لمبے قد کا بونا سماج۔۔۔۔ عفت اللہ عزیز

 اس معاشرے میں زندہ رہنے کےلیے بے حسی کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک ادکارہ کی شادی کی خبر ، ڈیڑھ سو سے زائد جاں بحق افراد کی خبر سے زیادہ کوریج لے، ایک ایسا معاشرہ جہاں سیاسی گدھ اسماء اور زینب جیسی بیٹیوں کی  کفن فروشی کریں اور ان کی مذمت صوبوں کے ساتھ اگر مگر ہو جائے، ایک ایسا معاشرہ جہاں دوسرے کی بہن کی عزت سے کھلواڑ مردانگی اور اپنی بہن کی محبت غیرت کے پیمانوں پر تُلے، تو ایسے معاشرے میں زندہ رہنے کےلیے بے حس ہی ہونا پڑتا۔

ایسے میں آپ ، میں یا چند اور لوگ کسی بات پر رنجیدہ ہیں تو ہمارا اپنی ہی قصور ہے ۔۔۔۔ اور جہاں بات بہ بات رنجیدگی کی ہزار وجوہات ہوں تو اس میں بعض اوقات اداسی اتنی گہری ہو جاتی کہ سارا جوش و جذبہ اور اصلاح کی ہر تدبیر ٹوٹ جاتی ہے ۔ اس بدبودار اور بے حس سماج میں طاقت ، اختیار ، عزت اور حقوق کے اپنے پیمانے ہیں۔۔ ان کھوکھلے پیمانوں پر ایستادہ سماج میں خواجہ سرا تو انسان کی تعریف پر بھی پورا نہی اترتے کجا ان کے حقوق کا خیال ہو۔۔۔

یہ ہے عارف والا کا ایک خواجہ سرا اور اس کی کمر پر پڑے نشان۔۔۔ بخدا یہ نشان دیکھتا رہا اور محسوس ہوتا رہا کہ یہ ہماری ریاست کے ماتھے پر کلنک کا نشان ہو یا عدلیہ کے چہرے پر سیاہی کے نشان۔۔۔ میں اس خواجہ سرا کے چہرے کو دیکھتا رہا اور خود اپنی نظروں میں گرتا رہا ۔۔

اس کی آنکھیں سوال کناں تھیں کہ جینز کی کمی و بیشی میرے اختیار میں تھی کیا ؟؟؟

عارف والا کے نوجوانوں! اٹھیے کہ رب کے باغ کی یہ بلبلیں کب تک ظلم سہتی رہیں گی۔۔ اٹھیے اور ان کےلیے آواز بلند کیجئے کہ جن کو ہم نے انصاف کے ترازو کا نگبہان بنایا انہیں سیاسی تقریروں ، سکولوں کے دورے اور ڈیم بنانے کی فیک پریکٹس سے فرصت نہیں۔۔ اٹھیے اور ان کےلئے آواز بلند کیجئے کہ اس سے پہلے کہ پہاڑوں کے فرشتوں رب کعبہ سے التجا کریں کہ اس بستی کے لوگ دھرتی پر بوجھ ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *