تنظیم سازی۔۔ محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

SHOPPING
SHOPPING

پاکستان کے ایک سابقہ ایم این اے مسٹر طلال چوہدری صاحب کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ انہیں بری طرح تشدد کر کے مارا پیٹا گیا۔ ہاتھ پاؤں کی ہڈیاں توڑی گئیں ہیں۔
محترم طلال چوہدری صاحب عرصہ دراز سے ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ پہلے وہ عدالت عظمیٰ کو دھمکیاں دینے کی وجہ سے انکے کے غیض و غضب کا شکار ہوئے اور انہیں الیکشن سے باہر کر دیا گیا اور اب ایم محترمہ ایم این اے صاحبہ کے قریبی عزیزوں نے ” کْھنے ” سینک دیئے ہیں۔ مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ کہیں ہڈیاں توڑنے کے ساتھ ساتھ انکی اپنی ” تنظیم سازی ” نہ کر دی گئی ہو کیونکہ بقول محترمہ ریحام خان صاحبہ ( سابقہ خاتون اول) کے کہ عمران خان صاحب ” اس والی” تنظیم سازی میں مہارت رکھتے ہیں اور جناب طلال چوہدری صاحب جناب مراد سعید صاحب سے کہیں زیادہ خوبصورت بھی ھیں۔ میرے خیال میں تو اس ٹائپ کی * تنظیم سازی * کا بھی میڈیکل ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

SHOPPING

محترم جناب طلال چوہدری صاحب بہت دلیر آدمی ہیں۔ جلسوں میں بڑی تقریریں کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کو دھمکیاں دینے میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور ماشا ء اللہ سے “زبان درازی ” کی نعمت سے بھی مالا مال ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھی بہن بیٹیوں کی عزتیں اچھالنا, شریف لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا انکا محبوب مشغلہ ھے۔ ٹاک شوز میں غیر پالیمانی الفاظ کا استعمال انکی وجہ شہرت ہے۔ سمجھ دار لوگ انکو کسی ٹی وی ٹاک شوز میں دیکھ کر چینل بدل لیتے ہیں۔
لیکن یہ انکا ذاتی فعل ہے ہم انکے اس روپ پہ تبصرہ نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں انکے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ ایک خوبرو ایم این اے صاحبہ جس کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ اپنے غنڈوں سے شدید تشدد کرواتے ہوئے اقدام قتل کی مرتکب ہوئیں۔ جبکہ وہ رات کے تین بجے محترمہ کے گھر مسلم لیگ کی ” تنظیم سازی” کیلئے گئے تھے۔۔۔ یہ انکی ن لیگ کیلئے لازوال محبت ہے لیکن محترمہ نے تنظیم سازی نہیں کرنے دی بلکہ الٹا ” یتیم سازی ” کرنے کی کوشش کی ۔یہ زیادتی ہے ۔ان پہ ظلم کیا گیا ہے۔
سچ پوچھیں۔۔۔ تو مجھے تو اس سارے معاملے میں موجودہ حکومت کی کارستانی نظر آتی ہے۔
کہاں ہے مدینہ کی ریاست۔۔۔ ؟
اتنا بڑا ظلم ہوا اور حکومت خاموش رہی۔ پولیس نے آنکھیں بند کئے رکھیں۔ کوئیک رسپانس فورس بھی نہ پہنچ سکی۔1122 بھی نہیں آئی۔ 15 والے بھی خاموش رہے۔ تھانہ مدینہ ٹاؤن والے بھی خاموش رہے۔ڈولفن والے بھی نہیں آئے۔
کوئی بھی نہیں آیا اور بیچارے مظلوم طلال چوہدری صاحب کو اپنے دوستوں کو کال کرنا پڑی جو انہیں آکر موقع واردات سے اٹھا کر لے گئے۔
حکومت نے اب یہاں پہ ایک اور ظلم کر دیا کہ انہیں فیصل آباد کے کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہونے دیا کیونکہ پولیس کاروائی صرف اس صورت میں ہو سکتی تھی کہ اگر طلال چوہدری کا میڈیکل ایگزامینیشن ہوتا اور تب جا کے ایف آئی آر ہوتی,لیکن ایسا نہیں کرنے دیا گیا ۔
حب فیصل آباد میں دال نہ گلی تو طلال چوہدری صاحب کو ان کے دوست لاہور کے نیشنل ہسپتال میں ایڈمٹ کروا آئے ۔۔۔وہاں بھی بیچارے کے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ بازو ٹوٹے, ٹانگیں ٹوٹیں, بدن زخموں سے چور, دل زخمی و مجبور ,تنظیم سازی نہ ہونے کا درد ۔
یقین کیجئے میں دل سے چوہدری صاحب کا درد محسوس کر رہا ہوں کیونکہ جب رات کو ” تنظیم سازی ” کا بھوت سوار ہو۔ بندہ” ٹن ” ہو کے ” موڈ آف ایکشن ” کی لسٹ بنا کے نکلے اور تاک میں بیٹھے دشمن سوفٹ ویئر چینج کر دیں تو وہ درد وہی محسوس کر سکتا ہے جو کبھی اس درد سے گزرا ہو۔
لاہور میں بھی پنجاب حکومت نے انہیں علاج نہیں کروانے دیا ۔ نیشنل ہسپتال کی انتظامیہ کو ڈرا دھمکا کے طلال چوہدری کو غائب کرا دیا گیا۔۔۔
نہ رھے گا بانس۔۔۔۔ نہ بجے گی بانسری۔۔۔۔
اتنا ظلم۔۔۔ یہ مدینہ کی ریاست ہے کہ کوئی طاغوتی ریاست
ایک معصوم معروف سیاستدان پہ شدید تشدد ہوا۔ وہ مرتے مرتے بچا ہے۔۔۔ اقدام قتل کا کیس ہے۔ لیکن سب خاموش ہیں۔
ریاست کا اتنا خوف ہے کہ کوئی بھی اس بیچارے کیلئے آواز نہیں اٹھا رہا۔
مریم نواز صاحبہ خاموش ہیں جبکہ چند دن پہلے انہوں نے دلیری کا اظہار کرتے ہوئے نیب جیسے طاقتور ادارے کو ناکوں چنے چبوا دیئے تھے۔
شہباز شریف صاحب نے چوں تک نہیں کی
عظمی بی بی صاحبہ جو حکومت کے ہر اقدام پہ گلا پھاڑ پھاڑ کے چلاتی ہیں۔ آج بھی صبح فیاض چوہان کو گالیاں دے رہی تھیں۔ انکو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ وہ بھی حکومت کے ڈر سے خاموش ہیں۔
رانا ثنا ا للہ صاحب جیسے شیرجوان بھی اس بار حکومت کے ڈر سے خاموش ہیں
ترجمان ن لیگ محترمہ مریم اورنگ زیب صاحبہ جو حکومت کو گالیاں دینے میں وجہ شہرت رکھتی ہیں۔ اور عوامی درد اتنا ہوتا ہے کہ دوران تنقید انکے منہ سے جھاگ بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ بھی خاموش ہیں۔
خواجہ آصف صاحب المعروف ( ٹریکٹر ٹرالی) چوھدری تنویر , مشاہد اللہ صاحب جیسے بڑے نامی گرامی لیڈر دم سادھے اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے ہیں جبکہ میں تو یہ امید کر رہا تھا کہ اس سنگین واقعہ کے بعد اس طرح بیانات آئیں گے۔
فرض کریں طلال چوہدری کی جگہ کوئی ( ا۔ ب۔ پ ) جیسی سیاسی جماعت کا لیڈر ہوتا
ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ( ا ۔ب۔ پ) عیاش لوگوں کا ٹولہ ہے
“فضل الرحمن”
یہ جماعت ہماری مشرقی اقدار پر حملہ آور ہے
“ساجد میر”
ابھی تک عمران خان کی جانب سے واقعے کی مذمت نا آنا تشویش ناک ہے
“سراج الحق ”
اس سیاسی جماعت میں خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے
“رانا ثناءاللہ”
آج ثابت ہوگیا کہ میرے الزامات ٹھیک تھے
“عائشہ گلالئی”
( ا۔ ب۔ پ) فحاشی کو فروغ دے رہی ہے
“انصار عباسی”
عمران خان کو معاملے کی مکمل تحقیقات کروا کر مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے
“بلاول بھٹو”
حیرت ہے ابھی تک * محترمہ * کو پارٹی سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن کیوں جاری نہیں کیا جاسکا ؟
“رؤف کلاسرہ”
سردار عثمان بزدار صاحب مکمل ناکام ہو گئے ہیں انہیں فوری استعفیٰ دینا چاہیئے۔
” مریم اورنگ زیب ”
اس واقعے سے ( ا۔ ب۔ پ) کی مستقبل کی سیاست کو بڑا دھچکہ لگے گا
“حامد میر”
ناظرین ہم آپ کو لیے چلتے ہیں فلاں فلاں اسپتال کے کمرہ نمبر پانچ سو چار کے باہر جہاں اس وقت ( ا۔ ب۔ پ) کے مقبول لیڈر فلاں فلاں داخل ہیں ، ہوش آنے کی صورت میں ہم انکا موقف جاننے کی کوشش کریں گے ، ان سے پوچھیں گے ( ا۔ ب۔ پ) کے اور کون کون سے لیڈران کا خاتون رہنما کے گھر آنا جانا تھا ، دیکھتے رہیے گا
“جیو نیوز”
لیکن کوئی بھی نہیں بولا۔۔۔۔۔
نوازشریف صاحب جو اب شدید” نظریاتی ” ہو گئے ہیں۔ وہ بھی چپ ہیں جب کہ چند دن پہلے تو وہ فوج کو دھمکیاں رہے تھے اور سانحہ موٹر وے پہ انکا اتنا دل دکھا تھا کہ انہوں نے ایک معمولی سے * سی سی پی او * کو متنازعہ بیان دینے پہ انکے لائیو لتے لیئے تھے۔۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں جناب محسن رانجھا صاحب کھڑے ہو کے سی سی پی او پہ اچھل کود کر رھے تھے۔ وہ بھی بلکل خاموش ہیں۔
ن لیگ تو بڑی نڈر اور بیباک جماعت تھی ایشوز کو قومی ایشو بنا کے عوام کو اعتماد میں لیتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ن لیگ کے دور میں محترمہ عائشہ گلالئی صاحبہ کو انکے اوپر کی گئی زیادتیوں کو قوم کے سامنے رکھنے کیلئے باقائدہ نوٹیفکیشن ایشو کر کے پارلیمنٹ سیشن سے لائیو تقریر نشر کرنے کی اجازت دی گئی ۔لیکن لگتا ہے ان تین دنوں میں ن لیگ کی ہوا نکل گئی ہے۔
ن لیگ ڈر گئی ہے قبائلی سردار عثمان بزدار سے
پوری ن لیگ خاموش ہے بلکہ اگر کوئی بیچارہ قسمت کا مارہ پی ٹی آئی والا طلال چوہدری کے حق میں بول پڑے تو سارے ن لیگ والے اس کے * گل * پڑ جاتے ہیں۔۔۔
مجھے انتہائی دکھ ہے کہ موجودہ حکومت ریاستی ظلمات میں پی ایچ ڈی کرنے والی ہے لیکن میں یہ کہ دوں کہ طلال چوہدری صاحب کی * ٹوٹی ہڈیوں * اور
* ٹوٹے دل *کا کا درد رائیگاں نہیں جائے گا۔
اب بھی وقت ہے کہ طلال چوہدری صاحب کو تلاش کر کے انکا میڈیکل کرایا جائے اور انکو مارنے والے غنڈوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے فوری گرفتار کیا جائے۔
مانا کہ مارنے والے غنڈے بہت طاقتور ہیں۔ کیس پہ اثر انداز ہوں گے۔ گواہوں کو ڈرائیں دھمکائیں گے لیکن ریاست بہت طاقتور ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی مظلوم کو بچانے کیلئے خود بھی مدعی بن سکتی ہے۔
تو اس وقت ریاست کو چاہیئے کہ وہ خود مدعی بنے ۔۔۔اور طلال چوہدری صاحب کو فوری انصاف فراہم کرے۔ تبھی ہم مانیں گے کہ یہاں مدینہ کی ریاست پہ کام ہو رہا ہے۔۔۔
میرا فوری مطالبہ ھے کہ پنجاب حکومت فوری ایکشن لیتے ہوئے طلال چوہدری صاحب کے مجرموں کو گرفتار کرے۔ طلال چوہدری کو پوری سیکیورٹی فراہم کرے تاکہ اگر کبھی وہ رات کو کاک ٹیل کی وجہ سے * ٹْن * ہو جائیں تو پولیس کے جوان انہیں سمجھا بجھا کے سلا دیا کریں کہ حضور تنظیم سازی کل کر لیں گے۔
اتنے بڑے ظلم پہ پنجاب بار کونسل بھی خاموش ہے۔ جبکہ وہ بھی مدعی بن سکتی ہے۔۔
میں خود ایک سیاسی پارٹی بنا کے * تنظیم سازی * کرنا چاہ رہا تھا لیکن اب ڈر گیا ہوں۔ اس عمر میں تو ہڈیاں بھی نہیں جڑتی۔
پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پہ مظلوم طلال چوہدری کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرے۔
میرا سردار عثمان بزدار صاحب سے بھی مطالبہ ہے کہ وہ قبائلی سردار بنیں۔ چیف منسٹر پنجاب نہ بنیں۔ کیونکہ قبائلی سردار انصاف دینے میں تاخیر نہیں کرتے۔ چاہے مجرم انکا سگا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ ارتغرل غازی بھی قبائلی سردار تھا۔ اس نے صرف انصاف قائم کیا اور انصاف کے ہی بل بوتے پہ سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھ کے 652 سال پوری دنیا پہ حکومت کی۔
میں بحیثیت وکیل سپریم کورٹ تک انکا کیس لڑوں گا اور فیس بھی نہیں لوں گا۔
ریاست مدعی بنے اور مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار پہ پہنچائے۔
میری اپیل کو تمام لوگ شیئر کریں تاکہ ہم سب کی آواز حکومت وقت کے ایوانوں میں گونجے۔
طلال کو انصاف دو
طلال کو انصاف دو ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *