ہم کیوں خوش ہوں؟۔۔۔ہارون الرشید

چند روز قبل بھارت کا چاند پر بھیجا گیا خلائی مشن ناکام ہوا تو سوشل میڈیا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ چونکہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لہذا اس کی ہر ناکامی پر ہمیں خوشی منانی چاہیے اور دوسرے  گروہ کا کہنا تھا کہ یہ علم کا میدان ہے، کامیابی یا ناکامی ایک طرف، بھارت کی اس کوشش کو سراہنا چاہیے۔ ہمارے ایک محترم استاد نے تو باقاعدہ ایک لمبی چوڑی تحریر لکھی کہ اِن، اِن، اِن، اِن اور اِن وجوہات کی بنیاد پر ہمیں بھارت کی ناکامی پر ضرور خوشی منانی چاہیے۔

بھارت کی  اِس ناکامی پر ہمیں خوشی منانی چاہیے یا نہیں، اِس بحث کو سرِدست ایک طرف رکھتے ہیں۔  میں سائنس کا طالبعلم نہیں ہوں لہذا سائنس کی بہت سی باتیں میرے اوپر سے گزر جاتی ہیں، مجھے سپیس ٹیکنالوجی کا بھی کوئی علم نہیں ہے لیکن خلاء میں بھیجے گئے مشنز کے بارے میں میں نے تھوڑی سی ریسرچ کی تو planetary.org کے مطابق اب تک جتنے بھی مشنز خلاء میں بھیجے گئے ہیں اُن میں سے 65-70 کے درمیان بھیجے گئے مشنز کامیاب ہوئے ہیں اور تقریباً اتنے ہی ناکام بھی ہوئے ہیں اور اتنے ہی مشنز ابھی تحقیق اور تیاری کے مراحل  میں بھی ہیں۔ جن ممالک نے مشنز خلاء میں بھیجے اُن میں امریکا، برطانیہ، چین، جاپان، کوریا، جرمنی، روس، اسرائیل اور بھارت شامل ہیں۔  پاکستان 2022 میں ایک مشن خلاء میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جو ممالک کامیاب یا ناکام مشن خلاء میں بھیج چکے ہیں، اُن ممالک کی فہرست میں ایک بھی اسلامی ملک شامل نہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ جب ہم ایک دوڑ یا مقابلے میں شامل ہی نہیں ہیں تو کسی دوسرے کی ناکامی پر تالیاں بجانا اخلاقاً بنتا بھی ہے یا نہیں؟

ایک دوست نے سوال اٹھایا کہ چاند پر جانے سے دنیا کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ میں نے کہا کہ دنیا کو فائدہ حاصل ہو یا نہیں البتہ چاند پر جانے والے آج بہرحال دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ہمارے آباؤاجداد بھی جب تک علم کی جستجو میں مگن رہے، تحقیق کرتے رہے، طب ہو یا سائنس، ہر میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے رہے تو دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے، جب تک اسباب ہمارے ہاتھ رہے، ہم چھائے رہے۔ آج اسباب اغیار کے ہاتھ میں ہیں، لہذا وہ بلند ہیں اور ہم پست ہیں۔ تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو۔۔۔۔۔۔

ہم جس دین کے ماننے والے ہیں، اُس میں علم کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اللہ رب العزت نے جو پہلی وحی حضور نبی کریم  ﷺ پر بھیجی ، وہ تھی “پڑھیے”۔ اور آج ہم پڑھنے سے اتنا دور ہیں  کہ میں ایک جگہ پڑھ رہا تھا کہ ایک مسلمان سال میں اوسطاً جتنے صفحات کا مطالعہ کرتا ہے، ایک یہودی اُتنے صفحات ایک دن میں پڑھتا ہے۔ مجھے اس تحقیق کے درست یا نادرست ہونے کا تو علم نہیں ہے لیکن آج یہودی جس طرح دنیا کی معیشت پر چھائے ہوئے ہیں ، اُس سے تو یہ تحقیق درست ہی معلوم ہوتی ہے۔ اور میرا دوسرا اندازہ جس سے یہ تحقیق درست معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں جس جامعہ سے میں نے ایل ایل بی کیا، اُس کی مرکزی لائبریری میں جائیں تو وہاں اُلو بولتے ہیں (کم از کم  جب تک میں وہاں پڑھ رہا تھا تب تو ایسا ہی تھا، اب کے حالات مجھے معلوم نہیں) اور برطانیہ کی جس یونیورسٹی سے میں نے ایل ایل ایم کیا ، اُس کی دو  تین تین منزلہ ، کھلی اور کشادہ لائبریریز میں اگر آپ صبح آٹھ بجے کی بجائے ساڑھے آٹھ پہنچتے تھے تو آپ کو بیٹھنے کیلئے کرسی دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ رات کو دو بجے بھی اگر آپ لائبریری جائیں تو اچھی خاصی تعداد میں  آپ کو سٹوڈنٹس کام میں مشغول ملیں گے۔  اور میرا تیسرا اندازہ جو اس تحقیق کو درست ثابت کرتا ہے وہ یہ کہ جس یونیورسٹی میں میں وزیٹنگ پڑھا رہا ہوں، وہاں کی ایک ماسٹرز کی طالبہ نے میری ایک تحریر کا لنک دیکھ کر مجھے کہا کہ سر! اتنی لمبی کہانی کون پڑھے؟ آپ اندازہ لگائیے کہ ماسٹرز کا ایک سٹوڈنٹ اگر نو سو سے ایک ہزار الفاظ کی تحریر پڑھنا بوجھ سمجھتا ہے تو اُس کو تحقیق کرنا پرے تو اُس کی تحقیق کا کیا عالم ہوگا؟

قرآن جسے ہم مقدس کتاب مانتے ہیں،  اُسے ہم نے اتنا مقدس بنایا کہ رنگین مخملی غلافوں میں لپیٹ کر اونچے اونچے طاقچوں میں رکھ کے بھول گئے، قرآن یاد بھی آیا تو بیٹیاں رخصت کرتے وقت یاد آیا کہ قرآن کے سائے میں انہیں رخصت کرنا ہے۔ کبھی اُسے کھولا ہوتا تو معلوم پڑتا کہ قرآن تو ہمیں کائنات کو تسخیر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ تو ہمیں بار بار جھنجھوڑتا ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے، تم مشاہدہ کیوں نہیں کرتے، تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے،   تم آسمانوں کا اٹھانا، زمین کا بچھانا، پہاڑوں کا نصب کرنا  کیوں نہیں دیکھتے؟ انسان کی پیدائش کے عمل سے لے کر خلاؤں میں بکھری کہکشاؤں کا تذکرہ  ہمیں قرآن میں ملے گا لیکن ہم سوال کرتے ہیں کہ چاند پر جانے سے دنیا کو کیا فائدہ ہے؟

حضور نبی کریم ﷺ نے علم کے حصول کو فرض قرار دیا۔ علم کو مومن کی گمشدہ میراث کہا کہ جہاں سے ملے لے لو۔ فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے (اِس روایت کی صحت یہاں زیرِبحث نہیں ہے، مھض علم کی اہمیت کا بیان کرنا مقصود ہے)۔ عمر کی بھی قید نہیں لگائی، فرمایا کہ ماں کی گود سے گور تک علم حاصل کرو۔ ہم نے مگر یہ کیا کہ علم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، دینی علم اور دنیاوی علم اور دنیاوی علم کو دنیا والوں کیلئے چھوڑ دیا۔ میری ناقص عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے علم میں کوئی تفریق بیان کی ہو۔ جب قرآن انسان کی پیدائش کے عمل کو بیان کرتا ہے ، عملاً بیالوجی کو بیان کرتا ہے تو کیا ہم قرآن کے اُس حصے کو اُس حصے سے الگ قرار دیں گے جہاں وہ اللہ کی توحید بیان کرتا ہے؟  اور کیا ہم قرآن کے اُس حصے کو کہ جس میں وہ سورج، چاند، ستاروں اور دن اور رات کے ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے کا تذکرہ کر کے  اس میں عقلمندوں  کیلئے نشانیاں قرار دیتا ہے، اُسے اُس حصے سے الگ کر دیں گے کہ جس میں قرآن نبیِ مہربانﷺ کی نبوت کا اعلان کرتا ہے؟ یا قرآن کے اُس حصے کو جس میں وہ آسمان کے اٹھانے، زمین  کے بچھانے، پہاڑوں کے نصب کرنے کا ذکر کرتا ہے ، اُس حصے سے الگ کریں گے جہاں وہ نماز اور روزے کو بیان کرتا ہے؟ یا تو پھر ہم قرآن کو بھی دینی اور دنیاوی دو حصوں میں تقسیم کر دیں یا علم کی خودساختہ تقسیم کو ختم کر دیں۔

دنیا چاند پر جا رہی ہے، دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کر رہی ہے اور ہم بحث کر رہے ہیں کہ مساجد میں وضو کا پانی جو بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے، اُس پانی کو ذخیرہ کر کے اردگرد آبادی میں لگے درختوں اور پودوں کو دینا ‘شرعاً’ جائز ہے یا نہیں؟  ہمارا اایک مذہبی چینل ہمیں بتاتا ہے کہ کیلا کھانے سے پہلے اُس کا منہ قبلہ رخ کر دیں تو کیلا کھانے کے مزے کے ساتھ ثواب بھی حاصل ہو گا۔ مزید بتاتا ہے کہ گھر میں عورت مردانہ جوتا پہن کر باتھ روم جائے تو گناہ کا احتمال ہے۔ یہیں رُک جاتا تو بھی خیر تھی لیکن وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ روزے کی حالت میں استنجے کیلئے پانی احتیاط سے استعمال کریں کہ کہیں وہ نیچے سے معدے تک ہی نہ پہنچ جائے اور روزہ نہ ٹوٹ جائے۔ نیچے سے معدے تک پانی  کس طرح پہنچ سکتا ہے، ممکن ہے یہ کسی سائنسدان کیلیے  انہوں نے موضوعِ تحقیق تجویز کیا ہو۔ یہ ہمارے فکری زوال کی دو تین مثالیں ہیں ورنہ اِس زوال میں تو ہم گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہیں اور ہمیں اس کی کوئی فکر  بھی نہیں ہے۔

چند دن قبل بیرسٹر ظفراللہ خان کی کتاب ‘حرفِ محرمانہ’ زیرِ مطالعہ تھی۔ بیرسٹر صاحب خود بھی ایک سکالر ہیں اور مسلمانوں کیلئے دردِ دل رکھنے والے آدمی ہیں۔ انہوں نے کتاب میں مسلمانوں کے شاندار ماضی  کا نقشہ کھینچا، بدحال حال کا تجزیہ کیا اور مستقبل میں مسلمانوں کے طرزِعمل میں تبدیلی کیلئے تجاویز دیں۔ اُن تجاویز کو ایک ایک سطر میں بھی بیان کیا جائے تو یہ تحریر انتہائی طویل ہو جائے گی، لیکن مسلمانوں کو بحیثیت قوم اُن تجاویز کو اختیار کرنا ہو گا ورنہ ہمارا مستقبل خدانخواستہ ہمارے حال سے بھی بدتر ہوگا۔

اور اب یہ سوال کہ بھارت کے خلائی مشن کی ناکامی پر ہمیں خوش ہونا چاہیے یا نہیں تو عرض ہے کہ بھارت کے دو جہاز ہم نے چند ماہ قبل مار گرائے تھے، بلکہ گھیر کے اپنی سرحد میں لا کر مارے تھے، اُن کا پائلٹ بھی زندہ گرفتار کیا تھا، جنگ کا میدان تھا، ہمارا اور اُن کا مقابلہ تھا، ہم نے اُن کو پچھاڑ دیا، خوشی کا موقع تھا، پوری قوم نے خوشی منائی۔ وہ خلاء میں گئے، ناکام ہوئے، اِس میدان میں ہمارا اور اُن کا فی الحال مقابلہ ہی نہیں تو خوشی منانے کا کیا جواز؟ خوشی تو ہم تب مناتے جب ہم بھی خلاء میں مشن بھیجتے، ہمارا مشن کامیاب ہو جاتا اور اُن کا ناکام، تب ہم خوشی مناتے اچھے بھی لگتے۔

اور آخر میں اُن سب حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ جو بھارت کے خلائی مشن کی ناکامی پر خوشی منانا درست سمجھتے ہیں کہ بھارت 2008 میں کامیاب مشن خلاء میں بھیج چکا ہے۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ہم کیوں خوش ہوں؟۔۔۔ہارون الرشید

  1. مثبت سوچ ہمیشہ پنپتی ہے۔ ہمسایہ اپنے سائے کی طرح ہوتا ہے جس سے چھٹکارہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ احادیث میں جس کثرت کے ساتھ ہمسائے کے حقوق بیان ہیں کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم گمان کرنے لگے تھے کہ شاید جائیداد میں بھی ہمسائے کا حصہ رکھا جائے گا۔ ہمارے اس ہمسائے کے ہاتھ میں تو ہماری اور ہمارے نظرئیے کی رگ جاں بھی ہے۔ علامہ اقبال کی تو خیر مجبوری تھی کہ خواب پر اپنا اختیار ہی نہیں ہوتا قائد اعظم کو تو سوچ سمجھ کر ہمسائے کا انتخاب کرنا چاہیئے تھا پر کیا کریں وہ ایک وکیل تھے اور قانون کے طالب علم قیل وقال کی بھول بھلیوں میں گم ہوجایا کرتے ہیں، باوجودیکہ قانون دانی محض common sense ہے باقاعدہ کوئی سائنس نہیں ہے۔ قاعدے والے بابا کسی اچھی جگہ کا انتخاب کرکے پاکستان بنا لیتے۔ مگر یہ بھی طرفہ تماشا ہوگیا کہ گھر بناتے ہوئے میں نے اچھے پڑوس کے حصول کے لئے اتنا سوچا کہ ارد گرد نیک اور باکردار لوگ ہوں لہذا قرطبہ سٹی میں جا گھر بنایا، اب یہاں پڑوس نہیں مل رہا کہ 20 سال میں 20 گھر بنے ہیں۔
    مثبت سوچ کے ساتھ سارا سین دیکھیں تو خوشی محسوس ہوتی ہے کہ غریب غرباء ممالک میں سے ایک نے چاند کی خوشبو تو سونگھ لی چاہے مٹی نہیں چاٹی اور وہ بھی برصغیر جنوبی ایشیاء میں۔ ویسے شکر ہے باجوہ صاحب کو پتہ نہیں چلا ورنہ اپنی ڈاکوٹرین Bajwa Doctrine میں ایک عدد غوری پر سوار ہو کر چاند پر تھوک آتے کہ لو چاٹ لو۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *