جن کے بچے ۔۔۔ شاہ عالم

میکا، پیکا، پیہر، یہ سب ایک ہی سکے کے رخ ہیں۔ گویا مایا تیرے کتنے نام، پرسا پرسو پرس رام۔ برصغیر کی عورتوں کے نزدیک میکا بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ حتی کہ بہت سی عورتیں تو بیاہ کر پیا دیس آجاتی ہیں مگر اپنی محبتیں اور خلوص میکے ہی چھوڑ آتی ہیں۔ شوہر اچھا کمائے تو بھائیوں کو نوازنے لگتی ہیں۔ اچھا نہ کمائے تو بھائیوں سے مانگنے لگتی ہیں۔ شوہر بے چارہ ہر دو حال میں خجل خوار ہوتا ہے۔ ہم چھوٹے ہوا کرتے تھے تو کراچی کے اسکولوں میں جمعے کو چھٹی ہوا کرتی تھی۔ چھٹی کے بعد اسکول پہنچتے تو کلاس فیلو بڑے شوق سے بیان کرتے کہ “ہم کل نانی کے گھر گئے تھے۔ بہت مزہ آیا۔ ماموں ہمارے لیے آئسکریم بھی لائے”۔ ہم اور چیکو بڑے حیران ہوتے کہ یہ کن کے بچے ہیں جو ہر ہفتے نانی کے گھر پہنچے ہوتے ہیں۔ یقینا جن کے بچے ہوں گے۔ ہم ان کی باتیں سن سن کر احساس کمتری میں مبتلاء ہوتے رہتے۔ ہمارا تو یہ حال تھا کہ جون جولائی کی چھٹی میں ایک بار جڑانوالہ جاتے تھے اور اس میں بھی زیادہ تر دادی کے گھر رہتے۔ نانی کے گھر بس ایک آدھ دن سے زیادہ نہیں رکتے تھے۔

ہمارا بچپن انہی بچکانہ نشتروں سے سینہ، بلکہ سینی چھلنی کرواتے گزرگیا۔ کئی بار والدہ سے بھی لڑے کہ ہم کم از کم ایک ماہ تو ننھیال میں رہیں۔ مگر انہوں نے کبھی بات نہیں مانی۔ بڑے ہوئے تو یہ راز کھلا کہ نانا فقط دو بڑے بیٹوں کی شادی کرتے ہی فوت ہوچکے تھے۔ گھر کے مختار کار ماموں تھے اور مامیاں ہماری والدہ کو میکے میں رکنے ہی نہیں دیتی تھیں۔ وہ کیا ہے کہ اس وقت ہم غریب ہوا کرتے تھے۔ اتنے غریب کہ سپنوں کے محل میں وعدوں کے کھلونے سے کھیلا کرتے تھے۔ مامیوں کو لگتا تھا کہ اگر یہ زیادہ دن یہاں رہے تو سال بھر کے دانے اور پیسے جمع کرکے شہر لے جائیں گے۔ لہذا جلد از جلد انہیں بھگادو۔

والدہ نے دیکھا کہ ان کے میکے میں رہنے سے شوہر کی خودداری متاثر ہورہی ہے تو انہوں نے اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو اپنی پرورش میں لیا اور میکے پر پکی پکی لعنت بھیج دی۔ نانی کو بھی کہا کہ آپ ہمارے گھر آجانا۔ میں ان کے گھر نہیں آؤں گی۔ والد بھی ان کی اس بات سے بہت متاثر ہوئے اور تسلی دیتے ہوئے کہا “ایک دن آئے گا جب یہ خط پر خط لکھا کریں گے کہ بہن! ہم سے بھی مل جاؤ”۔ وہ دور اس وقت آیا جب بڑے بھائی نے کاروبار سنبھالا۔ منجھلے ماموں بھائی کے لیے اپنی بیٹی کا رشتہ ہی لے آئے۔ بے شک پیسہ صرف پیسے کو ہی نہیں کھینچتا بلکہ رشتے اور محبتیں بھی کھینچتا ہے۔

بہرکیف میکے کی محبت ہر عورت کی گھٹی میں ودیعت رکھی ہوتی ہے بلکہ گاڑی گئی ہوتی ہے۔ اور برصغیر میں تو میکے کو پوجنے تک جاتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ چیکو کی نظر میں مشترکہ خاندانی نظام ہے اور آغا کی نظر میں جہیز ہے۔ دیورانی جٹھانیوں کو بہن نہیں سمجھا جاتا اور نندوں کو بچھو سے بڑھ کر زہریلا سمجھا جاتا ہے۔ اور دل سے یہ فخر نہیں جاتا کہ مجھے میرے بھائیوں نے اتنے سامان اور سونے کے ساتھ وداع کیا تھا۔ میں کوئی ننگ تھوڑی ہوں جو کسی کے طعنے سنوں۔ حالانکہ گھر بسانا ہو تو ان باتوں کی پروا کون کرتا ہے۔

جبکہ ہماری نظر میں گھر بسانے کا یہ تصور ہی غلط ہے۔ ہمیں تو عربوں کا پرانا ماحول اور شہروں کا موجودہ ماحول بہت پسند آتا ہے۔ جس میں شوہر خود کھاتا کماتا ہے اور علیحدہ گھر لے کر صرف اور صرف اپنی بیوی کی ذمہ داری اور نخرے اٹھاتا ہے۔ باقی “چیزیں” اٹھانا تو زندگی کا حصہ ہے۔ اس طرح بیوی شوہر کے متعلقات سے محفوظ ہوجاتی ہے اور شوہر بیوی کے پیہریوں کی ذلالت سے بچ جاتا ہے۔ لڑیں بھی تو لڑائی سننے دیکھنے والی صرف دیواریں ہوں اور صلح کروانے والے تکیے اور بستر ہوں۔ آگ لگانے والوں کو جب تک جھگڑے کی خبر پہنچے۔ لڑائی بوسیدہ ہوچکی ہو۔ ہمارے والد کا بھی شاید یہی ماننا ہے تبھی ہماری شادی اتنی دور کی کہ پنجاب میں ہوتے ہوئے بھی کار میں ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں اور پھر سسرال آتا ہے۔ کراچی میں رہتے ہوئے تو صرف فون ہی کیا جاسکتا ہے۔ یہاں سے تو ہمارا میکا اور اہلیہ کا میکا یکساں فاصلے پر محسوس ہوتے ہیں۔

البتہ ایک مسئلہ ضرور تنگ کرے گا۔ ہمارے بچے بھی سوچا کریں گے کہ یہ کن کے بچے ہیں جو ہر ہفتے نانی کے گھر پہنچے ہوتے ہیں۔ یقینا جن کے بچے ہوں گے۔ خیر یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ اپنے سسرال والوں سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ سال بعد گاؤں جائیں گے تو پورا مہینہ انہیں ننھیال میں ہی چھوڑدیں گے۔ جب یہ بڑے ہوں گے تو تفصیل سے سمجھادیں گے کہ پترو تے پتریو! ہر رشتے کو فقط اتنی ہی اہمیت دو جتنا اس کا حق ہے۔ اپنا کماؤ اور صرف اللہ کے سامنے حساب سے ڈرو۔ فیر موجاں ای موجاں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *