• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • محمود مدنی صاحب ،اب قوم کو بیوقوف بنانا چھوڑدیں۔۔۔محمد غزالی خان

محمود مدنی صاحب ،اب قوم کو بیوقوف بنانا چھوڑدیں۔۔۔محمد غزالی خان

صورتحال ایسی تھی کہ پاکستان ایک narrative بیان کر رہا تھا۔ وہ narrative یہ تھا کہ انڈین مسلز اس [دفعہ 370 ہٹائے جانے کے] معاملے میں انڈیا کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا تھا۔ کل کی بھی اگر آپ ان کی تقریر سنیں گے خانصاحب کی، یونائٹڈ نیشنز میں جو کری ہے انھوں نے، اس سے بھی انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کچھ جملے ان کے ایسے ہیں جن سے واضح پیغام دیا ہے کہ انڈین مسلمز تنگی محسوس کررہے ہیں اب اوروہ ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔ یہ کل کا ہے ان کا یونا ئٹد نیشنز کا۔ اس کا مطلب یہ کہ اب جو یہاں پر خدانخواستہ، internal یا external کوششوں سے کوئی بھی حادثہ ہوگا سوئی سیدھے سیدھے انڈین مسلز پر آئے گی ۔۔۔ ذرا سا آپ باریکی سے اس کو دیکھیں گے، تو خانصاحب اس وقت گھرے ہوئے ہیں ساری دنیا میں۔ اس بات کو لے کر کہ انہوں نے، ان کے یہاں دہشت گردی کو پالا پوسا ہے اور اس کو جوان کیا ہے اور اسکو tool [آلے ] کے طور پر use [استعمال ]کیا ہے الگ الگ جگہوں پر ، الگ الگ موقعوں پر۔ اس بات کو لے کر وہ گھرے ہوئے ہیں ۔ اور کرنا انہیں آگے پھر بھی ہے یہی کام۔ تو وہ انڈیان مسلز کو ابھی سے کٹگھڑے میں کھڑا کر رہا ہے۔‘

یہ وہ وضاحت ہے جو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی صاحب کی جو انھوں نے مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کے ’سرجیکل اسٹرائیک‘ پروگرام میں جنیوا میں اپنی پریس کانفرنس سے متعلق دی ہے,اور ہم نے اسے انھیں کے الفاظ میں من و عن نقل کر دیا ہے تاکہ قارئین کو ان کی زبان دانی اور معیار کا بھی اندازہو جائے ۔

یقیناً پاکستان کی جانب سے کسی بھی ایسی کوشش  کی پر زور مذمت اورمخالفت کی جانی چاہئے جس سے مسلمانان ہند کو کسی بھی قسم کے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے واقعی ایسی کوئی بات کہی ہے جوجمعیت یامسلمانان ہند کی کسی بھی تنظیم کو جنیوا جا کر پریس کانفرنس جیسا غیر معمولی قدم اٹھانے پر مجبور کرے؟ ۔

پچاس منٹ سے زیادہ کی اپنی تقریر میں عمران خان نے ماحولیاتی آلوگی کے خطرات، یوروپ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی گئی نفرت ، مسلم خواتین کے حجاب پر ناجائز پابندی اور سب سے بڑھ کر وقفے وقفے سے رسول کریم ﷺ کی شان  میں کی جانے والی گستاخی سے مسلمانان عالم کو ہونے والی دلی تکلیف کا ذکر کیا ۔ اقوام متحدہ کی پوری تاریخ میں کسی مسلم سربراہ کی یہ سب سے زیادہ جرات مندانہ تقریرتھی ، جس میں نہ یہ کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی حقیقت بیان کی گئی بلکہ کسی بھی مسلمان کیلئے جو سب سے زیادہ قابل مسرت بات ہےاور جس کیلئے عمران خان قابل مبارکباد ہیں، وہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اس بین الاقوامی پلیٹ فارم پرناموس رسولﷺکےبارے میں بتایا گیا اور مغرب اور مغربی سربراہان مملکت کو باور کرایا گیا کہ اپنے نبی کیلئے مسلمان اپنی جان تک دینے کو تیار رہتا ہے۔

مگر کیا کہا جائے اس ’عالم دین‘ کو جسے پوری تقریر میں صرف ایک ایسا جملہ سنائی دیا جسے وہ مفاد پرستی کی اپنی سیاست کو پورا کرسکے۔ عمران خان وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے آر ایس ایس کی فسطائیت اور مسلم دشمنی کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے ۔اپنی  تقریر میں انھوں نے بتایا کہ ہٹلر اور مسولونی آر ایس ایس کے بانیان کے ہیرو تھے اور انہیں کی طرح یہ تنظیم بھی آرین نسل کی برتری پر یقین رکھتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اپنی فسطائی سوچ کی وجہ سے ہی اس تنظیم نے مہاتما گاندھی کا قتل کروایا تھا۔

عمران خان نے گجرات کے مسلم کش فسادات میں نریندرمودی کے کردار، مسلمانوں کے قتل عام اور تباہی کا ذکرکر تے ہوئے بتایا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے آر ایس ایس کے غنڈوں کو 2002 کے فسادات میں تین دن تک مسلمانوں پر قیامت ڈھانے کی کھلی چھوٹ دی تھی ۔  انھوں نے یا دلایا کہ گجرات فسادات کے بعد نریندرمودی کے امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی۔ انھوں نے آر یس ایس کی مسلم دشمنی کے بارے میں بتاتے ہوئے کشمیرمیں مظالم کا ذکرکرنے کے بعد کہا:

’کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس سے وہ 180 ملین مسلمان جو آٹھ ملین کشمیریوں کے [گھروں میں] بند کئے جانے کو دیکھ رہے ہیں، ان میں اس کی وجہ سے انتہا پسندی پیدا ہو سکتی ہے؟ اور [دنیا بھر کے] 13 بلین مسلمانوں پراس کا کیا اثر ہو گا جو[اس ظلم کو] دیکھ رہے ہیں اورجنہیں معلوم ہے کہ یہ صرف اسلئے ہورہا ہے کہ کشمیری مسلمان ہیں۔‘

بس اس آخری حصے کے ایک جملے نے ہمارے حضرت مولانا کو جنیوا میں بی جے پی حکومت سے اپنی وفاداری کا دفاع کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ ارے مولانا! ، مسلمانان ہند کی لاشوں پر اپنی قیادت کی عمارت عمران خان نےنہیں آپ نے کھڑی کی ہوئی ہے۔ انٹر ویو کے دوران باربار یہ بتائے جانے کے باوجود کہ عمران خان کی تنقید صرف آرایس ایس پر تھی اور انہوں نے کہیں ہندوستانی مسلمانوں کو مخاطب نہیں کیا، مدنی صاحب مصر رہے کہ عمران خان نے مسلمانان ہند کو پھنسانے کی کوشش کی ہے۔

جوقارئین، کشمیر، بالخصوص وہاں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ہند و پاک تعلقات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر آرایس ایس کے بدنما فسطائی چہرے سے اگرکسی نے پہلی بار نقاب اٹھایا ہے تو وہ شخص عمران ہی خان ہیں۔ انہوں نے یہ کام اقوام متحدہ میں اپنی تقریر سے پہلے شروع کر دیا تھا اور یہ ان کے بیانات کا ہی اثر تھا ، جس کی وجہ سے موہن بھاگوت کو بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اچھا بن کر آنے اور یہ کہنے پر مجبورہونا پڑا کہ اگرآرایس ایس کا کوئی رکن ہجومی تشدد میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف ان کی جماعت اقدامات کرے گی۔

عمران خان نے صرف ایک ایسے خدشے کا اظہارکیا تھا جس کا خطرہ ہندوستان کا ہر سنجیدہ مسلمان محسوس کرتا ہے اور کشمیر کی وجہ سے نہیں بلکہ آئے دن کے ہجومی تشدد اوراس تذلیل کی وجہ سے جس کا سامنا معصوم نوجوانوں کو آئے دن کسی نہ کسی شکل میں کرنا پڑرہا ہے ۔مگر  نہ تو ہندوستان میں کسی اورجماعت کوعمران خان کےکسی بیان یا اس کے بعد اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر میں وہ پہلو نظرآیا جو مدنی صاحب کونظرآگیا اور نہ ان کی تقریر کے دوران موجود مختلف سربراہان مملکت کو ڈر لگا کہ عمران خان ان کے ممالک میں نوجوانوں سے افغان جہاد کی طرح کشمیرپہنچ جانے اور جہاد شروع کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔ مگر’اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی‘ کے مصداق ہمارے ملک کے مفکراعظم نے بڑی دورتک بھانپ لیا۔ بار بار اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے رہے کہ عمران خان ہندوستانی مسلمانوں کا نام استعمال کررہے ہیں۔

مفتی یاسر صاحب نے کئی چبھتے ہوئے اوربرجستہ سوالات کئے، مگر مدنی صاحب نے کسی ایک سوال کا بھی سیدھا جواب نہیں دیا اور مستقل بات کو گھماتے رہے۔ کاش کوئی اس عالم دین کو اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم یاد دلادے کہ: ’باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناوٴاور نہ جانتے بوجھتےحق کو چھپانے کی کوشش کرو‘ (سورة البقرة آیت نمبر ۴۲) ۔

مگر اس بے غیرتی کو کیا نام دیا جائے کہ ایک ماہ سے زیادہ کرفیو، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس کا بند کیاجانا، مریضوں کوادویات سے محروم کیاجانا، خواتین کی عصمت دری، بچوں کا اغوا، کشمیریوں پر کئے جانے والے وہ مظالم ہیں جن کی تصدیق کئی ہندوستانی صحافیوں نے کی ہے۔ مگر واہ رے حق نمک ادا کرنے والے مولانا ! فرماتے ہیں کہ کشمیر میں کوئی کرفیو نہیں ہے اورکشمیری اپنے آپ کو احتجاجاً بند کئے ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا اس جھوٹ پر کیا تبصرہ کیا جائے۔شاید اکبر الہ آبادی نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا تھا :
خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں

یہ حضرت جنیوا کیوں گئے اورکس کے کہنے پر گئے ہوں گے اسے سمجھنا کسی بھی ذی شعور شخص ک کے لئے مشکل کام نہیں ہے۔ جس آسانی کے ساتھ انہوں نے جنیوا میں کانفرنس کرڈالی اوریورپی ارکان پارلیمنٹ کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلیا، اتنی آسانی کے ساتھ تو مقامی میڈیا کے ساتھ مقامی سطح کی پریس کانفرنس بھی نہیں ہوپاتی۔ کس نے یہ انتظامات کئے ہوں گے، مدنی صاحب کے بھکتوں کے علاوہ اس کا اندازہ کرنا کسی کیلئے بھی مشکل نہیں ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ جمعیت کو ہی بار بار کیوں وضاحتیں دینے کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ سکھوں کو خالصتان تحریک کے تعلق سے صفائی دینے کی ضرورت کبھی نہیں پڑی، موصوف نے سوال پر سوال کیا کہ کیا پوری تحریک میں خالصتان تحریک کی مخالفت اور ہندوستان کا ساتھ دینے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا؟

کاش مفتی صاحب ان حضرت کو علیحدگی پسندی کی مخالفت اور غیر ضروری خوشامد میں فرق بتاکر یاد دلادیتے کہ گولڈن ٹمپل پر حملے کے بعد گیانی ذیل سنگھ نے اپنا غصہ چھپایا نہیں تھا، خشونت سنگھ نے اپنا پدم بھوشن ایوارد احتجاجاً واپس کردیا تھا۔ 1994 کے سکھ مخالف فسادات میں ملوث افراد کو سکھوں نے آج تک معاف نہیں کیا اور بڑے بڑے کانگریسیوں کے کیریئر برباد کرڈالے۔

وہ آپ کی طرح بے غیرت نہیں کہ جانی اور مالی نقصان تو چھوڑ ئے گجرات، مظفرنگر اور اب کشمیر میں مسلمان ماؤں، بہنوں کی عصمت دری کو بھلا کر ظالم چاپلوسی اور تملق پسندی میں لگ گئے ہیں۔

جمعیت کے بھکتوں کو یہ بتانے کیلئے کہ ایک خود دار سیاست دان اپنی ملت کے مفادات اور حمیت کو کتنا عزیزرکھتا ہے یہاں معروف برطانوی صحافی مارک ٹیلی کی کتاب Amritsar: Mrs Gandhi’s Last Battle کے چند اقتباسات کا ترجمہ پیش ہے، مارک  ٹیلی لکھتے ہیں:

’سب سے زیادہ اہم سکھ شخصیت صدرذیل سنگھ کی تھی۔ انہوں نے مسز گاندھی کو بتا دیا تھا کہ گولڈن ٹمپل پرحملے نے ان کا سکون غارت کردیا تھا اوران کے افسران نے دیگرہندوستانیوں کو بتادیا تھا کہ پہلا سکھ صدرمستعفی ہونے پر غورکر رہا ہے۔ اس سے ایک ایسا آئینی بحران پیدا ہوجاتا جس کی کوئی مثال موجود نہیں۔۔۔ ذیل سنگھ گولڈن ٹیمپل جانے پر بضد رہے جس پر اندرا گاندھی کو بادل نخواستہ اتفاق کرنا پڑا۔ حالانکہ جرنیلوں نے انہیں [مسز گاندھی] کو بتادیا تھا کہ پریکرما ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہے اوروہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں سے تمام لاشیں اٹھالی گئی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتادیا تھا کہ وہ صدرکی حفاظت کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے تھے ۔۔۔ بعد میں ذیل سنگھ نے بتایا کہ گولڈن ٹمپل کی حالت دیکھنے کے بعد وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکے۔۔۔دہلی واپس آکرذیل سنگھ نے نیشنل فلم فیسٹول میں انعامات تقسیم کرنے کے اپنے پروگرام کو منسوخ کردیا ، مگراستعفیٰ دینے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ اس کے بجائے انہوں نے مسزگاندھی سے کہا کہ وہ قوم کے نام اپنی تقریر خود لکھیں گےاور یہ کہ کانگریس اور اپنے پرانے حریف دربار سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنا ئیں گے۔ مسز گاندھی کے نزدیک شاید صدر کو ان کے عہدے پر برقراررکھنے کیلئے یہ بہت معمولی سی قیمت تھی‘۔  (Jonathan Cape, London, 1985, p 193-4)

ہمیں وہ خبریں بھی یاد ہیں جو دسمبر 2013 میں اخبارات میں شائع ہوئی تھیں اور جن کے مطابق اپنے احمد آباد کے دورے پر آپ نے نریندرمودی کی بُلیٹ پروف گاڑی استعمال کی تھی۔

ہمیں تو مراد آباد کا وہ فساد بھی یاد ہے جس نے ہندوستان کے ہردرد مند مسلمان کوگہری تشویش اور غصے میں مبتلا کر دیا تھا اورجس پر سید شہاب الدینمرحوم (جی ہاں وہی شہاب الدین صاھب جن پر جمیعتی حلقے میں بی جے پی ایجنٹ ہونے کا الزام دیا جاتا تھا مگر کھل کر یہ بات کہنے کی کسی کی ہمت نہ ہوئی) اوربنات والا صاحب مرحوم نے پارلیمنٹ میں اور اعظم خان نے یوپی اسمبلی میں نہایت جرات مندانہ تقاریر کی تھیں، مگر کسی کے کان پرجوں نہیں رینگی تھی۔

ان حالات میں بھی آپ کے والد (اﷲ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے )  خود ساختہ ’فدائے ملت‘ نہ یہ کہ اندرا گاندھی کی غلامی میں لگے رہے بلکہ دہلی بوٹ کلب پرعلیگڑھ کے احتجاجی طلباکا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ جس وقت مرحوم بوٹ کلب پر پہنچے ان پر سب سے پہلی نظر وسیم صاحب (بھنڈی) جوبعد میں وی پی سنگھ حکومت میں راجیہ سبھا رکن بھی ہو گئے تھے، کی پڑی اور انھوں نے فوراً زور دار آواز میں کہا ’وہ دیکھئے ملت کٹاؤ تحریک [یہ اندرا گاندھی کی حمایت میں مرحوم کی ’ملک و ملت بچاؤ تحریک‘ پر طنز تھا] کے بانی تشریف لاتے ہیں اور وہاں سے طلبا نے ان کو ذلیل کر کے واپس کردیا کیونکہ وہ اب دنیا میں نہیں رہے جو کچھ وہاں ہوا اس کی تفصیلات دینا مناسب نہیں۔ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ صرف اس لئے کہ یہ مسلمانان ہند اور جمعیت کی تاریخ کا حصہ ہے۔

اُن دنوں موصوف جہاں جہاں گئے مسلمانوں کے غصے اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ مظفرنگر کے پاس تو ان کی گاڑی پر پتھراؤ بھی ہوا تھا جس میں ان کے اور ان کے ایک بیٹے کے زخمی ہونے کی اطلاعات آئیں تھیں ، ہو سکتا ہے وہ محمود مدنی صاحب خود رہے ہوں۔

مرادآباد سے پہلے غالباً 1972  کا ایک اور واقعہ یاد آگیا   جب مرحوم دیوبند جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھانے کیلئے تشریف لائے تو یوتھ مجلس کے کچھ نوجوان بغیر نماز پڑھے احتجاجاً مسجد سے باہر نکل آ ئے جن میں بدر کاظمی صاحب اور شاید مفتی یاسر صاحب کے والد محترم مولانا ندیم الواجدی صاحب شامل تھے۔ جو کچھ الفاظ بدر کاظمی صاحب نے وہاں کہے تھے اور جس پر مسجد میں موجود افراد نے زور دار قہقہہ لگایا تھا اسے یہاں نقل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت یہ حضرات نوجوان تھے اور ہم بچے تھے اوران کے بےخوف ایکٹوزم نے ہمیں ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔ یہ حضرات   علیگڑھ  مسلم یونیورسٹی  کے اقلیتی کردار کی بحالی کی ہندوستان بھر میں چلائی گئی تحریک کے حصے کے طور پر دیوبند میں مختلف پروگرامز منعقد کر رہے تھے۔(   دیوبند میں اُس وقت اسی طرح کی خبر گردش  میں تھی۔ البتہ مولانا  ندیم الواجدی صاحب نے اس واقعے میں اپنی شمولیت کا انکار کیا ہے)

مدنی صاحب نے ڈاکٹرسید محمودؒ اورمولانا مولانا حفظ الرحمٰنؒ کا حوالہ دے کرعوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی مفاد پرستانہ خوشامد کو ان جری، مخلص اور قدآور شخصیات کی حکمت کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی ہے۔ 1958 کے کنوینشن کی تو بات کر رہے ہیں مگر نئی نسل کو یہ نہیں بتائیں گے کہ ملت کے یہ سپاہی بعد میں حکومت کی پالیسیوں سے اس قدر نالاں اور بیزار ہوئے کہ 12-11جون 1961 کومولانا حفظ الرحمٰن اور پروفیسر ہمایوں کبیر کو ڈاکٹر سید محمود کی صدارت میں ایک ’مسلم کنوینشن‘ کا انعقاد دہلی میں کرنا پڑا جسے حسب عادت حکومت نے پسند نہیں کیا۔ بقول سید صباح الدین عبدالرحمان :

’ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ پنڈت نہرو نے مسلم کنونشن کے انعقاد کو نا پسند کیا، مگر انھوں نے ان کی نا پسندیدگی کا خیال کئے بغیر دہلی میں یہ کنونشن طلب کیا، وہ اس کے صدر منتخب ہوئے۔ ملک کی آزادی کے تیرہ سال بعد مسلمانوں کا یہ پہلا بڑا اہم اجتماع تھا، اس میں ان کا خطبہ صدارت بڑا پر زور تھا۔۔۔پورا ملک ان کے خطبے کے بعض ٹکڑوں سے گونج اٹھا جس میں انھوں نے فرمایا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ اس وقت مجرموں ، غداروں اور دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ہندوستان میں مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنا ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔ ۔۔ان الزامات سے پنڈت جواہر لال نہرو پر ملے جلے اثرات مرتب ہوئے۔ ان کو اپنے پرانے رفیق کے اعتراضات سے دکھ پہنچا، اور وہ ڈاکٹر صاحب سے خفا ہوئے، مگر ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ پنڈت جی کو یہ بھی کہنا پڑا کہ اگر چہ مسلمانوں کے دوسرے درجے کے شہری ہونے کی بات کو میں غلط سمجھتا ہوں ، مگر جب سید محمود جیسا شہری کہہ رہا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ اس طرح کاخیال مسلمانوں میں ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے پید ا ہو رہا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *