تجزیہ زبان و لسان۔۔۔۔ایم عثمان /قسط 4

سابق تجزیوں میں ساخت کی حقیقت واضح ہو چکی کہ ساخت الہامی ہو یا انسانی ، زبان سے اس کی وابستگی دائمی ہے۔
ایسے نہیں ہے نہ ہو سکتا ہے کہ ساخت ہو اور زبان نہ ہو ۔ اور نہ کوئی ایسی زبان ہے جو بلا ساخت مفہوم ہو سکے۔ جب کسی زبان کو سمجھا جائے گا تو اس کی کوئی ساخت مقرر کرنا ضروری ہے۔ جیسے اشاروں کی زبان وغیرہ۔
جب بھی کوئی ساخت و لفظ وضح کی جاتی ہے یا منزل کا جزء قرار پاتی ہے تو اس کے قابل فہم ہونے کے لیے لفظ کے مفہوم کا معلوم ہونا اتنا ہی ضروری جتنا کہ ساخت کا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ ساخت صرف ایک نقش بلا مفہوم ہے یا مفہوم بلا صورت ہے۔ جس کا ناقابل فہم ہونا بدیہی ہے۔
اگر مفہوم کی کئی ساختیں بن سکتی ہیں تو ہر ساخت دوسری کے مترادف ہوگی۔
اس طرح الہامی ساخت اپنے کئی مترادف رکھتی ہے کیونکہ ایک مفہوم کو ادا کرنے کے لیے کئی ساختوں کا ہونا اس زبان کی وسعت کا مقدمہ ہے۔ کیونکہ زندہ زبان کسی بھی دور میں ناقص نہیں ہوتی بلکہ اپنی وسعت کے باعث ہر دور میں اپنے مفہوم کو بیان کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
ساخت کی جگہ دوسری ساخت کا استعمال کیا الہامی ساخت کا بدل و تغیر ہے۔ ؟
جب اس سوال پر توجہ کی جاتی ہے تو سرسری نگاہ یہ نتیجہ پیش کرتی ہے کہ یہ بدل ہے ایک مفہوم کا دوسرا قالب ہے یا دوسری ساخت ہے۔ جبکہ اس پر مزید غور اس غلط فہمی کو دور کر دیتا ہے کہ ساخت ساخت کا بدل ہے۔ کیونکہ بدل کا اصل تعلق کلام سے پیدا ہونے والا مفہوم ہے جو بدل جانے سے ساختوں پر مشتمل کلام بے معانی ہو جاتا ہے۔
الہامی ساخت صرف ساخت نہیں بلکہ ساختوں سے مرکب ایک خطابی کلام ہے۔ اور یہ کلام ساختوں کی اس ترتیب و ربط سے مزین ہے جو اسلوب میں نا نثر ہے اور نہ ہی شعر ہے۔ یہ ایک ایسا اسلوب جدید ہے جو نہ پہلے کبھی تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔۔
اگر ساخت کو بدل دینے سے الہامی ساخت بدل جاتی ہے تو دعوی وحی کب کا ختم ہو چکا ہوتا بلکہ دعوی کرنے سے قبل ہی ناقص ہوتا کیونکہ ایک مفہوم کی کئی ساختیں تو بوقت الہام موجود تھیں۔ اور موجود ہونے کے ساتھ مستعمل بھی تھی۔ اور یہ دعوی فاتوا بسورہ کرتے ہی ٹوٹ جاتا اور جواب میں کہا جاتا یہ کیسا دعوی ہے جو دعوی اور چیلنج کے لائق نہیں ہے۔۔
اور چیلنج میں فاتوا بحرف یا بلفظ نہیں کہا گیا۔ بلکہ الہامی ساختوں کے ایک مرکب کا مطالبہ ہے جو کلام ہو اور ایسا کلام ہو کہ جو نہ نثر ہو اور نہ ہی شعر ہو۔ زبان ہونے کے لحاظ سے زبان ہو اور معنوی نظام میں تصور مفہوم سے ساخت کی ایسی مناسبت ہو کہ اس کی جگہ کوئی اور ربط و ترتیب گنجائش نہ پا سکے۔
قرآن مجید میں سرگزشت انبیاء علیھم السلام ایسی ساختوں اور ترتیب سے ذکر ہوئی ہے جو دیگر صحائف میں اسی مفہوم اور دیگر ساختوں سے ذکر ہو چکی تھی۔ ایک مفہوم کا دو طرح کی ساختوں سے ذکر ہونا بدل قرآن نہیں کہلایا۔ یا قرآن کااسی مفہوم کو ذکر کرنے کی وجہ سے نقل نہیں کہا گیا۔۔ کہ قرآن نے کوئی نئی بات ذکر نہیں بلکہ سابق صحائف میں موجود مفہوم کو ذکر کر دیا۔۔ کیونکہ مفہوم کا اشتراک بدل نہیں کہلاتا۔اور اس کا جدا ساختوں سے بیان کلام جدید کہلایا نہ کہ بدل و نقل۔
قرآن مجید نے جس مفہوم کی ساخت ذکر کی وہ پیڑن بالکل الگ تھا جو نہ سابق صحائف میں موجود تھا اور نہ اس طرح کا اختراع کیا جا سکتا ہے۔ جو کلام باوجود مفہومی اشتراک کے نہ بنایا جا سکے اس کو انسانی ساخت کیسے بدل سکتی ہے۔
قرآن مجید کے پیڑن نے جو مفہوم دیا اس کو سمجھنا اس پر عمل کرنا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اس کے مفہوم کو ذیگر زبانوں میں منتقل کرنا قرآن بنانا نہیں ہے بلکہ فہم کی تعلیم ہے۔ کیونکہ جس پیڑن کے وضع پر انسان قدرت ہی نہیں رکھتا وہ کیسے بنا سکتا ہے۔ جاری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *