شاہ عالم کی تحاریر

جن کے بچے ۔۔۔ شاہ عالم

میکا، پیکا، پیہر، یہ سب ایک ہی سکے کے رخ ہیں۔ گویا مایا تیرے کتنے نام، پرسا پرسو پرس رام۔ برصغیر کی عورتوں کے نزدیک میکا بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ حتی کہ بہت سی عورتیں تو بیاہ کر←  مزید پڑھیے

افسانہ ۔۔۔ شاہ عالم

بطورِ نمونہ و عبرت ابتداءِ افسانہ ملاحظہ ہو: آج بھی ساون کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ تاحدِ نگاہ برفپوش پہاڑوں پر صحرائی پھول چاندنی رات میں چمکتی دھوپ کی روپہلی کرنوں کے انعکاس سے فسوں خیز نظارہ دے رہے تھے۔ "رعمیسہ مختار آفریدی" کی نگاہیں کیکٹس کی سرسبز بیلوں سے چھچھلتی ہوئی اماوس کی رات میں دور آسمان پر دمکتے ستاروں پر جاٹھہریں۔←  مزید پڑھیے

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں ۔۔۔ شاہ عالم

پھر پتہ نہیں کب ہم بڑے ہوگئے اور ان سب چیزوں سے دور ہوگئے۔ شاید جس دن ہم نے اسکول چھوڑا اسی دن بچپن ختم ہوگیا۔ شاید جس دن خود محنت کرکے پیسے کمائے اسی دن لڑکپن ختم ہوگیا۔ بہتیرے دوست تھے جو بعد میں بھی پٹی کھیلتے رہے مگر ہم پٹی سے کیا، ان دوستوں سے بھی دور ہوگئے۔ اب حیرت ہوتی ہے کہ ہم کتنے بے فکرے ہوتے تھے۔←  مزید پڑھیے

دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا ۔۔۔ شاہ عالم

کتا تو آپ سب کو معلوم ہی ہوگا کہ کون ہوتا ہے؟۔ تاہم کتوں کوخود بھی اپنے کتے ہونے کا علم ہوتا ہے یا نہیں؟۔ اس بابت کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ انسانوں میں بھی تو بہت سے ایسے نابغے موجود ہیں جنہیں اپنے انسان ہونے کا نہیں معلوم اور وہ جانوروں کی سی حرکات کرتے ہیں۔ البتہ "کتکا" لکڑی کے اس مستطیل ٹکڑے کو کہا جاتا ہے جس سے دھوبی کپڑوں پر تشدد کرتے ہیں تاکہ کپڑوں کا اندرونی میل باہر آسکے۔ پولیس والے بھی اسی مقصد کے لیے کتکا استعمال کرتے ہیں مگر وہ لکڑی کا نہیں ہوتا چنانچہ اسے چھتر کہا جاتا ہے۔←  مزید پڑھیے