تحقیق یا تحریف۔۔محمد فیصل

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صاحب کو شوق چرایا کہ اپنے ہاتھ پر شیر کی تصویر بنوائیں۔اب جناب دل کے ہاتھوں ایسے مجبور ہوئے کہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور سیدھے جا پہنچے تصویر بنانے والے کے پاس اور کر بیٹھے معصوم سی فرمائش کہ میرے ہاتھ پر شیر کی تصویر نقش کردو۔اس عمل میں سوئی کو گرم کرکے انسانی کھال پر رکھا جاتا ہے اورمختلف نقش ونگار جسم پرگرم سوئی کے ذریعہ  کھدوائے  جاتے ہیں۔ پھر یوں ہوا کہ شوقین صاحب کی فرمائش کی تکمیل کے لئے جب مصور نے اپنی سوئی آگ پر گرم کرکے ان کے ہاتھ پر رکھی تو صاحب تکلیف برداشت نہ کرسکے اوربے ساختہ چیخ اٹھے کہ ارے کیا بنا رہے ہو؟ مصور نے دست بستہ عرض کیا کہ حضور شیر کی دمُ بنا رہا ہوں۔ شوقین صاحب کراہتے ہوئے بولے کہ ارے بغیر دُم کے بھی تو شیر بن سکتا ہے لہٰذا دُم تو رہنے ہی د وورنہ کہیں میرا دَم ہی نہ نکل جائے۔ مصور نے سوچا کہ چلو محنت کم ہوئی اور دوبارہ سوئی آگ پر گرم کرکے کھال پر رکھی۔ شوقین صاحب کی سٹّی پھر گم ہوگئی اور دوبارہ کراہتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی اب کیا بناتا ہے؟ مصور بولا کہ اب شیر کا کان بناتا ہوں۔ شوقین صاحب نے اپنے شوق اور تکلیف کا بیلنس نکالا تو مسئلہ کا حل یہ نکلا کہ بغیر کان کا بوچا شیر بھی تو دنیا میں پایا جاسکتا ہے۔

مصور حیرت سے دنگ رہ گیا مگر خیر طوعاََ و کرہاََ اس نے پھر سوئی گرم کی اورشوقین صاحب کی کھال پر رکھی۔وہ ایک بار پھر درد کے مارے ناچ اٹھے اور مصور کو ڈانٹ کر کہا کہ اب شیر کے کس عضو کی طبع آزمائی ہمارے پھول سے نازک بدن پر کررہے ہو؟ لیکن اب مصور کے ہاتھوں سے بھی صبر کا دامن چھوٹ گیا، اس نے بڑی بے رخی سے جواب دیا کہ اب شیر کا پیٹ بنا رہا ہوں۔شوقین صاحب نے اپنی عقلِ خام کے گھوڑوں کو سرپٹ دوڑایا اور حکم صادر فرمایا کہ بغیر پیٹ کا ہی شیر بنا دیا جائے کیونکہ اس شیر نے کون سا شکار کرکے اپنا پیٹ بھرنا ہے۔یہ سن کر مصور غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا ، اس نے اپنی سوئی دور پھینکی اور شوقین صاحب سے کہا کہ بغیر دُم ، بغیر سر اور بغیر پیٹ کاشیر تو خدا نے بھی پیدا نہیں کیا،تو اے نازپروردہ شخص؛ جب تو گرم سوئی کی تکلیف کا تحمل نہیں کرسکتا تو پھر شیر کی تصویر بنانے کا خیال بھی اپنے دل سے نکال دے۔

آج مملکتِ خدادادپاکستان میں کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے کہ مغربی تہذیب و تمدن کے دلدادہ اور استشراقی طرزِ فکر سے مرعوب افراد آئے دن یہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ علماء کرام کو اجتہاد سے کام لے کر دین میں نرمی پیدا کرنی چاہیے۔ پھر بزعمِ خود اس فرمائش کی انجام دہی کے لئے نام نہاد تحقیق کے بھروسے پر دین و شریعت میں اس قدر تحریف کی جاتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔قرآن و حدیث کے صریح احکام میں کتر بیونت کر کے اکیسویں صدی کا اپ ٹو ڈیٹ اسلام متعارف کروانے کے ضمن میں آئے دن وہ موشگافیاں سننے کو ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔کبھی کوئی اسکالر کھڑے ہوتے ہیں اور پردے کو عرب کا معاشرتی رنگ قرار دے کر موجودہ دور میں ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔کبھی کسی ڈاکٹر صاحب کے پیٹ میں قومی ہمدردی کا درد اٹھتا ہے اور وہ فرمائش کرتے ہیں کہ سود کے احکام میں عہدِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔کسی کو اپنی سفلی و شہوانی جذبات کی تسکین کا شوق ہوتا ہے تو نامحرم مرد و عورت کے مصافحہ کو جائز قرار دے دیتا ہے اورشادی شدہ زانی کے لئے رجم کی سزا کا انکار کر بیٹھتا ہے۔کسی کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے تو اس کے تحفظ کی خاطر جہاد کے فریضہ کا منکر ہوجاتا ہے ۔ کسی بد روح کو بھوک ستاتی ہے تو اپنی غذا کے لئے موسیقی کو حلال قرار دے دیتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کو محض تاریخی حقائق کہہ کر ان کی اعتقادی اور عملی حیثیت سے گریز کیا جاتا ہے اور آخر میں شیر کی تصویر بنوانے کے شوقین صاحب کی طرح علماء کرام سے فرمائش کی جاتی ہے کہ خدارآپ گناہ ثواب کی بحث چھوڑ کر اجتہاد کے نام پر ہمارے لئے آسانیوں کا کوئی راستہ تجویز کریں۔

یہ بات عقل و شعور سے خارج ہے کہ ایک طرف مولوی حضرات کو فرسودہ روایات وا قدار کا امین قرار دے کر مطعون کیا جاتا ہے اور دوسری جانب اسی غریب مولوی کی گردن پر پاؤں رکھ کر اپنی اغراضِ فاسدہ کی تکمیل کا خواب دیکھا جاتا ہے۔بغض و عناد کا یہ عالم ہے کہ اہانتِ علماء کرام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نعوذباﷲ حرام کو حلال قرار دینے کا منصب آپ کو ہی زیب دیتا ہے ؂
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیئے

خدارا اپنی اس روش کو ترک کیجیے اور ﷲ اور رسول کے احکامات سے کھیل کو بند کیجیے۔ﷲ پاک نے آج سے چودہ سو برس پہلے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اپنے دین کی تکمیل کردی ہے اور قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند فرمالیا ہے۔ہمارا جینا مرنا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا سب شریعت و سنت کے تابع ہونا چاہیے اور ہماری ہر حرکت و سکون اسی رنگ میں رنگی ہونی چاہیے جو اﷲ رب العزت کی منشا کے مطابق ہے۔اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ احکاماتِ شریعت کا منبع اور ماخذبراہِ راست خدا اور رسول کی ذاتِ گرامی ہے۔ اسی سرچشمۂ ہدایت سے فلاح و کامیابی کی کرنیں جنم لیتی ہیں۔انہیں کی اطاعت میں ہماری دنیا و آخرت میں سرخروئی کا راز پوشیدہ ہے ۔کسی عالم یا عامی کو حق نہیں کہ وہ شریعت کے احکامات کی من مانی تشریح بیان کرے اور حرام کو حلال یا حلال کو حرام ٹھہرائے۔

مندرجہ بالا حقیقت کا ثبوت قرآنِ کریم کی درجِ ذیل آیات کے ترجمہ سے بخوبی واضح ہوتا ہے :
1۔ آپ فرما دیجیے کہ تم اطاعت کیا کروا ﷲ کی اور اس کے رسول کی ۔ پھر اگر وہ لوگ اعتراض کریں تو اﷲ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتے۔(3-32)
2۔ اور خوشی سے کہنا مانو ﷲ تعالیٰ کا اور رسول کا، امید ہے کہ تم رحم کئے جاؤ۔(3-132)
3۔ اور تم ﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔(5-92)
4۔اے ایمان والو؛ اﷲ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس سے روگردانی مت کرنا اور تم سن تو لیتے ہی ہو۔(8-20)
5۔ اے ایمان والو؛ا ﷲ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد مت کرو۔(47-33)
6۔ﷲ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور اگر تم اعراض کرو گے تو ہمارے رسول کے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔(64-12)
7۔اور جو شخصا ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔(33-77)
8۔ جو لوگ ﷲ اور رسول کا کہنا نہیں مانتے تو یقیناََ ان لوگوں کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔(72-23)
9۔ اور اگر کوئی شخصا ﷲ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سوا ﷲ تعالیٰ سخت سزا دیتے ہیں۔(8-13)
10۔ سو تم اﷲ سے ڈرو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اﷲ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر تم ایمان والے ہو۔(8-1)
اﷲ رب العزت ہمیں اپنے دین کی صحیح فہم عطا فرمائے اور اس پر خلوصِ دل کے ساتھ عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *