعد فلم “دا نیم سیک” میں اشوک گانگُولی کا کردار دے کر چکایا گیا۔
موٹی موٹی آنکھوں سے تاثر دینے کا فن، مکالمہ کی ادائیگی کا بے مثل ہنر، تاثرات میں میل، ہیرو یا ولن ہر دو طرح کے کردار سے انصاف کی صلاحیت، اور پھر انتہائی پیچیدہ کردار کی ادائیگی میں بھی عرفان خان جیسا دوسرا فنکار ڈھونڈنا آسان نہیں۔ زندگی کی آزمائش دیکھئے کہ فلم “سلام بامبے” کے 13 سال تک یہ فنکار کسی بڑی فلم میں نظر نہیں آیا۔
لیکن اپنے کام سے لگن کا یہ عالم تھا کہ بس میں سفر کرتے، لفٹ میں جاتے، بازار میں گھومتے بھی ڈائیلاگ بڑ بڑانا جاری رہتا۔کئی بار تو ساتھ سفر کرنے والوں نے منع بھی کیا کہ بھائی صاحب یہ سب گھر میں جا کر کیجئے گا۔ فلم نگری سے بلاوے کا انتظار شدت اختیار کرتا گیا۔ حتیٰ کہ انگلش فلمساز آصف کاپڑیا نے 2001 میں آنے والی فلم ‘واریئر’ کیلئے عرفان خان کو چُنا اور پھر کامیابیوں کا ایک شاندار سفر شروع ہوگیا۔ انڈین فلم انڈسٹری سے ہالی ووڈ تک فلموں میں خوبصورت کام کیا اور صرف داد ہی نہیں سمیٹی، مداحوں کے دلوں پہ راج کیا۔
عرفان خان نے روایت توڑنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف روایت پر سوال اٹھایا بلکہ جہاں ضرورت ہوئی توڑنے سے بھی نہیں جھجکا۔ وہ چاہتا تھا کہ کہانی کے ذریعے اپنے دیکھنے والوں کو ایسا تجربہ دوں جو سالوں تک یاد رہے۔ اور دنیا بھر میں کروڑوں مدح اس بات کا اقرار کرتے نظر آئے۔ کسی بھی کردار میں عرفان خان کو دیکھنے والے کہتے ہوئے اٹھے کہ اس سے خوبصورت اور کون نبھائے گا۔
عرفان کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی گمنامی، جدوجہد اور ٹیلی ویژن کے مشکل سفر کے ساتھ اپنے شوق سے اٹوٹ لگن بھی شامل تھی۔ زندگی کو اپنے ڈھب سے جینے کی ضد پہ ڈٹا رہا۔ سمجھانے والے بھی آئے۔ لیکن بضد رہا کہ میں اپنا خواب کیسے چھوڑ دوں صاحب۔ اداکاری کے اس سفر میں عرفان خان نے
چند ایک کردار ایسے بھی کئے کہ جنہیں کرنے کیوجہ صرف پیسے کی فوری ضرورت تھی۔ لیکن جب بھی کسی نے پوچھا تو برملا اقرار کیا اور کہا کہ یہ کڑواہٹ دیر تک رہی اور آئندہ کوشش کی کہ ایسی بند گلی سے بچا جائے۔ جب صرف پیسے کے لیے ہی من کیخلاف کچھ کرنا پڑے۔ زندگی کی تلخیوں سے لڑنے کے لئے محبت کو ہی ہھتیار اور ڈھال سمجھا۔ کئی بار کہنے والوں نے کہا کہ، عرفان خان دباؤ اور پریشانی میں نظر آتا ہے۔ تو ہر بار ہنس کے جواب دیا صاحب آپ کو لگتا ہے، لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔
کینسر کا یہ مرض بڑھنے اور اعصاب متاثر ہونے لگے توخود کو منالیا اور کہا کہ
“بے ثباتی کو ہی ثبات ہے۔”
اسی احساس نے مجھے سپردگی اور بھروسے کے لئے تیار کیا۔ اب چاہے جو بھی نتیجہ ہو، یہ چاہے جہاں لے جائے، آج سے 8 مہینوں کے بعد، یا آج سے 4 مہینوں کے بعد، یا پھر 2 سال۔۔۔ فکر رفتہ رفتہ معدوم ہونے لگی اور پھر میرے دماغ سے جینےمرنے کا حساب نکل گیا۔پہلی بار مجھے لفظ ” آزادی” کا احساس ہوا، صحیح معنی میں! ایک کامیابی کا احساس۔
کائنات کا یہ سچ میرے یقین کو کامل کرگیا اور اس کے بعد لگا کہ وہ یقین میرے جسم کے ریشے ریشے میں بھر گیا ہے۔ وقت ہی بتائے‌گا کہ وہ ٹھہرتا ہے کہ نہیں! فی الحال میں یہی محسوس‌کر رہا ہوں۔
مرض بھی بڑھتا گیا اور عرفان خان کی اس سے لڑنے کا عزم بھی۔ 25 اپریل کو والدہ سعیدہ خانم وبا کے ان دنوں میں خالق حقیقی سے جاملیں تو بیٹے عرفان کی مرض میں شدت آگئی۔
خواب دیکھا تعبیر ڈھونڈی۔ آگے بڑھنے کی یہ جدوجہد عجیب ہی تھی وہ خود بھی کہتا تھا کہ جب بھی ہار کا سامنا ہوا تو خود میں کمی ڈھونڈی۔ کہانی کے کرداروں کو زندگی بخشی۔ طالب علم سے ایک زمانے کا استاد بننے اور ناکامی سے سیکھ کر آگے بڑھتے رہنے پہ بضد عرفان خان نے ڈر سے مرنے کی بجائے قدرت کی آغوش میں جھولنے کو چُنا۔ اگر کیا لے گیا کی بجائے کیا چھوڑ گیا اہم ہوتا ہے۔ تو پھر میرے خیال میں عرفان خان بہت خوبصورت مثال چھوڑ گیاہے۔ کہ زندگی گلے میں پڑا ڈھول نہیں جسے بے دلی سے پیٹنا ہے بلکہ خواب دیکھئے، تعاقب کیجئے، زندگی نہ صرف آپکی محنت کا قرض لوٹائے گی بلکہ آپکے لئے کامیابی کی سیج سجائے گی ۔ امید ہے جہانوں کا خالق اس ضدی خواب گر کے شایان شان اس سے رحمت کا معاملہ کریگا۔

عبدالرحمٰن عمر

عبدالرحمٰن عمر
عبدالرحمٰن عمر
پڑھنے، لکھنے کا شوق، پیشہ وکالت اور فری لانس جرنلزم سے وابستہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *