مولانا گھمن میرے محسن،۔۔۔عامر ہزاروی

مولانا الیاس گھمن ان دونوں الزامات کی زد میں ہیں کچھ لوگ مولانا کو ملزم ہی نہیں مجرم بھی سمجھتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ کچھ ویڈیوز آڈیوز اور تصاویر دیکھ کے میں بھی انہیں مجرم سمجھتا ہوں۔  باوجود تمام ثبوتوں کے میں نے انکے خلاف نہیں لکھنا ، انکے خلاف نہ لکھنے کی وجہ انکا ایک احسان ہے جسے میں بھلانا نہیں چاہتا،مولانا گھمن کبھی میری عقیدت کا مرکز تھے انکی تقاریر سن کے مجھ پہ مناظر بننے کا شوق سوار ہوا تھا اول اول کی زندگی میں دو شوق تھے ایک شوق یہ تھا کہ اہل تشیع کو یہاں سے نکالوں اور ایران بھیج دوں ، دوسرا اشاعت التوحید والوں کو دیوبندیت سے نکال کے اہل حدیثوں کے ہاں بھیج دوں ،اپنی ان خواہشات کی تکمیل کے لیے میں نے سپاہ صحابہ اور مولانا گھمن کی اتحاد پارٹی کا دامن پکڑ لیا جوشیلے انداز میں تقریر کرنا میرا محبوب مشغلہ تھا میں خود کو سپاہ صحابہ کے اسٹیج پہ ایک خطیب کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا لیکن اچانک ایک کام ایسا ہوا جس نے مجھے ریورس گئیر لگا دیا۔

ہوا یوں کہ علامہ علی شیرحیدری صاحب حضرو مولانا عبدالسلام صاحب کے مدرسہ میں آئے انکا بیان سنا اور ملاقات کا شوق تڑپایا۔ حیدری صاحب جب جامعہ کے دفتر سے نکلے تو طلباءنے لائن بنا لی دونوں اطراف طالب علم کھڑے ہوگئے، حیدری صاحب گارڈوں کے جھرمٹ میں نکلے کسی نے ہاتھ نہیں ملایا میں بھی لائن میں کھڑا تھا جب حیدری صاحب میرے پاس سے گزرنے لگے تو میں نے اونچی آواز سے کہا حیدری صاحب السلام علیکم، حیدری صاحب نے غصے سے مجھے دیکھا جواب نہیں دیا اور آگے چل پڑے۔ کمسنی تھی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن محبت نے ایسا کروا دیا اور حیدری صاحب نے بھی جواب تک نہ دیا بس اس دن سے سپاہ صحابہ کو الوداع کہہ دیا۔ یہ واقعہ اس طرح دماغ میں دھرنا دے کے بیٹھا کہ آج تک نہ نکل سکا، عمران خان کیا ضدی ہے ہم بڑے ضدی نکلے۔

ایک امید ٹوٹی تو دوسری مناظر بننے والی باقی تھی ،مولانا گھمن سے ابھی کچھ امید تھی لیکن ثالثہ کے سال مولانا گھمن کو بھی الوداع کہناپڑا۔ ہوا یوں کہ ثالثہ کے سال مولانا گھمن اٹک ایک ادارے میں آئے وہاں انہوں نے بڑی دھواں دار قسم کی تقریر کی اور ساتھ ہی چیلنج دیا کہ اگر اشاعت والوں میں ہمت ہے تو میرے ساتھ مناظرہ کریں اور جو مناظرہ رکھوائے گا میں اسے پچاس ہزار انعام دوں گا۔ افتاد طبع اور لالچ کی وجہ سے یہاں بھی کود پڑا، کچھ لوگوں کو درمیان میں ڈالا اور مناظرہ طے کروانے لگ گیا۔ تاریخ طے ہوئی، اشاعت والوں کا مناظر آیا اور مولانا گھمن بھی ،عین وقت پہ مولانا گھمن نے کچھ شرائط رکھ دیں؛ ایسی شرائط جو پوری کرنا اس وقت ممکن ہی نہ تھا۔ لاکھ کوشش کی بات ہوجائے لیکن مولانا نہ مانے۔ میں نے اٹک کے میزبان سے کہا کہ اگر یوں ہی کرنا تھا تو چیلنج کیوں دیا ؟بہرحال میری بات نہ سنی گئی شور شرابہ ہوا اور معاملہ ختم ہوگیا۔ اس دن کے بعد دوسری حسرت بھی ادھوری رہ گئی،مولانا گھمن اگر مناظرہ کر دیتے یاحیدری صاحب پیار بھری نگاہوں سے دیکھ لیتے تو آج میں بھی گن گا رہا ہوتا، آج میں بھی غلطیوں کا دفاع کر رہا ہوتا، آج میں بھی عقیدت کے بت سجا کے انکے آگے سجدہ ریز ہوتا، میں کنویں کی مینڈک ہوتا۔

مولانا گھمن کا یہ احسان ہے جسے میں اٹھا نہیں سکتا۔ انہوں نے اپنے کردار سے مجھے نئی سوچ کے راستے پہ ڈالا بھلے میرے ساتھ اس وقت زیادتی اور سبکی ہوئی، مجھے پچاس ہزار روپیہ بھی نہیں ملا، لیکن یہ زیادتی اور حادثہ مجھے ایک نئی دنیا میں لے آیا جس پہ میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ اب بھلا مجھ سے کوئی یہ توقع رکھے کہ میں محسنوں کے خلاف لکھوں گا تو یہ اسکی بھول ہے۔

مکالمہ کا مصنف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مولانا گھمن میرے محسن،۔۔۔عامر ہزاروی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *