ولیمسن کا مستقبل

7 نومبر 2010 کے دن کرکٹ کے افق پر ایک روشن ستارہ طلوع ہوا تھا، نام تھا کین ولیمسن۔

شکل سے انتہائی معصوم نظر آنے والے نوجوان نے انڈیا کی سپن باولنگ کے لئے انتہائی سازگار پچ پر اپنی پہلی ہی ٹیسٹ اننگز میں 131 رنزبنا ڈالے تھے۔ ولیمسن نیوزی لینڈ کی طرف سے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے والے کم عمر ترین کھلاڑی ہیں۔ انڈیا اس ٹیسٹ میں فیورٹ تھا بلکہ کسی بھی نان ایشیائی ٹیم کے خلاف اپنے ہوم گراونڈ پر انڈیا ہمیشہ ہی فیورٹ ہوتا ہے۔ یہ اننگز 299 گیندوں کی طویل مشقت پر مشتمل تھی کسی بھی غیر ایشیائی کے لئے اپنے کیرئیر کے آغاز میں اس سے مشکل مرحلہ نہیں ہوسکتا، مگر ولیمسن نے چیزوں کو بہت سادہ بنا دیا۔ انڈیا کے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 487 رنز بنانے کے بعد یوں لگتا تھا اب یہ میچ انڈیا آسانی سے جیت لے گا، خاص کر جب ولیمسن بیٹنگ کے لئے آئے تب نیوزی لینڈ کا سکور 137/4 تھا صورت حال مکمل طور پر انڈیا کے کنٹرول میں تھی۔ مگر جیسے رائیڈر اور ولیمسن کی 194 رنز کی پارٹنرشپ نےنیوزی لینڈ کی مشکلات ختم کردیں۔

نیوزی لینڈ اس سے پہلے بنگلہ دیش جیسی ٹیم سے 4-0 سے ون ڈے سیریز ہار کر آیا تھا۔ یہ پوری کرکٹنگ ورلڈ کے لئے ایک بہت بڑی خبر تھی۔ انڈیا میں بھی نیوزی لیننڈ کو جیتے ہوئے 22 سال ہو چکے تھے۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے 1988 میں آخری بار انڈیا میں ٹیسٹ میچ جیتا تھا اور زمبابوے اور بنگلہ دیش کے علاوہ اپنے گھر سے باہر آخری ٹیسٹ جیتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 8 سال ہوچکے تھے، جب 2002 میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کو ہرایا تھا۔ پہلے میچ میں اچھی بیٹنگ بہت سے کھلاڑی کر چکے ہیں مگر اس کے بعد ان کا نام بھی نہیں ملتا یا وہ بات دوبارہ نظر نہیں آتی۔ لیکن ولیمسن نے پھر اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اس وقت ورلڈ کرکٹ کے پانچ مکمل ترین بلے بازوں میں سے ایک کہے جا سکتے ہیں۔ صرف موجودہ ہی نہیں سابقہ کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ان کا ایک ایسا موازنہ ہے جو انہیں بہت ممتاز بنا دیتا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی 139 سالہ تاریخ میں صرف 13 بیٹسمین ایسے گزرے ہیں جنہوں نے سارے ٹیسٹ ممالک کے خلاف سنچری سکور کرنے کا کارنامہ انجام دے رکھا ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ اعزاز صرف یونس خان کے حصے میں آیا ہے۔ یونس خان نے یہ کارنامہ 22 اکتوبر 2014 کو آسٹریلیا کے خلاف انجام دیا تھا، یہ ان کا 92 واں ٹیسٹ میچ تھا، وقت کے لحاظ سے انہوں نے 14 سال اور 239 دن میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ یاد رہے کہ یونس خان پاکستان کی طرف سے سب سے کامیاب ٹیسٹ بیٹسمین ہیں (انضمام ساوتھ افریقہ کے خلاف اگر 96 پر آوٹ نا ہوتے تو وہ بھی اس کلب میں شامل ہوسکتے تھے)۔ ولیمسن یہ کارنامہ انجام دینے سب سے آخری بلے باز ہیں انہوں نے اسی سال اپنے 50 ویں ٹیسٹ میچ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ ولیمسن کی یہ صر ف91ویں اننگز تھی اور ٹائم کے لحاظ سے انہیں اس مقام تک پہنچنے میں صرف 5 سال 276 دن لگے۔ عمر کے لحاظ سے بھی وہ واضح فرق سے سب سے چھوٹے ہیں، انہوں نے صرف 25 سال اور 364 دن کی عمر میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان سے پہلے کم میچز میں یہ کارنامہ انجام دینے کا اعزاز سنگاکارا کے پاس تھا، سنگا کارا نے یہ اعزاز 69 میچز میں 114 اننگز کھیل کر حاصل کیا تھا، تب ان کی عمر 30سال اور 38 دن تھی۔ سٹیوواہ نے 161 ویں میچ میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا، تب ان کی عمر 38 سال اور 47 دن تھی، وہ اس حوالے سے سب سے آخری نمبر پر ہیں۔ انہیں تب ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہوئے 17 سال اور 205 دن ہوئے تھے۔ سچن ٹنڈولکر جیسے سب سے بڑے بلے باز کو بھی یہ اعزاز حاصل کرنے میں 119 میچز 192 اننگز اور 15 سال 27 دن کا عرصہ لگا تھا، اب اس سے حساب لگا لیں کہ ولیمسن کا کارنامہ کتنا بڑا ہے اور ہوم ایڈوانٹیج کے اس دور میں وہ کیسے دبنگ بلے باز ثابت ہوئے ہیں۔

آج سے دس سال بعد ولیمسن کس مقام پر کھڑا ہوگا، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ولیمسن کی خاص بات سپن اور فاسٹ کے خلاف ایک جیسی کارکردگی ہے، وہ کہیں بھی کمزور نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ ہو ون ڈے یا پھر ٹی 20 وہ ہر فارمیٹ کے میرٹ پر پورا اترتے ہیں. وہ بغیر گیند کو ہوا میں اچھالے تیزی سے رنز بنانے والے چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں. سب سے بڑی بات کہ حالات جیسے بھی ہوں پریشر بالکل نہیں لیتے, ان کے کھیل میں حواس باختگی یا جلد بازی آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گی.

سارے ٹیسٹ ممالک کے خلاف سنچری بنانے والے بیٹسمینوں کے نام ترتیب زمانی کے لحاظ سے درج ذیل ہیں 1 گیری کرسٹن 2سٹیوواہ 3سچن ٹنڈولکر 4راہول ڈریوڈ 5مارون اتاپتو 6برائن لارا 7یڈم گلکرسٹ 8رکی پونٹنگ 9سنگاکارا 10ماہیلا جے وردھنا 11جیک کیلس 12یونس خان اور 13کین ولیمسن

محسن حدید
محسن حدید
میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ محسن کسی بھی اخباری ریپورٹر سے زیادہ بہترین سپورٹس تجزیہ نگار ہیں۔ آپ روزنامہ دنیا میں کالم نگار ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *